Tafseer-e-Usmani - An-Nahl : 64
وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ
وَمَآ : اور نہیں اَنْزَلْنَا : اتاری ہم نے عَلَيْكَ : تم پر الْكِتٰبَ : کتاب اِلَّا : مگر لِتُبَيِّنَ : اس لیے کہ تم واضح کردو لَهُمُ : ان کے لیے الَّذِي : جو۔ جس اخْتَلَفُوْا : انہوں نے اختلاف کیا فِيْهِ : اس میں وَهُدًى : اور ہدایت وَّرَحْمَةً : اور رحمت لِّقَوْمٍ : ان لوگوں کے لیے يُّؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان لاتے ہیں
اور ہم نے اتاری تجھ پر کتاب اسی واسطے کہ کھول کر سنادے تو ان کو وہ چیز کہ جس میں جھگڑ رہے ہیں3 اور سیدھی راہ سجھانے کو اور واسطے بخشش ایمان لانے والوں کے4
3 یعنی قرآن صرف اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن سچے اصولوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں اور جھگڑے ڈال رہے ہیں (مثلاً توحید و معاد اور احکام حلال و حرام وغیرہ) ان سب کو وضاحت و تحقیق کے ساتھ بیان کر دے۔ کوئی اشکال و خفا باقی نہ رہے۔ گویا نبی کریم ﷺ بذریعہ قرآن تمام نزاعات کا دوٹوک فیصلہ سنا دیں اور بندوں پر خدا کی حجت تمام کردیں۔ آگے ماننا نہ ماننا خود مخاطبین کا کام ہے جسے توفیق ہوگی قبول کرے گا۔ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ 4 یعنی فیصلہ اور بیان تو سب کے لیے ہے لیکن اس کی ہدایت سے منتفع ہونا اور رحمت الٰہی کی آغوش میں آنا انہی کا حصہ ہے جو اس فیصلہ کو صدق دل سے تسلیم کرتے ہیں اور بطوع ورغبت ایمان لاتے ہیں۔
Top