79. An-Naazi'aatالنازعات
Those who drag forth · Meccan · 46 ayahs · 2 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ﴿1﴾
(جسم میں) غرق ہو کر (جان) کھینچ لینے والے (فرشتوں) کی قسموَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ﴿2﴾
اور ان کی جو بند بند کھولنے والے ہیںوَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ﴿3﴾
اور ان کی جو (کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیںفَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ﴿4﴾
پھر دوڑ کر ایک دوسرے سے آگے نکل جانے والوں کیفَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ﴿5﴾
پھر ان کی جو کسی حکم کی تدبیر کرنے والے ہیںیَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ﴿6﴾
جس دن کانپنے والی (زمین) کانپنے لگے گیتَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ﴿7﴾
اور اس کے بعد زلزلے کا ایک اور جھٹکا آپڑے گاقُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ﴿8﴾
دل اس دن کانپ رہے ہوں گےاَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ﴿9﴾
اور ان کی آنکھیں سہمی ہوئی ہوں گییَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ﴿10﴾
وہ (کفار مکہ) کہتے ہیں : کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے ؟ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ﴿11﴾
جبکہ ہم بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گےقَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ﴿12﴾
کہتے ہیں : یہ واپسی تو بڑے گھاٹے کی بات ہوگیفَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ﴿13﴾
وہ بس ایک گرج دار آواز ہی ہوگیفَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ﴿14﴾
پھر وہ یکدم ایک میدان میں آموجود ہوں گےهَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ﴿15﴾
کیا آپ کو موسیٰ کی خبر پہنچی ہے ؟اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ﴿16﴾
جب طویٰ کی مقدس وادی میں انہیں ان کے پروردگار نے پکارا تھااِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ﴿17﴾
کہ فرعون کے پاس جاؤ ، وہ سرکش ہوگیا ہےفَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ﴿18﴾
پھر اسے کہو : کیا تیرے لیے ممکن ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے ؟وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ﴿19﴾
اور میں تجھے تیرے پروردگار کی راہ دکھاؤں اور تو ڈر جائے ؟فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ﴿20﴾
چناچہ موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائیفَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ﴿21﴾
مگر اس نے اسے جھٹلا دیا اور بات نہ مانیثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ﴿22﴾
پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگافَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ﴿23﴾
اس نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور پکارافَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ﴿24﴾
کہنے لگا ! میں ہی تمہارا سب سے بڑا رب ہوںفَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ﴿25﴾
چناچہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیااِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ع﴿26﴾
اس واقعہ میں سامان عبرت ہے اس شخص کے لیے جو (اللہ کی گرفت سے) ڈرتا ہےءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ﴿27﴾
کیا تمہیں پیدا کرنا مشکل کام ہے یا آسمان کو ؟ جسے اس نے بنایارَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ﴿28﴾
اس کی چھت کو بلند کیا پھر اس میں توازن قائم کیاوَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪﴿29﴾
اور اس کی رات کو تاریک کردیا اور دن کو دھوپ نکالیوَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ﴿30﴾
اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیااَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪﴿31﴾
جس سے اس کا پانی اور چارہ نکالاوَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ﴿32﴾
اور پہاڑوں کو خوب جمادیامَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ﴿33﴾
یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لیے سامان زندگی ہےفَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ﴿34﴾
پھر جب وہ عظیم آفت آجائے گییَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ﴿35﴾
تو اس دن انسان یاد کرے گا جو کچھ اس نے کوشش کی ہوگیوَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى﴿36﴾
اور جہنم کو پر دیکھنے والے کے سامنے لایا جائے گافَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ﴿37﴾
سو جس نے سرکشی کیوَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ﴿38﴾
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دیفَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ﴿39﴾
تو جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہوگاوَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ﴿40﴾
لیکن جو اپنے پروردگار کے حضور (جوابدہی کے لیے) کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اپنے آپ کو خواہش نفس سے روکے رکھافَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ﴿41﴾
تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگایَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ﴿42﴾
یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگیفِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ﴿43﴾
آپ کو اس کے ذکر (وقت بتانے) سے کیا واسطہ ؟اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ﴿44﴾
اس کا علم تو آپ کے پروردگار پر ختم ہوتا ہےاِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ﴿45﴾
آپ تو صرف ایک ڈرانے والے ہیں، اس شخص کو جو اس سے ڈر جائےكَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ع﴿46﴾
جب وہ اسے دیکھیں گے تو انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ گویا وہ (دنیا میں) بس ایک پچھلا یا پہلا پہر ٹھہرے تھے۔