تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 10

  1. یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ﴿10﴾

    1. يَقُوْلُکہے گا
    2. الْاِنْسَانُانسان
    3. يَوْمَئِذٍآج کے دن
    4. اَيْنَ الْمَفَرُّکہاں بھاگنے کی جگہ
Translation · Al-Qurtubi
اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں
Tafseer · Al-Qurtubi
یقول الانسان یومئذ این المفر۔ انسان کہے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے ابوجہل کہے گا، بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ شاعر نے کہا، این المفر ولکباش تنتطح، وای کبش حاد عنھا حین یفتضح۔ بھاگنے کی جگہ کہاں ہوگی جب کہ مینڈھے سینگ مار رہے ہوں گے اور کون سا مینڈھا اس سے کنارہ کش ہوگا جب وہ ذلیل ہوگیا۔ ماوردی نے کہا : یہ دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے، ایک احتمال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتے ہوئے کہے گا دوسرا احتمال یہ ہے کہ وہ جہنم سے بچنے کے لیے یہ قول کرے گا۔ انسان کے بارے میں بھی دو قول ہیں (1) خاص طور پر کافر یہ قول کرے گا جب قیامت کے روز اس کی پیشی کا مرحلہ ہوگا، کیونکہ مومن کو تو اپنے رب کی بشارت پر اعتماد ہوگا (2) قیامت کے برپا ہونے پر مومن اور کافر دونوں یہ قول کریں گے کیونکہ انہوں نے قیامت کی ہولناکی کو دیکھ لیا ہوگا۔ عام قرات المفر ہے، ابوعبیدہ اور ابوحاتم نے اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ یہ مصدر ہے حضرت ابن عباس مجاہد، حضرت حسن بصری اور قتادہ نے فاء کے کسرہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، کسائی نے کہا یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح مدت اور مدت، مصح اور مصح، زہری نے میم کے کسرہ اور فاء کے فتحہ کے ساتھ قرات کی ہے مہدوی نے کہا یہ میم اور فاء دونوں کے فتحہ کے ساتھ ہے یہ مصدر ہے اور فراء کے معنی میں ہے جس نے میم کو کسرہ اور فاء کو فتحہ دیا ہے تو اس سے مراد وہ انسان ہے جو اچھی دوڑتا ہے معنی یہ ہوگا کہ وہ عمدہ دوڑلگانے والاانسان کہاں ہے اس کے باوجود نجات نہیں پاسکے گا میں کہتا ہوں اس معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : مکر مفر مقبل مدبر معا۔ وہ اچھی طرح پلٹ کر حملہ کرنے والا، عمدہ طریقہ سے بھاگ جانے والا، سامنے آنے والا، پیچھے سے آنے والا۔