تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 1

  1. وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ﴿1﴾

    1. وَالْمُرْسَلٰتِہواؤں کی قسم
    2. عُرْفًادل کو خوش کرنیوالی
Translation · Al-Qurtubi
ہواؤں کی قسم جو نرم نرم چلتی ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
والمرسلات عرفا۔۔۔ تا۔۔۔۔ ویل یومئذللمکذبین۔ والمرسلات عرفا۔ جمہور مفسرین کے نزدیک مرسلات سے مراد ہوائیں ہیں مسروق نے حضرت عبداللہ سے روایت نقل کی ہے فرمایا، اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جنہیں معروف کے ساتھ بھیجا جاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کا حکم، اس کی نہی، وحی اور خبر دے کر بھیجا جاتا ہے، یہی حضرت ابوہریرہ مقاتل، ابوصالح، اور کلبی کا قول ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد انبیاء ہیں جنہیں لا الہ الا اللہ کا پیغام دے کر بھیجا گیا ہے یا یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، ابوصالح نے کہا اس سے مراد رسل ہیں جنہیں معجزات کے ساتھ بھیجا جاتا ہے جن معجزات کے ذریعے ان کی پہچان ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود سے مروی ہے اس سے مراد ہوائیں ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وارسلنا الریاح۔ الحجر 22) اور ہم نے ہوائیں بھیجیں۔ ارشاد فرمایا، وھو الذی یرسل الریاح، الاعراف 57) اور وہی ہوائیں بھیجتا ہے۔ عرفا، کا معنی ہے ان میں سے بعض بعض کے پیچھے آتی ہیں جس طرح عرف الفرس، گھوڑے کی گردن کے بال، عرب کہتے ہیں، الناس الی فلان عرف واحد۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ اس آدمی کی طرف متوجہ ہوں اور کثیر ہوجائیں۔ عرفا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی ایسی ہوائیں جنہیں پے درپے بھیجا گیا یہ بھی جائز ہے کہ مفعول مطلق ہو یہ بھی جائز ہے کہ اس کو نصب حرف جر کے مضمر ہونے کی وجہ سے ہو گویا فرمایا، والمرسلات بالعرف اس سے مراد فرشتے ہیں یا اس سے مراد فرشتے اور رسول ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ احتمال بھی موجود ہے کہ مرسلات سے مراد بادل ہیں کیونکہ اس میں نعمت اور عذاب ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی پہچان کرانے والے ہوتے ہیں جوان کی طرف بھیجا گیا اور جن کی طرف بھیجا گیا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد تنبیہات اور مواعط ہیں اس تاویل پر عرفا کا معنی پے درپے ہے جس طرح اونٹ کی گردن کے بال ہوتے ہیں یہ حضرت ابن مسعود کا نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ عقول میں جانے پہچانے ہیں۔