Urwatul-Wusqaa - At-Tawba : 41
اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
اِنْفِرُوْا : تم نکلو خِفَافًا : ہلکا۔ ہلکے وَّثِقَالًا : اور (یا) بھاری وَّجَاهِدُوْا : اور جہاد کرو بِاَمْوَالِكُمْ : اپنے مالوں سے وَاَنْفُسِكُمْ : اور اپنی جانوں فِيْ : میں سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ ذٰلِكُمْ : یہ تمہارے لیے خَيْرٌ : بہتر لَّكُمْ : تمہارے لیے اِنْ : اگر كُنْتُمْ : تم ہو تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو
(مسلمانو ! سازوسامان کے بوجھ سے) تم ہلکے ہو یا بوجھل جس حال میں نکل کھڑے ہو اور اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو اگر تم جانتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے
تم کسی حال میں بھی ہو لیکن جب جہاد کا حکم دیا جائے تو ہر حال میں نکل کھڑے ہو : 60: مطلب یہ ہے کہ تم کسی حال میں بھی ہو جب جہاد کا حکم آجائے اور اس کا اعلان کردیا جائے پھر دنیا کا کوئی بندھن ، کوئی مجبوری اور کوئی عذر تمہیں میدان جہاد کا رخ کرنے سے باز نہ رکھے جیسا کہ روح البیان میں ہے کہ ” تم جوان ہو یا بوڑھے ، فقیر ہو یا امیر ، سوار ہو یا پیادے ، تندرست ہو یا بیمار ، تنہا ہو یا عیال دار ہر حالت میں دعوت جہاد پر لبیک کہتے ہوئے رزم گاہ حق و باطل میں شریک ہوجاؤ ۔ “ اگر دشمن عامل ہلہ بول دے اور خلیفہ وقت جہاد عام کا اعلان کر دے تو پھر ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جہاد میں شریک ہو اور اگر دشمن ملک کے کسی ایک حصہ پر چڑھائی کرے تو وہاں کے لوگوں کا فرض ہے کہ خلیفہ وقت کے حکم کی تعمیل میں جہاد کے لئے تیار ہوجائیں ورنہ بعض اوقات گنہگار ہوں گے اور بعض حالات میں میدان کار زار میں نہ نکلنا کفر کے مترادف ہوگا۔ گویا اس آیت میں تاکید کے طور پر اس حکم کا اعادہ فرمادیا کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے تم لوگوں کو جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دے دیا تو تم پر نکلنا ہر حال میں فرض ہوگیا اور اس حکم کی تعمیل ہی میں تمہاری ساری بھلائی کا انحصار ہے۔
Top