صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کا مال تقسیم کرنا
حضرت سُعْدیٰ ؓ فر ماتی ہیں: ایک دن میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کے پاس گئی تو میں نے ان کی طبیعت پر گرانی محسوس کی۔ میں نے ان سے کہا: آپ کو کیا ہوا؟ کیا ہماری طرف سے آپ کو کوئی ناگوار بات پیش آئی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر اس ناگوار بات کو دور کر کے آپ کو راضی کریں گے۔ حضرت طلحہ نے کہا:نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ تم تو مسلمان مرد کی بہت اچھی بیوی ہو۔ میں اس وجہ سے پر یشان ہوں کہ میرے پاس مال جمع ہوگیا ہے اور مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اس کا کیا کروں؟ میں نے کہا: اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے؟ آپ اپنی قوم کو بلا لیں اور یہ مال ان میں تقسیم کر دیں۔ حضرت طلحہ نے فرمایا: اے لڑکے! میری قوم کو میرے پاس لے آؤ۔ (چناںچہ ان کی قوم والے آگئے تو سارا مال ان میں تقسیم کر دیا)
میںنے خزانچی سے پوچھا کہ انھوں نے کتنا مال تقسیم کیا؟ خزانچی نے کہا: چار لاکھ۔2
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت طلحہ ؓ نے اپنی ایک زمین سات لاکھ میںبیچی تو یہ رقم ایک رات ان کے پاس رہ گئی تو انھوں نے وہ ساری را ت اس مال کے ڈر سے جاگ کر گزاری۔ صبح ہوتے ہی وہ ساری رقم تقسیم کر دی۔3
حضرت طلحہ ؓ کی بیوی حضرت سعدیٰ ؓ فرماتی ہیں: ایک دن حضرت طلحہ میرے پاس آئے، وہ مجھے بڑے غمگین نظر آئے۔ میں نے کہا: کیا بات ہے؟ مجھے آپ کا چہرہ بڑا پریشان نظر آرہا ہے۔ کیا ہماری طرف سے کوئی ناگوار بات پیش آئی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تمہارے طرف سے کوئی ناگوار بات پیش نہیں آئی ہے، تم تو اچھی بیوی ہو۔ میں اس وجہ سے غمگین وپریشان ہوں کہ میرے پاس بہت سا مال جمع ہوگیا ہے۔ میں نے کہا: آپ آدمی بھیج کر اپنے رشتہ داروں اور اپنی قوم کو بلالیں، اور ان میں یہ مال تقسیم کر دیں۔ چناںچہ انھوں نے بلا کر ان میں سارا مال تقسیم کر دیا۔ پھر میں نے خزانچی سے پوچھا کہ انھوں نے کتنا مال تقسیم کیا ہے؟ اس نے بتایا: چار لاکھ۔ ان کی روزانہ آمدن ایک ہزار وافی تھی۔ (ایک وافی ایک درہم اور چار دانق کا ہوتا ہے اور ایک درہم میں چھ دانق ہوتے ہیں، لہٰذا ہزار وافی کے ایک ہزار چھ سو چھیاسٹھ درہم اور چار دانق ہوئے) اسی سخاوت کی وجہ سے انھیں طلحہ فیّاض کہا جاتا تھا، یعنی بہت زیادہ سخی۔1