صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت زبیر بن عوّام ؓ کا مال تقسیم کرنا

حضرت سعید بن عبد العزیز ؓ کہتے ہیں: حضرت زبیر بن عوّام ؓ کے ہزار غلام تھے جو انھیں مال کما کر دیا کرتے تھے۔ وہ روزانہ شام کو ان سے مال لے کر رات ہی کو سارا تقسیم کردیتے، اور جب گھر واپس جاتے تو اس میں سے کچھ بھی بچا ہوا نہ ہوتا۔2 حضرت مُغِیث بن سُمیٰ ؓ کہتے ہیں: حضرت زبیر ؓ کے ایک ہزار غلام تھے جو انھیں مال کما کر دیا کرتے تھے۔ وہ ان غلاموں کی آمدن میں سے ایک درہم بھی گھر نہیں لے جاتے تھے (بلکہ ساری آمدن دوسروں میں تقسیم کر دیتے تھے)۔ 3 حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں: جنگِ جمل کے دن (میرے والد) حضرت زبیر ؓ کھڑے ہوئے تومجھے بلایا۔ میں ان کے پہلو میں آکر کھڑا ہوگیا تو انھوںنے کہا: اے میرے بیٹے! آج جو بھی قتل ہوگا اسے فریقِ مخالف ظالم سمجھے گا اور وہ خود اپنے آپ کو مظلوم سمجھے گا۔ اور مجھے ایسا نظر آرہا ہے کہ میں بھی آج ظلماً قتل ہوجاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضے کی ہے۔ تمہارا کیا خیا ل ہے قرضہ ادا کرنے کے بعد ہمارے مال میں سے کچھ بچے گا؟ اے میرے بیٹے! ہمارا مال بیچ کر قرضہ ادا کر دینا۔ پھر حضرت زبیر نے یہ وصیت فرمائی کہ قرضہ ادا کرنے کے بعد جو مال بچے اس کا ایک تہائی (ورثا کے علاوہ) دوسروں کو دے دیا جائے۔ اور اس ایک تہائی کا ایک تہائی (یعنی بچے ہوئے مال کا نواں حصہ) حضرت عبد اللہ بن زبیرکی اولاد کو دے دیاجائے (کیوںکہ حضرت عبد اللہ کے بچے بڑے تھے، بلکہ ان کی شادیاں بھی ہوچکی تھیں)۔ چناںچہ حضرت عبد اللہ کے کچھ بیٹے حضرت خبیب اور حضرت عبّاد (عمر میں یا مال کے حصہ میں) حضرت زبیر کے بعض بیٹوں کے برابر تھے، اور خود حضرت زبیرکے نو بیٹے اور نو بیٹیاں تھیں۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں: حضرت زبیر نے مجھے اپنے قرضے کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر میرے قرض کی ادائیگی میں کچھ مشکل پیش آئے تو میرے مولیٰ سے مدد لے لینا۔ حضرت عبد اللہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں سمجھ نہ سکا کہ مولیٰ سے ان کی مراد کون ہے؟ اس لیے میں نے پوچھا: ابّا جان! آپ کے مولیٰ کون ہیں؟ انھوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ۔ چناںچہ حضرت عبد اللہ کہتے ہیں: جب بھی مجھے ان کے قرضے کے بارے میں کوئی مشکل پیش آتی تو میں کہتا: اے زبیر کے مولیٰ! زبیر کا قرضہ ادا کر ادیں۔ اللہ تعالیٰ فوراً اس کا انتظام فرما دیتے۔ چناںچہ حضرت زبیر اس دن شہید ہوگئے۔ انھوں نے تر کہ میں کوئی دینا ر یا درہم نہ چھوڑا۔ البتہ چند زمینیں، مدینہ میں گیا رہ گھر، بصر ہ میں دو گھر، کوفہ میں ایک گھر اور مصر میں ایک گھر چھوڑا۔ ان چند زمینوں میں سے ایک زمین (مدینہ سے چند میل دور) غابہ کی تھی۔ حضرت زبیر پر اتنا قرضہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس جو آدمی اپنا مال بطور امانت رکھوانے آتا اس سے فرماتے: میرے پاس امانت نہ رکھو اؤ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ضائع نہ ہوجائے، اس لیے مجھے قرض دے دو (جب ضرورت ہو لے لینا۔ اور لوگو ں سے لے کر دوسروں پر خرچ کر دیتے) حضرت زبیر نہ کبھی امیر بنے اور نہ کبھی خراج، زکوٰۃ وغیرہ وصول کر نے کی ذمہ داری لی۔ البتہ حضورﷺ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے رہے (اور ان غزوات سے جو مالِ غنیمت ملا اس سے ان کی اتنی جائیداد ہوگئی تھی)۔ بہر حال میں نے اپنے والد کے قرض کا حساب لگایا تو وہ بائیس لاکھ نکلا۔ ایک دن حضرت حکیم بن حزام ؓ مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! میرے بھائی (حضرت زبیر) پر کتنا قرض ہے؟ میں نے چھپا تے ہوئے کہا: ایک لاکھ۔ (جتنا بتایا اس میں تو سچے ہیں) حضرت حکیم نے کہا: اللہ کی قسم! میرے خیال میں تو تمہارا سارا مال اس قرضہ کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ میں نے کہا: اگر بائیس لاکھ قرض ہو تو پھر؟ انھوں نے کہا: میرے خیال میں توتم اسے ادا نہیں کر سکتے، اس لیے اگر تمھیں قرضہ کی ادائیگی میں کوئی مشکل پیش آئے تو مجھ سے مدد لے لینا۔ حضرت زبیر نے غابہ کی زمین ایک لاکھ ستّر ہزار میں خریدی تھی۔ میں نے اس کی قیمت لگوائی تو سو لہ لاکھ قیمت لگی۔ (میں نے اس زمین کے سولہ حصے بنائے تھے ایک حصہ کی قیمت ایک لاکھ لگی) پھر میں نے کھڑے ہو کر اعلان کیا: جس کا حضرت زبیرکے ذمہ کوئی حق ہو وہ ہمیں غابہ میں آکر مل لے۔ حضرت عبد اللہ بن جعفر ؓ کے حضرت زبیر کے ذمہ چار لاکھ درہم تھے۔ انھوں نے مجھ سے آکر کہا: اگر تم کہو تو میں تمہاری خاطر یہ قرضہ چھوڑ دیتا ہوں؟ میں نے کہا: نہیں، اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر انھوں نے کہا: اگر تم چاہو تو میرا قرضہ آخر میں ادا کر دینا۔ میں نے کہا: نہیں، آپ ابھی لے لیں۔ انھوں نے کہا: اچھا، پھر مجھے اس زمین سے میرے قرضے کے بقدر ٹکڑا دے دو۔ میں نے کہا: یہاں سے لے کر وہاں تک آپ کی زمین ہے۔ چناںچہ غابہ کی زمین (اور حضرت زبیرؓ کے گھروں) کو بیچ بیچ کر میں قرضہ اد ا کرتا رہا یہاں تک کہ سارا قرضہ ادا ہوگیا اور غابہ کی زمین (کے سولہ حصوں) میں سے ساڑھے چار حصے بچ گئے۔ میں بعد میں حضرتِ معاویہ ؓ (کے زمانۂ خلافت) میں ان کے پاس گیا۔ اس وقت ان کے پاس حضرت عمرو بن عثمان، حضرت منذربن زبیر اور حضرت ابنِ زَمْعَہؓ بھی تھے۔ حضرت معاویہ نے مجھ سے فرمایا: تم نے غابہ کی زمین کی کیا قیمت لگائی؟ میں نے کہا: (اس کے سولہ حصے کیے تھے اور) ہر حصہ ایک لاکھ کا بنا تھا۔ حضرت معاویہ نے پوچھا: اب کتنے حصے باقی ہیں؟ میں نے کہا: ساڑھے چار حصے۔ حضرت منذر بن زبیر نے کہا: ایک حصہ میں نے ایک لاکھ میں خرید لیا۔ پھر حضرت عمرو بن عثمان نے کہا: ایک حصہ میں نے ایک لاکھ میں خرید لیا۔ پھر حضرت ابنِ زَمْعَہ نے کہا: ایک حصہ میں نے ایک لاکھ میں خرید لیا۔ حضرت معاویہ نے پوچھا: اب کتنے حصے رہ گئے؟ میں نے کہا: ڈیڑھ۔ انھوں نے کہا: ڈیڑھ لاکھ میںمیںنے اسے خرید لیا۔ حضرت عبد اللہ بن جعفر نے اپنا حصہ حضرت معاویہ کے ہاتھ چھ لاکھ میں بیچا۔ جب میں حضرت زبیرکے قرضے کی ادائیگی سے فارغ ہوا تو حضرت زبیر کی اولاد یعنی میرے بہن بھائیوں نے کہا: اب میراث ہمارے درمیان تقسیم کر دیں۔ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تم لوگوں کے درمیان میراث اس وقت تک تقسیم نہیں کروں گا جب تک میں چار سال موسمِ حج میں یہ اعلان نہیں کرلیتا کہ جس کا حضرت زبیرکے ذمہ کوئی قرضہ ہو وہ ہمارے پاس آجائے ہم اس کا قرضہ ادا کریں گے۔ چناںچہ میں ہر سال موسمِ حج میں یہ اعلان کرتا رہا۔ جب چار سال گزر گئے تو پھر میں نے ان کے درمیان میراث تقسیم کی۔ حضرت زبیر کی چار بیویاں تھیں۔ حضرت زبیر نے ایک تہائی مال کی وصیت کی تھی۔ وہ تہائی مال دینے کے بعد ہر بیوی کو بارہ لاکھ ملے، لہٰذا ان کا سارا مال پانچ کروڑ دو لاکھ ہوا۔1 ’’البدایۃ‘‘ میں علامہ ابنِ کثیر ؓ نے فرمایاہے کہ ورثا میں جو مال تقسیم ہوا وہ تین کروڑ چوراسی لاکھ تھا، اور ایک تہائی کی جو وصیت کی تھی وہ ایک کروڑ بانوے لاکھ تھا۔ لہٰذا یہ میراث اور ایک تہائی مل کر پانچ کروڑ چھہتّر لاکھ ہوا۔ اور پہلے جو قرضہ ادا کیا گیا وہ بائیس لاکھ تھا۔ اس حساب سے قرض ایک تہائی اور میراث مل کر کل مال پانچ کروڑ اٹھانوے لاکھ ہوا۔ یہ تفصیل ہم نے اس لیے بتائی ہے کہ ’’بخاری‘‘ میں جو مال کی تفصیل ہے اس میں اشکال ہے اس لیے اس کی تفصیل بتانا مناسب نظر آیا۔2