تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 2
فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ﴿2﴾
- فَالْعٰصِفٰتِپھر تند وتیز چلنے والی ہواؤں کی قسم
- عَصْفًاشدت سے
Translation · Al-Qurtubi
پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہوجاتی ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
فالعصفت عصفا۔ بغیر کسی اختلاف کے اس سے مراد ہوائیں ہیں، یہ مہدوی کا قول ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے اس سے مراد تیز ہوائیں ہیں جو گھاس پھونس لاتی ہیں عصف سے مراد کھیتی کے پتے اور ٹوٹی پھوٹی چیزیں ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا، فیرسل علیکم قاصفا۔ الاسراء 69) ایک قول یہ کیا گیا ہے عاصفات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو ہوا پر مقرر ہیں جو انہیں تیزی سے چلاتے ہیں کہا جاتا ہے، عصف بالشی یعنی اسے ہلاک کردیا، ناقہ عصوف جو اپنے سوار کو ہلاک کردے وہ یوں گزرجاتی ہے گویا تیزی میں ہوا ہے عصفت الحرب بالقوم، جنگ نے قوم کو ہلاک کردیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ آیات ہیں جو تباہ وبرباد کردیتی ہیں جس طرح زلزلہ اور زمین میں دھنس جانا۔