Tafseer-al-Kitaab - An-Nahl : 65
وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠   ۧ
وَاللّٰهُ : اور اللہ اَنْزَلَ : اتارا مِنَ : سے السَّمَآءِ : آسمان مَآءً : پانی فَاَحْيَا : پھر زندہ کیا بِهِ : اس سے الْاَرْضَ : زمین بَعْدَ : بعد مَوْتِهَا : اس کی موت اِنَّ : بیشک فِيْ : میں ذٰلِكَ : اس لَاٰيَةً : نشانی لِّقَوْمٍ : لوگوں کے لیے يَّسْمَعُوْنَ : وہ سنتے ہیں
اور (دیکھو، برسات میں) اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو جو مردہ ہوچکی تھی (ازسرنو) زندہ کردیا۔ بلاشبہ اس میں (قدرت الٰہی کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو (صدائے حق کو جی لگا کر) سنتے ہیں۔
[36] آیت 64 میں فرمایا تھا کہ قرآن ہدایت و رحمت ہے۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے باران رحمت کا نزول، جو خشک اور مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اور یہ قرآن مردہ دلوں کو زندہ کردیتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے بعثت بعد الموت پر استدلال کیا ہے۔ یعنی اللہ جس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اسی طرح وہ تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔
Top