Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Muminoon : 88
قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قُلْ : فرما دیں مَنْ : کون بِيَدِهٖ : اس کے ہاتھ میں مَلَكُوْتُ : بادشاہت (اختیار) كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز وَّهُوَ : اور وہ يُجِيْرُ : پناہ دیتا ہے وَلَا يُجَارُ : اور پناہ نہیں دیا جاتا عَلَيْهِ : اس کے خلاف اِنْ : اگر كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم جانتے ہو
کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا
قل من بیدہ ملکوت کل شیء آپ ان سے پوچھئے کہ ہر چیز کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے۔ مَلَکُوْتُ کا معنی ہے حکومت ‘ عزت ‘ غلبہ ‘ مَلَکُوْت میں واؤ اور تا مبالغہ کی ہے۔ یعنی انتہائی غلبہ جتنا تصور کیا جاسکتا ہو ‘ اس لئے اس لفظ کا استعمال صرف اللہ کی حکومت و اقتدار کے لئے مخصوص ہے۔ بعض کے نزدیک مَلَکُوْتُ سے مراد ہیں خزانے اور (بےگنتی) ذخیرے۔ وہو یجیر ولا یجار علیہ ان کنتم تعلمون۔ اور وہی (جس کو چاہتا ہے) پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ۔ یُجِیْرُحفاظت کرتا ہے برائی سے بچاتا ہے ‘ جس کو چاہتا ہے پناہ دیتا ہے۔ وَلاَ یُجَارُ عَلَیْہِیعنی جس کو اللہ پناہ نہ دے اس کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اللہ جس کو دکھ پہچانا چاہے اس کو دکھ پہنچنے سے کوئی بچا نہیں سکتا اور کوئی شخص اللہ کو ضرر پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا۔
Top