نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا میدانِ جنگ میں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں : جب تک حضور ﷺ کسی قوم کو دعوت نہ دے لیتے اس وقت تک ان سے جنگ نہ فرماتے۔2
حضرت عبدالرحمن بن عائذ ؓ فرماتے ہیں: جب حضور ﷺ کوئی لشکر روانہ فرماتے تو اُن کو یہ نصیحت فرماتے کہ لوگوں سے اُلفت پیدا کرو (ان کو اپنے سے مانوس کرو)۔ جب تک اُن کو دعوت نہ دے لو اُن پر حملہ نہ کرنا اور چھاپہ نہ مارنا، کیوں کہ رُوئے زمین پر جتنے کچے اور پکے مکان ہیں (یعنی جتنے شہر اور دیہات ہیں) ان کے رہنے والوں کو تم اگر مسلمان بنا کر میرے پاس لے آؤ، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ تم ان کی عورتوں اور بچوں کو میرے پاس لے آئواور ان کے مردوں کو قتل کردو۔ 3
حضرت بُریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جب کسی کو کسی جماعت یا لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرماتے تو اس کو خاص اپنی ذات کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرنے کا حکم دیتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہیں اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا بھی حکم دیتے۔ اور یہ فرماتے کہ جب تمہارا مشرک دشمنوں سے سامنا ہو تو اُن کو تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا۔ ان باتوں میں سے جو بات بھی وہ مان لیں تم اسے ان سے قبول کرلینا اور ان سے جنگ کرنے سے رک جانا۔ پہلے اُن کو اسلام کی دعوت دو، اگر وہ اسے منظور کرلیں تو تم ان سے اسے قبول کرلو اور ان سے رک جاؤ۔ پھر تم اُن کو اپنا علاقہ چھوڑ کر دارالمہاجرین یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو، اور انھیں یہ بتلادو کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو اُن کو وہ تمام منافع ملیں گے جو مہاجرین کو ملتے ہیں اور اُن پر وہ تمام ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہوتی ہیں۔اور اگر وہ اسے نہ مانیں اور اپنے علاقے میںرہنے کو پسند کریں تو انھیں یہ بتلادو کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح سے ہوں گے اور اللہ کے حکم جو عام مسلمانوں کے ذمہ ہیں وہ اُن کے ذمہ ہوں گے اور انھیں فیٔ اور مالِ غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، ہاں اگر مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے تو حصہ ملے گا۔ اگر وہ اِسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو انھیں جزیہ دینے کی دعوت دو، اگر وہ اسے مان جائیں تو تم اسے قبول کرلو اور ان سے رک جاؤ، اور اگر وہ اسے بھی نہ مانیں تو اللہ سے مدد لے کر اُن سے جنگ کرو۔ اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور قلعہ والے تم سے یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں اللہ کے حکم پر اُتاروتو تم ایسا نہ کرنا، کیوں کہ تم یہ نہیں جانتے ہو کہ اُن کے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہے؟ بلکہ تم اُن سے اپنے فیصلے کے ماننے کا مطالبہ کرو پھر تم اُن کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرو۔ 1
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو ایک قوم سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا ۔ پھر حضرت علی کے پاس ایک قاصد بھیجا اور اس قاصدکو یہ ہدایت کی کہ حضرت علی کو پیچھے سے آواز نہ دینا (بلکہ اُن کے قریب جاکر ) اُن سے یہ کہنا کہ جب تک اس قوم والوں کو دعوت نہ دے لیں اُن سے جنگ نہ کریں۔ 1
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے اُن کو ایک رُخ پر بھیجا۔ پھر ایک آدمی سے کہا کہ علی کے پاس جاؤ اور انھیں پیچھے سے مت آواز دینا اور اُن کو یہ پیغام دو کہ حضورﷺ انھیں اپنا انتظار کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ اور ان سے یہ بھی کہو کہ تم جب تک کسی قوم کو دعوت نہ دے لو اُن سے جنگ نہ کرو۔ 2
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ نے انھیں بھیجا تو اُن سے فرمایا کہ جب تک تم کسی قوم کو دعوت نہ دے لو اُن سے جنگ نہ کرو۔3
اور صفحہ ۷۷ پر حضرت سہل بن سعدؓ کی حدیث بروایت ِبخاری وغیرہ گزر چکی ہے کہ حضورﷺ نے حضرت علیؓ کو جنگِ خیبر کے دن فرمایا: تم اطمینان سے چلتے رہو یہاں تک کہ اُن کے میدان میں پہنچ جاؤ پھر اُن کو اِسلام کی دعوت دو اور اللہ تعالیٰ کے جو حق ان پر واجب ہیں وہ ان کو بتائو۔اللہ کی قسم! تمہارے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو ہدایت دے دے، یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تمہیں سرخ اونٹ مل جائیں ۔
حضرت فروہ بن مُسَیک الغُطَیفیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی قوم کے ماننے والوں کو لے کر قوم کے نہ ماننے والوں سے جنگ نہ کروں؟ آپ نے فرمایا: ضرور کرو۔ پھر میری رائے کچھ بدل گئی تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میرا خیال ہے کہ میں ان سے جنگ نہ کروں ،کیوں کہ وہ اہلِ سبا ہیں۔ وہ بہت عزت والے اور بڑی طاقت والے ہیں۔ لیکن حضورﷺ نے مجھے امیر بنا دیا اور سبا سے جنگ کرنے کا حکم دیا۔ جب میں آپ کے پاس سے چلاگیا تو اللہ تعالیٰ نے سبا کے بارے میں قرآن کی آیات نازل فرمائیں تو حضورﷺ نے فرمایا کہ غُطَیفی کا کیا ہوا؟ آپ نے مجھے بلانے کے لیے میرے گھر ایک آدمی کو بھیجا۔ جب وہ آدمی میرے گھر پہنچا تو میں گھر سے روانہ ہوچکا تھا، اس نے مجھے راستہ سے واپس ہونے کو کہا۔ چناں چہ میں واپس حضورﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے اِرد گرد صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: قوم کو دعوت دو۔ ان میں سے جو مان جائے اسے قبول کرلو اور جو نہ مانے اس کے بارے میں جب تک مجھے خبر نہ ہوجائے جلدی نہ کرنا ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ ! سبا کیا چیز ہے؟ کوئی جگہ ہے یا عورت ہے؟ آپ نے فرمایا: سبا تو عرب کا ایک مرد تھا جس کے دس بیٹے ہوئے، اُن میں سے چھ یمن میں آباد ہوئے اور چار شام میں۔ جو شام میں آباد ہوئے ان کے نام لخم اور جذام اور غسان اور عاملہ ہیں، اور یمن میں آباد ہونے والوں کے نام اَزد اور کِندہ اور حمیر اور اشعر یون اور اَنمار اور مذحج ہیں۔ اس آدمی نے پوچھا: یارسول اللہ! اَنمار کون ہیں؟آپ نے فرمایا: اَنمار وہ ہیں جن میں خثعم اور بُجَیلہ قبیلہ کے لوگ ہیں ۔ 1
حضرت فروہؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا میں قوم کے ماننے والوں کو لے کر نہ ماننے والوں سے جنگ کرو ں؟ آپ نے فرمایا :ہاں، اپنی قوم کے ماننے والوں کو لے کر نہ ماننے والوں سے جنگ کرو۔ جب میں واپس مڑا تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ جب تک تم ان کو اِسلام کی دعوت نہ دے لو اُن سے جنگ نہ کرنا ۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! سبا کیا چیز ہے ؟ کیا وہ کوئی وادی ہے یا کوئی پہاڑ ہے یا اور کوئی چیز ہے؟ آپ نے فرمایا :نہیں،سبا تو عرب کا ایک آدمی تھا جس کے دس بیٹے ہوئے۔ آگے حدیث اور بھی ہے۔ 2
حضرت خالد بن سعیدؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے مجھے یمن بھیجا اور فرمایا کہ عرب کے جس قبیلہ پر تمہارا گزر ہو اور تمہیں اس قبیلہ سے اَذان کی آواز سنائی دے تو اُن سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، اور جس قبیلہ سے تمہیں اَذان کی آواز سنائی نہ دے ان کو اِسلام کی دعوت دینا ۔ 1
حضرت اُبی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ لات اور عزّٰی بتوں کے پاس رہنے والوں میں سے کچھ لوگ قیدی بناکر حضورﷺ کی خدمت میں لائے گئے۔ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے (لانے والوں سے) پوچھا: کیا تم نے ان کو اِسلام کی دعوت دی تھی؟ انھوں نے عرض کیا: جی نہیں۔ آپ نے ان قیدیوں سے پوچھا :کیا انھوں نے تمہیں اسلام کی دعوت دی تھی؟ انھوں نے کہا:نہیں ۔ آپ نے فرمایا: ان کا راستہ چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنی امن کی جگہ میں پہنچ جائیں۔ پھر آپ نے یہ دو آیتیں تلاوت فرمائیں:
{اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًاO وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًاO}2
ہم نے تجھ کو بھیجا بتانے والا اور خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چمکتا ہوا چراغ۔
{وَاُوحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَط اَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِِ اٰلِہَۃً اُخْرٰی}3 آخر آیت تک۔
اور اُترا ہے مجھ پر یہ قرآن تاکہ تم کو اس سے خبردار کروں اور جس کو یہ پہنچے، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ معبود اور بھی ہیں؟ 4
حضورﷺ نے لات و عزّٰی کے پاس رہنے والوں کی طرف ایک لشکر بھیجا جنھوں نے عرب کے ایک قبیلہ پر رات کو اچانک حملہ کیا، اور ان کے تمام لڑنے والوں کو اور ان کے بال بچوں کو قید کرلیا (اور حضورﷺ کی خدمت میں لے کر آئے)۔ ان قیدیوں نے (حضورﷺ سے) کہا: انھوں نے دعوت دیے بغیر ہم پر حملہ کیا ہے۔ حضورﷺ نے لشکر والوں سے پوچھا، انھوں نے قیدیوں کی بات کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: اُن کو ان کی امن کی جگہ میں واپس پہنچا ؤ، پھر اُن کو دعوت دو ۔ 1