Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 88
قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قُلْ : فرما دیں مَنْ : کون بِيَدِهٖ : اس کے ہاتھ میں مَلَكُوْتُ : بادشاہت (اختیار) كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز وَّهُوَ : اور وہ يُجِيْرُ : پناہ دیتا ہے وَلَا يُجَارُ : اور پناہ نہیں دیا جاتا عَلَيْهِ : اس کے خلاف اِنْ : اگر كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم جانتے ہو
ان سے پوچھئے ! وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ (جسے چاہتا ہے) پناہ دیتا ہے لیکن اس کے مقابل میں پناہ نہیں دی جاسکتی، اگر تم جانتے ہو
قُلْ مَنْ م بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّھُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْن۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ ۔ (المومنون : 88، 89) (ان سے پوچھئے ! وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ (جسے چاہتا ہے) پناہ دیتا ہے لیکن اس کے مقابل میں پناہ نہیں دی جاسکتی، اگر تم جانتے ہو۔ وہ کہیں گے یہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے، کہہ دیجیے، پھر تمہاری مت کیوں ماری جاتی ہے۔ ) زمامِ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے گزشتہ آیات میں مختلف سوالوں کے جواب میں مشرکین نے بار بار اعتراف کیا کہ کائنات میں کوئی ایسی چیز اور کوئی ایسا وجود نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں نہ ہو۔ بڑی سے بڑی قوت، اس کی مخلوق اور اس کی غلام ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اب یہ سوال کیا جارہا ہے کہ تم یہ بتائو کہ ہر چیز کی زمام اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے ؟ اور وہ کون ہے جس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے اپنی پناہ میں لے لے اور جسے چاہے اپنی پناہ سے نکال دے اور اس کے مقابلے میں کسی اور کی یہ مجال نہیں کہ جس کو وہ پناہ نہ دینا چاہے اسے وہ پناہ دے دے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محرومی کا فیصلہ کرے اور کوئی ذات اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو بدل ڈالے۔ ایسا اختیار کسی کے پاس نہیں۔ مشرکینِ عرب اپنے تمام تر مشرکانہ دعوئوں کے باوجود اس بات کو بھی تسلیم کرتے تھے کہ زمام اقتدار صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، جس طرح وہ ہر چیز کا مالک ہے اسی طرح وہ ہر چیز کا خدا اور حکمران ہے۔ مزید فرمایا کہ اگر تم یہ جانتے ہو کہ اقتدار میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہے تو پھر اس کا نام لو یا اس کا حوالہ دو ۔ لیکن مشرکین کے عقائد اور قومی روایات کے حوالے سے یہ فرمایا گیا کہ جب آپ ان سے یہ سوال کریں گے تو وہ سابقہ جوابوں کی طرح اس کا بھی یہی جواب دیں گے کہ زمام اقتدار بھی اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ تم نے اس کے اقتدار میں نہ جانے کس کس کو شریک بنا رکھا ہے۔ آخر تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ تم نے اپنے بعض نام نہاد شرکاء کو تحلیل وتحریم کا حق دے رکھا ہے اور اگر کوئی اس سے انکار کرتا ہے تو تم اسے ڈراتے ہو کہ اگر تم نے اس سے توبہ نہ کی تو تم پر ہمارے ان شرکاء کی مار پڑے گی اور تم کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوجاؤ گے یعنی ایک طرف تم کھلے دل سے اللہ تعالیٰ کی خدائی اور اس کے مالک ہونے کا اعتراف کرتے ہو اور دوسری طرف قدم قدم پر اس سے انحراف کرتے ہو یعنی جس حقیقت کو تم بظاہر دل و جان سے تسلیم کرتے ہو وہی جب عمل کی صورت اختیار کرتی ہے یا دوسرے شرکاء تک نوبت پہنچتی ہے تو پھر تمہاری آنکھوں پر کس کا جادو چل جاتا ہے کہ تم کبھی کسی کو پکارنے لگتے ہو، کبھی کسی کو۔ اور کبھی کسی کو موثر سمجھ کر اس کے نام کی قربانیاں دیتے ہو، اس کے چڑھاوے چڑھاتے ہو اور اس کی ناراضگی سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہو، آخر یہ کس کا جادو ہے جس نے تمہیں مسحور کر رکھا ہے۔ ایک لطیف تعریض فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ … یعنی تمہاری کیوں مت ماری گئی ہے، تم کس کے جادو کے زیراثر آگئے ہو۔ اس میں لطیف تعریض بھی ہے۔ اشرارِقریش نبی کریم ﷺ کو جادوگر بھی قرار دیتے تھے اور جادو کے زیراثر بھی سمجھتے تھے۔ جب وہ قرآن کریم کی غیرمعمولی تاثیر کو دیکھتے تو اسے جادو سمجھتے اور کبھی آپ ﷺ کے بارے میں یہ کہتے کہ آپ ﷺ جس طرح کی باتیں کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پر کسی آسیب کا اثر ہے یا کسی نے آپ ﷺ پر جادو کردیا ہے اور اسی جادو کے اثر سے کچھ ایسی چیزیں آپ ﷺ کو دکھائی دیتی ہیں جنھیں آپ ﷺ کبھی فرشتہ سمجھتے ہیں اور کبھی کچھ اور نام دیتے ہیں۔ ان سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم اپنی فکر اور عمل کے تضاد کو دیکھو اور پھر فیصلہ کرو کہ تم کسی سحر کے اثر میں ہو یا ہمارے رسول پاک ﷺ ۔ وہ تو پہلے دن سے چند بنیادی حقائق کو پیش کررہے ہیں اور آج تک ان کے فکر و عمل میں کبھی تضاد پیدا نہیں ہوا۔ لیکن تم مانتے کچھ اور ہو اور کرتے کچھ اور ہو۔ جب تم اپنے تعصبات سے الگ ہو کر جواب دیتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی غیرمعمولی قدرتوں کا اعتراف کرتے ہو۔ لیکن جب تم پر اپنی جا ہلی عصبیت کا حملہ ہوتا ہے تو پھر تم ایسی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہو جیسے ایک مسحور آدمی ہوتا ہے۔
Top