Baseerat-e-Quran - Al-Baqara : 216
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب تو دیکھے گا ثَمَّ رَاَيْتَ : وہاں تو دیکھے گا نَعِيْمًا : بڑی نعمت وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور بڑی سلطنت
اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے
واذا رایت ثم رایت نعیما وملکا کبیرا۔ ثم ظرف مکان ہے، یعنی جنت میں، ثم میں عامل رایت کا معنی ہے یعنی جب تو اپنی آنکھ سے وہاں دیکھے گا، فراء نے کہا، کلام میں مامضمر ہے تقدیر کلام یوں ہے، اذا رایت ماثم جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لقد تقطع بینکم (الانعام 94) تقدیر کلام یوں ہے مابینکم۔ زجاج نے کہا، ما، ثم کے ساتھ ملایا گیا ہے جس طرح فراء نے ذکر کیا ہے، یہ جائز نہیں کہ اسم موصول کو ساقط کیا جائے اور صلہ ترک کردیا جائے لیکن رایت معنی میں ثم کی طرف متعدی ہے معنی ہے جب تو اپنی نظر سے وہاں دیکھے گا اور ثم سے مراد جنت ہے۔ فراء نے یہ بھی ذکر کیا، نعیم سے مراد تمام وہ چیزیں ہیں جن سے لذت حاصل کی جاتی ہے۔ ملک کبیر سے مراد کہ فرشتے ان سے اجازت طلب کرتے ہیں یہ قول سدی اور دوسرے علماء نے کیا ہے، کلبی نے کہا، اس کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قاصد لباس، کھانا، مشروب اور تحائف اللہ کے ولی کے پاس لائے گا جب کہ اللہ کا ولی اپنے مکان میں ہوگا، وہ قاصد اس ولی سے اجازت طلب کرے گا یہی ملک عظیم ہے یہی تعبیر مقاتل بن سلیمان نے بھی کی ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ملک کبیر یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے ستر حاجب ہوں گے ایک ھاجب دوسرے کے لیے حاجب ہوگا، اللہ کا ولی اس اثناء میں کہ وہ لذت و سرور میں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والافرشتہ اس سے اجازت طلب کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اسے مکتوب، ہدیہ اور ایسے تحفہ کے ساتھ بھیجا ہوگا اس ولی نے ایسا پہلے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ وہ فرشتہ باہر والے حاجب کو کہے گا، اللہ کے ولی سے اجازت طلب کرو کیونکہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجا ہوا ہے اس کے پاس مکتوب اور تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ولی کے ہاں حاضر ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے، وہ اجازت طلب کرے گا یہاں تک کہ یہ معاملہ اس حاجب تک جاپہنچے گا جو اللہ کے ولی کے بالکل قریب ہوگا وہ دربان اللہ کے ولی سے کہے گا، یہ رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے وہ تیری بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے، اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے مکتوب اور تحفہ ہے کیا اسے اجازت ہے ؟ اللہ کا ولی کہے گا ہاں تم اسے اجازت دو وہ دربان قریبی دربان کو کہے گا ہاں اسے اجازت دو توہ ودوسرے دربان کو یہی بات کہے گا یہاں تکہ کہ بات آخری دربان تک جاپہنچے گی وہ اسے کہا گا، ہاں اے فرتے تجھے اجازت ہے وہ داخل ہوگا وہ اللہ کے ولی کو سلام کرے گا اور کہے گا : السلام (اللہ تعالیٰ کا نام) تجھے سلام فرماتا ہے۔ یہ تحفہ ہے یہ اللہ رب العالمین کی جانب سے مکتوب ہے اس مکتوب پر لکھا ہوگا اس حی کی جانب سے جسے موت نہیں آئے گی اس زندہ کی جانب جسے اب موت نہیں آئے گی اللہ کا ولی اس کو لے گا تو اس میں یہ تحریر ہوگا، میرے بندے میرے ولی، میری رحمت اور میری برکات پر سلام، اے میرے والی، کیا اب تجھ میں اپنے رب کی زیارت کا شوق نہیں ؟ شوق اسے بےتاب کردے گا وہ براق پر سوار ہوگا، براق علا الغیوب کی زیارت کی شوق میں ہوا کے دوش پر اڑے گا اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا کرے گا جسے کسی آنکھ نے دیکھا نہ ہوگا، کسی کان نے سنا نہ ہوگا اور کسی دل میں کھٹکا نہ ہوگا۔ سفیان ثوری نے کہا : ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ملک کبیر سے مراد یہ ہے کہ فرشتے انہیں سلام کریں گے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، والملائکۃ یدخلون علیھم من کل باب۔ الرعد) فرشتے ہر دروازے سے ان پر داخل ہوں گے، سلم علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار۔ الرعد) تم نے جو صبر کیا ہے اس کی وجہ سے تم پر سلامتی ہو یہ جنت کتنا ہی اچھا ٹھکانہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ملک کبیر سے مراد ہے کہ تاج ان کے سروں پر ہوں گے جس طرح بادشاہ کے سر پر تاج ہوتا ہے۔ ترمذی نے کہا، اس سے مراد ملک تکوین ہے جب وہ کسی چیز کا ارادہ کریں گے تو وہ کہیں گے کن، تو ہوجا، ابوبکروراق نے کہا، ایسی بادشاہت جو ختم نہ ہو۔ حدیث طیبہ میں ہے، ملک کبیر، سے مراد یہ ہے کہ جنتیوں میں سے ادنی جنتی اپنی مملکت کو ایک ہزار سال کی مسافت تک دیکھے گا وہ اس کے سب سے دور والے کونے کو اس طرح دیکھے گا جس طرح اس کے قریب والے کونے کو دیکھا گا، فرمایا جنتیوں میں سے سب سے بلند مرتبہ والا وہ ہوگا جو دن میں دو دفعہ اپنے رب کا دیدار کرے گا۔
Top