Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 108
قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ
قَالَ : فرمائے گا اخْسَئُوْا : پھٹکارے ہوئے پڑے رہو فِيْهَا : اس میں وَلَا تُكَلِّمُوْنِ : اور کلام نہ کرو مجھ سے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ تم اسی میں راندے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو
(قَالَ اخْسَؤُا فِیْہَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنِ ) (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اسی میں پھٹکارے ہوئے دور ہوجاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو) سنن ترمذی میں ہے کہ اس کے بعد دوزخی ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے اور گدھوں کی طرح چیخنے چلانے اور حسرت اور واویلا کرنے میں لگ جائیں گے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ان کے چہرے بدل جائیں گے، صورتیں مسخ ہوجائیں گی حتی کہ بعض مومن شفاعت لے کر آئیں گے لیکن دوزخیوں میں سے کسی کو پہچانیں گے نہیں۔ دوزخی ان کو دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں مگر وہ کہیں گے کہ غلط کہتے ہو ہم تم کو نہیں پہنچانتے۔ (تفسیر ابن کثیر ص 258 ج 3) (اخْسَؤُا فِیْہَا) کے جواب کے بعد دوزخ کے دروازے بند کردیئے جائیں گے وہ اسی میں جلتے رہیں گے (ایضاً )
Top