Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 108
قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ
قَالَ : فرمائے گا اخْسَئُوْا : پھٹکارے ہوئے پڑے رہو فِيْهَا : اس میں وَلَا تُكَلِّمُوْنِ : اور کلام نہ کرو مجھ سے
اللہ تعالیٰ جواب دے گا، دفع ہو، اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو
قَالَ اخْسَئُوْ فِیْھَا وَلَا تُکَلِّمُوْنِ ۔ (المومنون : 108) (اللہ تعالیٰ جواب دے گا، دفع ہو، اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ ) خَسَا کا مفہوم اور کلام نہ کرنے سے مراد ؟ خَسَا … کتے کو دھتکارنے کے لیے آتا ہے۔ کفار سے بھی اسی لہجے میں بات کی جائے گی جس طرح کتے سے کی جاتی ہے۔ ان کی بار بار یہ درخواست کہ ہمیں ایک دفعہ دنیا میں جانے کی اجازت دی جائے، اس کا جواب نہایت حقارت سے دیا جائے گا اور تحقیر میں مزید شدت پیدا کرنے کے لیے کہا جائے گا کہ اب اس سلسلے میں مجھ سے کوئی بات مت کرو۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے عذاب میں مبتلا لوگوں کی یہ آخری بات ہوگی۔ اس کے بعد ان کی زبانیں ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب سمجھا ہے کہ وہ کسی طرح کی بات کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ لیکن سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہر طرح کے کلام پر پابندی نہیں بلکہ پابندی اس بات پر لگائی گئی ہے کہ آئندہ دنیا میں دوبارہ جانے کی درخواست مت کرنا۔ دنیا دارالعمل ہے جہاں ہر آدمی کو ایک ہی دفعہ بھیجا جاتا ہے۔ تم اس سہولت سے ایک دفعہ فائدہ اٹھا چکے ہو، اب دوسری دفعہ جانے کا کوئی امکان نہیں، اب تمہیں ہمیشہ اسی جہنم میں رہنا ہے۔
Top