تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 3

  1. اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ﴿3﴾

    1. اَيَحْسَبُکیا گمان کرتا ہے
    2. الْاِنْسَانُانسان
    3. اَلَّنْ نَّجْمَعَکہ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے
    4. عِظَامَهٗاس کی ہڈیاں
Translation · Al-Qurtubi
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ۔ کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے اور اسے نئی صورت میں پیدا کردیں گے جب کہ وہ ہڈیاں بوسیدہ ہوچکی تھیں۔ زجاج نے کہا، یوم قیامت اور نفس لوامہ کی قسم اٹھائی جواب قسم یہ ہے، لیجمعن العظام للبعث۔ وہ دوبارہ اٹھانے کے لیے ہڈیوں کو ضرور جمع کرے گا۔ ضحاک نے کہا، جواب قسم محذوف ہے یعنی تمہیں ضرور دوبارہ اٹھایاجائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، ایحسب الانسان، یہاں انسان سے مراد کافر ہے جو بعثت کا انکار کرتا ہے یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی اس نے نبی کریم سے عرض کی مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے وہ کب واقع ہوگی اور اس کا کیا معاملہ ہوگا نبی کریم نے اسے اس بارے میں بتایاتوعدی نے کہا، اگر میں اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تو اسے محمد ﷺ نہ میں تیری تصدیق کروں گا اور نہ اس پر ایمان لاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان ہڈیوں کو جمع کرے ؟ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ یوں دعا کرتے تھے، اے اللہ میرے برے پڑوسی عدی بن ربیعہ اور اخنس بن شریق کے لیے کافی ہوجا۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ آیت اللہ کے دشمن ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی جب اس نے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کیا، ہڈیوں کا ذکر کیا مراد اس کی پوری ذات ہے کیونکہ ہڈیاں انسان کا ڈھانچہ ہیں۔