36. Yaseenيس
Yaseen · Meccan · 83 ayahs · 5 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰسٓۚ﴿1﴾
یٰسوَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ﴿2﴾
حکمت والے قرآن کی قسم !اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ﴿3﴾
آپ بلاشبہ رسولوں میں سے ایک رسول ہیںعَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ﴿4﴾
سیدھی راہ پر ہیںتَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ﴿5﴾
جو غالب اور رحم کرنے والے کا نازل کردہ ہے۔لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ﴿6﴾
تاکہ آپ ایسی قوم کو ڈرائیں جن کے آباء و اجداد نہیں ڈرائے گئے تھے لہذا وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیںلَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿7﴾
ان میں سے اکثر پر (اللہ کا یہ) قول ثابت ہوچکا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گےاِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ﴿8﴾
ہم نے ان کے گلوں میں طوق ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ لہذا وہ سر اٹھائے ہی رہتے ہیں۔وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ﴿9﴾
نیز ہم نے ایک دیوار تو ان کے سامنے کھڑی کردی ہے اور ایک ان کے پیچھے۔ (اس طرح) ہم نے ان پر پردہ ڈال رکھا ہے کہ وہ کچھ دیکھ نہیں سکتےوَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿10﴾
آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ان کے لئے یکساں ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گےاِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ﴿11﴾
آپ تو صرف اسے ڈرا سکتے ہیں جو اس ذکر (قرآن) کی پیروی کرے اور بن دیکھے رحمان سے ڈرے، ایسے لوگوں کو آپ مغفرت اور باعزت اجر کی خوشخبری دے دیجئے۔اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ع﴿12﴾
بلاشبہ ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ ہم ان کے وہ اعمال بھی لکھتے جاتے ہیں جو وہ آگے بھیج چکے اور وہ آثار بھی جو پیچھے چھوڑ گئے۔ اور ہم نے ہر چیز کا ایک واضح کتاب (لوح محفوظ) میں ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ﴿13﴾
آپ انہیں اس بستی والوں کی مثال بیان کیجئے جبکہ ان کے پاس رسول آئے تھے۔اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ﴿14﴾
جب ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے ایک تیسرے رسول سے انہیں تقویت دی۔ تب ان تینوں نے کہا : ہم تمہاری طرف (رسول کی حیثیت سے) بھیجے گئے ہیں۔قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ﴿15﴾
وہ کہنے لگے : تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو اور اللہ نے تو کچھ بھی نہیں اتارا (بلکہ) تم تو محض جھوٹ بولتے ہوقَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ﴿16﴾
وہ کہنے لگے : ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم یقینا تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیںوَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ﴿17﴾
اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہےقَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿18﴾
وہ کہنے لگے کہ : ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور ہمارے ہاتھوں تمہیں دردناک سزا ملے گیقَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ﴿19﴾
وہ کہنے لگے : تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہے۔ اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو کیا اسے تم نحوست سمجھتے ہو ؟) بلکہ تم ہو ہی حد سے گزرے ہوئے لوگ۔وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ﴿20﴾
اس وقت شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا : میری قوم کے لوگو ! ان رسولوں کی پیروی اختیار کرلواتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿21﴾
ایسے رسولوں کی جو تم سے کچھ اجر نہیں مانگتے اور وہ خود راہ راست پر ہیں۔وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿22﴾
اور میں اس ہستی کی کیوں نہ عبادت کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ﴿23﴾
کیا میں اللہ کے سوا دوسروں کو الٰہ بنالوں کہ اگر رحمن مجھے کوئی تکلیف دینا چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے کسی کام آئے اور نہ ہی وہ خود مجھے چھڑا سکیں ؟اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿24﴾
تب تو میں یقینا صریح گمراہی میں جا پڑااِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ﴿25﴾
میں تو بلاشبہ تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا، تم میری بات توجہ سے سنو (اور مان لو)قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ﴿26﴾
(آخر جب اسے قتل کر ڈالا گیا تو) اسے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہنے لگا : کاش میری قوم کو علم ہوجاتابِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ﴿27﴾
کہ میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں شامل کردیاوَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ﴿28﴾
اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا، نہ ہی ہمیں لشکر اتارنے کی حاجت تھی۔اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ﴿29﴾
وہ تو بس ایک دھماکہ ہوا جس سے وہ سب بجھ کر رہ گئےیٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿30﴾
افسوس ہے بندوں پر کہ ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ﴿31﴾
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ کتنی ہی قومیں ہم ان سے پہلے ہلاک کرچکے ہیں جو ان کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گیوَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ع﴿32﴾
اور یہ سب لوگ (ایک دن) ہمارے حضور حاضر کئے جائیں گے۔وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ﴿33﴾
ان لوگوں کے لئے مردہ زمین (بھی) ایک نشانی ہے ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا جس کا کچھ حصہ وہ کھاتے ہیںوَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ﴿34﴾
نیز ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے اور اس کے اندر سے چشمے بہا دیئےلِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ﴿35﴾
تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں حالانکہ یہ سب کچھ ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا۔ پھر کیا وہ شکر ادا نہیں کرتے۔سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ﴿36﴾
پاک ہے وہ ذات جس نے زمین کی نباتات سے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے اور خود ان کی اپنی جنس کے بھی اور ان چیزوں کے بھی جنہیں یہ جانتے بھی نہیںوَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ﴿37﴾
اور ان کے لئے ایک نشانی رات (بھی) ہے جس کے اوپر سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ﴿38﴾
اور سورج اپنی مقررہ گزر گاہ پر چل رہا ہے۔ یہی زبردست علیم ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ﴿39﴾
اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں تاآنکہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح رہ جاتا ہے۔لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ﴿40﴾
نہ تو سورج سے یہ ہوسکتا ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ سب اپنے اپنے مدار پر تیزی سے رواں دواں ہیں۔وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ﴿41﴾
اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیاوَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ﴿42﴾
پھر ان کے لئے ایسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ﴿43﴾
اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوگا اور نہ وہ بچائے جاسکیں گے۔اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ﴿44﴾
مگر ہماری رحمت سے ہی (پار لگ جاتے ہیں) اور کچھ مدت تک زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿45﴾
اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس انجام سے ڈر جاؤ جو تمہارے سامنے ہے یا پیچھے گزر چکا ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (تو اس کی کچھ پروا نہیں کرتے)وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ﴿46﴾
اور جب بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آتی ہے تو وہ اس سے اعراض ہی کر جاتے ہیںوَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿47﴾
اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرو۔ تو کافر ایمان والوں کو یوں جواب دیتے ہیں کہ : کیا ہم اسے کھلائیں جسے اگر اللہ چاہتا تو خود ہی کھلا سکتا تھا ؟ تم تو صریح گمراہی میں پڑگئے ہو۔وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿48﴾
نیز وہ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (قیامت) کب پورا ہوگا ؟مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ﴿49﴾
وہ صرف ایک دھماکے کا انتظار کر رہے ہیں جو انہیں آپکڑے گا جبکہ یہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے۔فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ع﴿50﴾
اس وقت وہ نہ تو وصیت کرسکیں گے اور نہ ہی اپنے گھروں کو واپس جاسکیں گے۔وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ﴿51﴾
اور (جب) صور پھونکا جائے گا تو وہ فوراً اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گےقَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ﴿52﴾
کہیں گے : افسوس ! ہمیں ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھا کھڑا کیا ؟ یہ تو وہی چیز ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھااِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ﴿53﴾
وہ بس ایک ہی گرجدار آواز ہوگی پھر وہ فوراً سب کے سب ہمارے حضور پیش کردیئے جائیں گےفَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿54﴾
آج کسی پر ذرہ بھر بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے۔اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ﴿55﴾
آج اہل جنت مزے اڑانے میں مشغول ہوں گےهُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ﴿56﴾
وہ اور ان کی بیویاں چھاؤں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے۔لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ﴿57﴾
وہاں انہیں کھانے کو میوے بھی ملیں گے اور جو کچھ وہ طلب کریں گے وہ بھی ملے گاسَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ﴿58﴾
مہربان پروردگار فرمائے گا (تم پر) سلامتی ہو۔وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ﴿59﴾
اور اے مجرمو ! آج تم الگ ہوجاؤاَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ﴿60﴾
اے بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿61﴾
اور میری ہی عبادت کرنا۔ یہی سیدھا راستہ ہےوَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ﴿62﴾
وہ تو تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کرچکا ہے کیا تم سوچتے نہیں ؟هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴿63﴾
یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھااِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ﴿64﴾
آج اس میں داخل ہوجاؤ کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿65﴾
آج ہم ان کے منہ بند کردیں گے اور ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور پاؤں گواہی دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھےوَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ﴿66﴾
اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں پھر وہ راہ کی طرف آگے بڑھیں تو کیونکر دیکھ سکیں گےوَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ع﴿67﴾
اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ہی انہیں مسخ کردیں۔ پھر نہ یہ آگے چل سکیں اور نہ ہی پیچھے لوٹ سکیں گے۔وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ﴿68﴾
اور جس شخص کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں ہی الٹ دیتے ہیں کیا یہ سوچتے نہیں۔وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ﴿69﴾
ہم نے اس (نبی) کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور یہ اس کے لئے مناسب بھی نہ تھا۔ یہ تو ایک نصیحت اور واضح پڑھی جانے والی کتاب ہےلِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ﴿70﴾
تاکہ جو زندہ ہے وہ اسے ڈرائے اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہوجائے۔اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ﴿71﴾
کیا وہ دیکھتے نہیں کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہیں ان میں سے ان کے لئے چوپائے پیدا تو ہم نے کئے اور اب یہ ان کے مالک ہیں۔وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ﴿72﴾
اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کا مطیع بنادیا ہے کہ ان میں کسی پر تو سوار ہوتے ہیں اور کسی کا گوشت کھاتے ہیںوَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ﴿73﴾
نیز ان سے انہیں اور بھی کئی فوائد اور مشروب حاصل ہوتے ہیں کیا پھر بھی یہ شکر ادا نہیں کرتے۔وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ﴿74﴾
اور انہوں نے اللہ کے علاوہ کئی الٰہ بنا رکھے ہیں (اس امید پر) کہ ان کی مدد کی جائےلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ﴿75﴾
(حالانکہ) وہ ان کی کچھ مدد نہ کرسکیں گے بلکہ وہ ان کے لشکر (مخالف) کی حیثیت سے پیش کئے جائیں گےفَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ﴿76﴾
لہٰذا ان کی باتیں آپ کو غمزدہ نہ کریں۔ ہم یقینا جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ﴿77﴾
کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر وہ (حقائق سے اعراض کرکے) صریح جھگڑالو بن گیا۔وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ﴿78﴾
وہ ہمارے لئے تو مثال بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے، کہتا ہے کہ : ہڈیاں جب بوسیدہ ہوچکی ہوں گی تو انہیں کون زندہ کرے گا ؟قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ﴿79﴾
آپ اسے کہئے کہ : اسے وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر قسم کا پیدا کرنا جانتا ہےاِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ﴿80﴾
وہی ہے جس نے تمہارے لئے سرسبز درخت سے آگ پیدا کردی جس سے تم آگ سلگاتے ہو۔اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ﴿81﴾
کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں کہ وہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے۔ کیوں نہیں۔ وہی تو سب کچھ پیدا کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ﴿82﴾
اس کا کام تو صرف یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا اعادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ع﴿83﴾
پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ ہر چیز کی حکومت ہے اور اسی کی طرح تم لوٹائے جاؤ گے۔