Taiseer-ul-Quran - Al-Muminoon : 88
قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قُلْ : فرما دیں مَنْ : کون بِيَدِهٖ : اس کے ہاتھ میں مَلَكُوْتُ : بادشاہت (اختیار) كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز وَّهُوَ : اور وہ يُجِيْرُ : پناہ دیتا ہے وَلَا يُجَارُ : اور پناہ نہیں دیا جاتا عَلَيْهِ : اس کے خلاف اِنْ : اگر كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم جانتے ہو
پھر ان سے پوچھئے کہ اگر تم جانتے ہو۔۔۔۔ حکومت کس کی ہے ؟ 85 اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں کسی کو پناہ نہیں مل سکتی ؟
85 اس آیت میں ملکوت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس میں ملک، ملک اور ملک تینوں معنی پائے جاتے ہیں۔ نیز یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے ہر چیز پر مکمل حاکمیت یا بادشاہی۔ ہر چیز کی پوری کی پوری ملکیت اور ہر چیز پر پورے کا پورا اختیار و تصرف۔ لہذا وہ جونسی بھی چیز کو چاہے اسے اپنا پناہ میں لے سکتا ہے اور کوئی دوسرا اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ مگر جس چیز کو وہ پکڑے تو اسے نہ کوئی اس سے چھڑ سکتا ہے اور نہ ہی پکڑنے سے پیشتر پناہ دے سکتا ہے۔ اس آیت میں مشرکین مکہ کے اعتراف سے معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ تھا کہ جس کو اللہ پکڑ لے اس کو نہ کوئی پناہ دے سکتا ہے اور نہ چھڑا سکتا ہے۔ مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مشرکین، مکہ کے مشرکوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں : خدا جے پکڑے چھڑا لے محمد محمد جے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا یعنی اگر اللہ کسی کو پکڑ لے تو اسے محمد ﷺ چھڑا لیں گے اور اگر محمد ﷺ پکڑ لیں تو اسے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ اس شعر سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ محمد ﷺ بھی پکڑنے اور لوگوں سے مواخذہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ دوسری یہ کہ ان کے یہ اختیارات اتنے وسیع ہیں کہ ان کے پکڑے ہوئے کو کوئی (یعنی اللہ تعالیٰ جیسا کہ شعر میں محمد ﷺ کے مقابلہ پر خدا کا لفظ استعمال ہوا ہے) بھی چھڑا نہیں سکتا۔ پھر جب اس شعر پر اعتراض کیا جاتا ہے جو اس کی ایسی توجییہ بیان کرکے اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو عذر گناہ، بدتر از گناہ کا مصداق ہوتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا رد پیش کیا جارہا ہے۔
Top