68. Al-Qalamالقلم
The Pen · Meccan · 52 ayahs · 2 rukus · مولانا محمد جوناگڑہی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ﴿1﴾
ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیںمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ﴿2﴾
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہےوَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ﴿3﴾
اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہےوَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴿4﴾
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہےفَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ﴿5﴾
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گےبِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ﴿6﴾
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہےاِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ﴿7﴾
بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہےفَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ﴿8﴾
پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مانوَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ﴿9﴾
وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیںوَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ﴿10﴾
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻهَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ﴿11﴾
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خورمَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ﴿12﴾
بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگارعُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ﴿13﴾
گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہواَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ﴿14﴾
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہےاِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿15﴾
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیںسَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ﴿16﴾
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گےاِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ﴿17﴾
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گےوَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ﴿18﴾
اور انشاءاللہ نہ کہافَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ﴿19﴾
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھےفَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ﴿20﴾
پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتیفَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ﴿21﴾
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیںاَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ﴿22﴾
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑوفَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ﴿23﴾
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلےاَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ﴿24﴾
کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائےوَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ﴿25﴾
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئےفَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ﴿26﴾
جب انہوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئےبَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ﴿27﴾
نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئیقَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ﴿28﴾
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿29﴾
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھےفَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ﴿30﴾
پھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگےقَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ﴿31﴾
کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھےعَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ﴿32﴾
کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیںكَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿33﴾
یوں ہی آفت آتی ہے اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتیاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿34﴾
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیںاَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ﴿35﴾
کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گےمَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ﴿36﴾
تمہیں کیا ہوگیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ﴿37﴾
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ﴿38﴾
کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ﴿39﴾
یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لوسَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ﴿40﴾
ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ﴿41﴾
کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہئے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیںیَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ﴿42﴾
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گےخَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ﴿43﴾
نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھےفَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ﴿44﴾
پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگاوَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ﴿45﴾
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہےاَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ﴿46﴾
کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیںاَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ﴿47﴾
یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوںفَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ﴿48﴾
پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کیلَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ﴿49﴾
اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتافَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿50﴾
اسے اس کے رب نے پھر نوازا اور اسے نیک کاروں میں کر دیاوَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ﴿51﴾
اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہےوَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿52﴾
در حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے