Ruh-ul-Quran - An-Nahl : 2
یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ
يُنَزِّلُ : وہ نازل کرتا ہے الْمَلٰٓئِكَةَ : فرشتے بِالرُّوْحِ : وحی کے ساتھ مِنْ : سے اَمْرِهٖ : اپنے حکم عَلٰي : پر مَنْ يَّشَآءُ : جسے چاہتا ہے مِنْ : سے عِبَادِهٖٓ : اپنے بندے اَنْ : کہ اَنْذِرُوْٓا : تم ڈراؤ اَنَّهٗ : کہ وہ لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّآ : سوائے اَنَا : میرے فَاتَّقُوْنِ : پس مجھ سے ڈرو
وہ اتارتا ہے فرشتوں کو روح دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، اس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔
یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْ ٓا اَنَّـہٗ لَآاِلٰـہَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ ۔ (سورۃ النحل : 2) (وہ اتارتا ہے فرشتوں کو روح دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، اس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔ ) روح کا مفہوم اس آیت کریمہ میں روح کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔ اور اسے روح کا نام شاید اس لیے دیا گیا ہے کہ جس طرح روح سے ہر جاندار زندہ اور طاقتور ہے اور اپنی زندگی کے معمولات انجام دیتا ہے، اسی طرح روحانی اور اخلاقی زندگی کے لیے بھی ایک روح کی ضرورت ہے جو اسے زندگی اور توانائی مہیا کرتی رہے اور وہ روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترنے والی وحی ہے جس کی روشنی میں انسان زندگی کا سفر کرتا ہے اور تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی بجائے زندگی کے معمولات کو اس طرح انجام دیتا ہے جیسے روشنی میں چلنے والا ہر قدم دیکھ بھال کے رکھتا ہے۔ وہ ہر راستے کو پہچانتا ہے اور ہر سنگ میل سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ وحیِ الٰہی سے سرشار آدمی نہ اپنی ذات کی خودفراموشیوں میں کھوتا ہے اور نہ گردوپیش کی دلفریبیوں میں ڈوب جاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے بھی وحی کی ہدایت کے مطابق فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنے جذبات اور توانائیوں کو ان حدود میں محدود رکھتا ہے جس کی طرف وحی الٰہی رہنمائی کرتی ہے۔ دوسرے انسانوں سے اس کے معاملات اور دوسری ہر مخلوق سے اس کا رویہ وحی الٰہی کی رہنمائی میں متعین ہوتا ہے اس لیے اس میں نہ الجھن ہوتی ہے اور نہ کوئی اڑچن پیش آتی ہے۔ زندگی کسی صحرا میں گم ہونے کی بجائے کسی دبستان میں مسکراتی اور اپنا فرض انجام دینے لگتی ہے۔ ایک اعتراض کا جواب اس آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ کے ایک اعتراض کا جواب بھی ہے۔ مشرکین بڑی بلند آہنگی کے ساتھ آنحضرت ﷺ پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ نبوت ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے کسی بندے کو عطا ہوتا ہے۔ اولاً تو ہونا یہ چاہیے کہ یہ اعزاز کسی انسان کو نہیں بلکہ فرشتوں جیسی کسی معصوم مخلوق کو دیا جاتا لیکن اگر انسان ہی کو یہ خلعت پہنانا تھا تو پھر کیا اس کے لیے محمد ﷺ ہی باقی رہ گئے تھے جو نہ کسی قبیلے کے سردار ہیں اور نہ مال و دولت کے حوالے سے کوئی خاص شہرت رکھتے ہیں۔ یتیمی کا داغ لے کر پیدا ہوئے اور نہایت کسمپرسی میں زندگی گزاری۔ اگر یہ اعزاز کسی کو دینا ہی تھا تو کیا طائف اور مکہ کے سردار اس کا زیادہ حق نہ رکھتے تھے۔ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ نبوت ایک اعزاز بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔ لیکن یہ کسے ملنی چاہیے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کس کے اندر اس نے اس کٹھن ذمہ داری کے تحمل کی صلاحیت رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات جو اپنے علم محیط اور قدرت کاملہ کے باعث کسی کے مشورے کی محتاج نہیں۔ نبوت جیسے نازک کام کے لیے دنیوی آلودگیوں میں پلنے والی مخلوق کارآمد نہیں ہوسکتی، اس کے لیے وہ پاکیزہ روح، وہ معصوم فطرت، وہ خواہشوں سے مغلوب نہ ہونے والی عقل، وہ بلند اخلاق، وہ بےپایاں قوت پرواز درکار ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے جس کو بھی نبوت دی ہے پہلے اس کے اندر سیرت و کردار کے یہ ہیرے کوٹ کوٹ کے بھرے ہیں۔ اس لیے تمہارا اس حوالے سے یہ خلط مبحث کوئی معنی نہیں رکھتا۔ مشرکینِ مکہ کبھی ترنگ میں آکر یہ بات بھی کہتے کہ محمد ﷺ کہتے ہیں کہ مجھ پر فرشتے اترتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ فرشتے ہمیں نظر کیوں نہیں آتے ؟ اور وہ ہم پر کیوں نہیں اترتے ؟ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتے یا تو وحی الٰہی لے کر اترتے ہیں اور یا عذاب لے کر نازل ہوتے ہیں۔ وحی تو تم پر اترنے سے رہی کیونکہ تم پیغمبر نہیں ہو۔ رہا عذاب تو وہ تو اپنے وقت پر آئے گا۔ اور اللہ تعالیٰ ہی کو منظور ہے وہ وقت کب آئے گا۔ اسے یقینا فرشتے لے کر اتریں گے، لیکن اس وقت فرشتوں کو دیکھنا تمہارے لیے سود مند نہیں ہوگا، کیونکہ عذاب سے دوچار ہونے والا چیخ و پکار تو سن سکتا ہے، دیکھ کسی چیز کو نہیں سکتا۔ ایک لطیف نکتہ آیت کے دوسرے حصے میں ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ فرمایا، وہ یہ کہ مشرکینِ مکہ کو نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی سے جو عناد پیدا ہوگیا تھا حالانکہ آپ بعثت سے پہلے مکہ کی سب سے زیادہ ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ اس کا سبب صرف یہ تھا کہ آپ ﷺ انھیں اللہ تعالیٰ کی الوہیت کی دعوت کیوں دعوت کیوں دیتے تھے۔ ہر طرح کے شرک کی تردید کیوں کرتے تھے۔ اس سے چڑ کر وہ بار بار آنحضرت ﷺ سے کسی نہ کسی نشانی دکھانے کا مطالبہ کرتے اور کبھی عذاب کی وعید کا تمسخر اڑاتے۔ چناچہ یہاں فرمایا جارہا ہے کہ فرشتے ہمیشہ نبیوں پر وحی لے کے اترتے ہیں اور وہ اپنی مرضی سے نہیں اترتے اور نہ انسانوں کے مشورے سے اترتے ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اترتے ہیں اور اس پر اترتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نبوت عطا فرماتا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ وہ جب بھی کسی نبی پر وحی الٰہی لے کر نازل ہوتے ہیں تو انھیں صرف یہ پیغام دیتے ہیں کہ اب آپ کا کام انسانوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرانا اور خبردار کرنا ہے۔ اور یہ بنیادی بات ان کے دل و دماغ میں اتارنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں، کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں، کوئی غیرمشروط اطاعت کا مستحق نہیں، کوئی بےپناہ طاقتوں کا مالک نہیں، وہی سب کا مسجود اور وہی سب کا معبود ہے، اس کے سوا کوئی حاکم حقیقی نہیں، اس کے احکام کی بجاآوری سب کے لیے لازمی ہے، اس کا دیا ہوا دستور سب کی زندگی کا دستور ہے۔ تمہیں اسی کی اطاعت کرنی ہے اور اگر اطاعت میں کمی کرو گے یا اس کے احکام سے سرتابی کرو گے تو یہاں بھی اس کی گرفت آسکتی ہے اور قیامت کے دن تو وہ ایک ایک بات کا حساب لے گا۔ اس لیے ہر رسول اپنی امت سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ تمہیں صرف مجھ ہی سے ڈرنا ہے، میرا ہی تقویٰ اختیار کرنا ہے، ظاہر و باطن میری ہی اطاعت کے نور سے منور کرنا ہے۔
Top