Tafseer-e-Usmani - Maryam : 28
وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠   ۧ
وَعَلَيْهَا : اور ان پر وَعَلَي الْفُلْكِ : اور کشتی پر تُحْمَلُوْنَ : سوار کیے جاتے ہو
اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو
وعلیہا وعلی الفلک تحملون۔ اور ان پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو۔ مِّمَّا فِِیْ بُطُوْنِہَاسے مراد ہے دودھ ‘ یا چارہ۔ اوّل صورت میں مِن (بمعنی کچھ) تبعیضیہ ہے اور دوسری صورت میں ابتدائیہ کیونکہ دودھ چارے سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ فِیْہَا یعنی چوپایوں کی پشت اور بال واؤن وغیرہ میں بکثرت فوائد ہیں۔ وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو (یعنی گوشت چربی وغیرہ) وَعَلَیْہَا اور بعض چوپایوں پر سوار ہوتے ہو جیسے اونٹ اور بیل۔ بعض اہل علم نے کہا صرف اونٹ مراد ہیں عرب اونٹوں پر ہی سوار ہوتے تھے اور لفظ فلک کے ساتھ بھی اونٹ مناسبت رکھتے ہیں۔ اونٹ خشکی کے جہاز مشہور ہیں۔ ذوالترمۃ شاعر نے کہا ہے سفینۃ برٍّ تحت خدی زمامہا۔ تُحْمَلُوْنَتم لدے پھرتے ہو خشکی میں اور دریاؤں میں۔ نُسْقِیْکُمْ ۔۔ یہ عبرت کا بیان ہے کیونکہ گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص سفید خوشگوار دودھ برآمد کرنا اپنے اندر درس عبرت رکھتا ہے۔ چوپایوں سے دودھ ‘ گھی ‘ اون اور بالوں کی پیداوار اور سواری و باربرداری کے لئے ان کا فرماں بردار ہوجانا اور ضعیف الجثّہ انسان کی خدمت پر ایسے قوی ہیکل جانوروں کا لگ جانا اللہ کی قدرت تامہ کو ثابت کرتا ہے۔
Top