تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 6

  1. عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ﴿6﴾

    1. عُذْرًاحجت تمام کرنے کو
    2. اَوْیا
    3. نُذْرًاڈرانے کو
Translation · Al-Qurtubi
تاکہ عذر (رفع) کردیا جائے یا ڈر سنا دیا جائے
Tafseer · Al-Qurtubi
عذرا اونذرا۔ وہ وحی کو لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے حجت تمام کرنے کے لیے اور مخلوقات کو اس کے عذاب سے خبردار کرنے کے لیے یہ فراء نے کہا، ابوصالح سے مروی ہے اس سے مراد رسول اللہ جو حجت تمام کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں سعید نے قتادہ سے یہ قرات نقل کی ہے، عذرا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوقات کے لیے حجت تمام کرنے کے لیے اور مومنوں کو خبردار کرنے کے لیے کیونکہ مومن ہی اس سے نفع حاصل کرتے ہیں اور اسے اپناتے ہیں۔ ضحاک نے حضرت بان عباس سے روایت نقل کی ہے عذرا سے مراد اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو جو توبہ القاء کرتا ہے اور نذرا سے مراد ہے وہ اپنے دشمنوں کو ڈراتا ہے ابوعمرہ، حمزہ، کسائی اور حفص نے اونذرا ذال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، ساتوں قراء نے عذرا کو ذال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، صرف جعفی اور اعشی نے ابوبکر سے وہ عاصم سے ذال کے ضمہ کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں یہی چیز حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ ابراہیم تیمی اور قتادہ نے اسے عذرا اور نذرا واؤ عاطفہ کے ساتھ نقل کیا ہے اور درمیان میں او کا ذکر نہیں کیا۔ یہ دونوں اعزار اور انذار سے اسم فاعل کے معنی میں ہو کر منصوب ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اسم مفعول کے معنی میں ہو کر منصوب ہیں ایک قول کیا گیا ہے یہ ذکر اسے بدل ہے یعنی وہ عذرا اور نذر کو القا کرنے والے ہیں۔ ابوعلی نے کہا، عاذر اور ناذر کی جمع کے طور پر عذرا اور نذرا پڑھنا بھی درست ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ھذا نذیرمن النذر الاولی۔ النجم۔ ) یہ ڈرانے والا (رسول عربی) بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ہے پھر یہ الملقیات سے حال ہوں گے یعنی وہ ذکر القاء کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ حجت تمام کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں یاذکرا کے مفعول ہیں یعنی وہ ذکر کو القاء کرتے ہیں تاکہ وہ عذرا اور انذرا یاد دلائیں، مبرد نے کہا، یہ جمع کا صیغہ ہے اس کی واحد عذیر اور نذیر ہے۔