83. Al-Mutaffifinالمطففين
Defrauding · Meccan · 36 ayahs · 1 rukus · مولانا محمد جوناگڑہی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ﴿1﴾
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیالَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ﴿2﴾
کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیںوَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ﴿3﴾
اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیںاَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ﴿4﴾
کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیںلِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ﴿5﴾
اس عظیم دن کے لئےیَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿6﴾
جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گےكَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ﴿7﴾
یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال سِجِّينٌ میں ہےوَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ﴿8﴾
تجھے کیا معلوم سِجِّينٌ کیا ہے؟كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ﴿9﴾
(یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہےوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ﴿10﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہےالَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ﴿11﴾
جو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے رہےوَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ﴿12﴾
اسے صرف وہی جھٹلاتا ہےجو حد سے آگے نکل جانے واﻻ (اور) گناه گار ہوتا ہےاِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ﴿13﴾
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیںكَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿14﴾
یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہےكَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ﴿15﴾
ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سےاوٹ میں رکھے جائیں گےثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ﴿16﴾
پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گےثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ﴿17﴾
پھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وه جسے تم جھٹلاتے رہےكَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ﴿18﴾
یقیناً یقیناً نیکو کاروں کا نامہٴ اعمال عِلِّیین میں ہےوَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ﴿19﴾
تجھے کیا پتہ کہ عِلِّیین کیا ہے؟كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ﴿20﴾
(وه تو) لکھی ہوئی کتاب ہےیَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ﴿21﴾
مقرب (فرشتے) اس کا مشاہده کرتے ہیںاِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ﴿22﴾
یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گےعَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ﴿23﴾
مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گےتَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ﴿24﴾
تو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تروتازگی پہچان لے گایُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ﴿25﴾
یہ لوگ سربمہر خالص شراب پلائے جائیں گےخِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ﴿26﴾
جس پر مشک کی مہر ہوگی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہئےوَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ﴿27﴾
اور اس کی آمیزش تسنیم کی ہوگیعَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ﴿28﴾
(یعنی) وه چشمہ جس کا پانی مقرب لوگ پیئں گےاِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ﴿29﴾
گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھےوَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ﴿30﴾
اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کےاشارے کرتے تھےوَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ﴿31﴾
اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھےوَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ﴿32﴾
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراه (بے راه) ہیںوَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ﴿33﴾
یہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجے گئےفَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ﴿34﴾
پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گےعَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ﴿35﴾
تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گےهَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ع﴿36﴾
کہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پالیا