صحابہ کرام ؓ کے بیانات

دجَّا ل، مُسَیْلَمَہ کذ ّاب،یا جوج ما جوج اور زمین میں دھنسائے جانے کے بارے میں حضور ﷺ کے بیانات

حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ فر ماتے ہیں: ہم لو گ حجۃ الوداع کے با رے میں (حج سے پہلے) با تیں تو کرتے تھے (کہ ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ حج کریں گے وغیرہ وغیر ہ)،لیکن ہمیں یہ خبر نہیں تھی کہ حضورﷺ (اپنی اُمّت کو) الوداع فر مانے کے لیے یہ حج کر رہے ہیں۔ چناںچہ اسی سفرِ حجۃ الوداع میں حضورﷺ نے ایک بیان میں مسیح دجّال کا ذکر کیا اور بہت تفصیل سے اس کے بارے میں گفتگو فرمائی۔ پھر فر مایا: اﷲ نے جس نبی کو بھیجا اس نے اپنی اُمّت کو دجال سے ضرور ڈرایا۔ حضرت نوح ؑاور ان کے بعد کے سارے نبیوں نے اس سے ڈرایا ہے، لیکن اس کی ایک با ت ابھی تک تم لوگوں سے مخفی ہے اور وہ تم لوگوں سے مخفی نہیں رہنی چا ہئے (کہ وہ کا نا ہو گا) اور تمہارا ربّ تبا رک و تعا لیٰ کا نا نہیں ہے۔1 حضرت سفینہ ؓ فر ماتے ہیں: ایک مر تبہ حضورﷺ نے ہم میں بیا ن فر مایا اور ارشاد فرمایا: مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی اُمّت کو دجال سے ڈرایا ہے۔اس کی بائیں آنکھ کانی ہے اور اس کی دائیں آنکھ میں ناک کی طرف والے گوشہ میں گو شت کا ایک موٹا سا ٹکڑا ہو گا جو آنکھ کی سیا ہی پر چڑھا ہو ا ہوگا۔اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کا فر لکھا ہوا ہو گا۔ اس کے سا تھ دو وادیاں بھی ہوگی، ایک جنت نظر آئے گی اور دوسری دوزخ،لیکن اس کی جنت حقیقت میں دوزخ ہو گی اور اس کی دوزخ جنت ہو گی۔ اور اس کے ساتھ دو فر شتے ہوں گے جو اَنبیا ؑ میں سے دو نبیوں کے مشا بہ ہوں گے۔ ایک فرشتہ دجال کے دائیں طر ف ہو گا اور دوسر ا با ئیں۔ اور اس میں لو گوں کی آزمایش ہو گی۔دجا ل کہے گا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟میں ما رتا ہوں اور زندہ کر تا ہوں۔ اس پر ایک فرشتہ کہے گا: تو غلط کہتا ہے۔اس جملہ کو اس کا سا تھی فر شتہ سن سکے گا اور کو ئی نہیں سنے گا۔ دوسرا فرشتہ پہلے فر شتے کو جو اب میں کہے گا: تم نے ٹھیک کہا۔ اس جملہ کو تمام لوگ سن لیں گے۔اس سے لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ فر شتہ اس دجال کی تصدیق کر ر ہا ہے۔ یہ بھی آزمایش کی ایک صورت ہوگی۔ پھر وہ دجال چلے گا او ر چلتے چلتے مدینہ پہنچ جا ئے گا، لیکن اسے مدینہ کے اندر جا نے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پھر وہ کہے گا: یہ تو اس عظیم ہستی (یعنی حضرت محمد ﷺ) کی بستی ہے۔ پھر وہ وہاں سے چل کر ملکِ شام پہنچے گا اور اَفِیق مقام کی گھا ٹی کے پاس اﷲ اسے ہلاک کریں گے۔2 حضرت جُنادہ بن اَبی اُمیّہ اَزدی کہتے ہیں:میں اور ایک انصاری ہم دونوں نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی کی خدمت میں گئے اور ان سے عر ض کیا: ہمیں آپ کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے حضورﷺ سے سنی ہو اور اس میں حضورﷺ نے دجال کا ذکر کیا ہو۔ انھوں نے فرمایاـ: ایک مر تبہ حضورﷺ نے ہم لوگوںمیں بیان فر مایا۔ اس میں ارشاد فرمایا: میں تمھیں دجال سے ڈراتا ہوں۔ یہ جملہ تین دفعہ فرمایا، پھر فر مایا: کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس نے دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ اے اُمّت والو!وہ تم میںہو گا۔ وہ گھنگریالے بالوں والا اور گندمی رنگ والا ہو گا۔ اس کی بائیں آنکھ پر ہاتھ پھرا ہوا ہوگا اور وہ مٹی ہوئی ہو گی۔ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہو گی، اور اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ اور پا نی کی نہر ہوگی۔وہ بارش برسائے گا لیکن درخت نہیں اُگا سکے گا۔ اور وہ ایک آدمی پر غالب آکر اس کو قتل کر دے گا اس کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کرسکے گا۔وہ زمین پر چالیس دن رہے گا اور پا نی کے ہر گھا ٹ پر پہنچے گا، چار مسجدوں کے قریب نہیں جاسکے گا: مسجد ِحرام، مسجد ِمدینہ،مسجد ِطور، مسجد ِاَقصیٰ۔ اور تم پر دجال مشتبہ نہیں ہو نا چاہیے وہ (کانا ہوگا)اور تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔1 حضرت ابو اُمامہ باہلی ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضورﷺ نے ہم لوگو ں میں بیان فرمایا۔ اس بیا ن میں آپ نے زیا دہ تر دجال کے بارے میں گفتگو فر مائی اور جب دجال کا ذکر شر وع کیا تو پھر آخر تک اسی کے بارے میں گفتگو فر ماتے رہے۔ اس دن آپ نے جو کچھ ہم سے فر مایا اس میں یہ بھی تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا اس نے اپنی اُمّت کو دجال سے ضرور ڈرایا، اور میں آخری نبی ہو ںاور تم آخری اُمّت ہو اور وہ یقینا تم میں ہی ظا ہر ہو گا۔ اگر میں تم میں مو جود ہو ا اور وہ ظا ہر ہو ا تو میں ہر مسلمان کی طرف سے دلا ئل سے اس کا مقا بلہ کر لوں گا، اور اگر میرے بعد تم لوگوں میں ظاہر ہوا تو پھر ہر آ دمی خود اپنی طرف سے اس کا مقا بلہ کرے اور اﷲ ہی ہر مسلمان کا میری طرف سے خلیفہ ہے۔ اور دجال عراق اور شام کے درمیان ایک راستہ میں ظا ہر ہو گا، اور دائیں بائیں لشکر بھیج کر فساد برپا کر ے گا۔ اﷲ کے بندو! جمے رہنا، کیوںکہ پہلے تو وہ کہے گا میںنبی ہو ں حالاںکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ پھر وہ کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں حالاںکہ مر نے سے پہلے تم اپنے ربّ کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اس کی دونوں آنکھوںکے درمیان کا فر لکھا ہو ا ہو گا جسے ہر مومن پڑھے گا، لہٰذا تم میں سے جو اس سے ملے وہ اس کے چہرے پر تھوک دے اور سورئہ کہف کی شر وع کی آیتیں پڑھے۔ وہ ایک آدمی پر غلبہ پا کر پہلے اسے قتل کرے گا پھر اسے زند ہ کرے گا، لیکن اس کے بعد کسی اور کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا۔اس کا ایک فتنہ یہ ہو گا کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہو گی۔ اس کی دوزخ جنت ہو گی اور اس کی جنت دوزخ ہو گی، لہٰذا تم میںسے جو اس کی دوزخ میں ڈالے جا نے کی آزمایش میں مبتلا ہو اسے چا ہیے کہ وہ اپنی آنکھیں بند کر لے اور اﷲسے مدد ما نگے، تو دوزخ کی آگ اس کے لیے ایسے ٹھنڈی اور سلا متی والی ہو جا ئے گی جیسے حضرت ابراہیم ؑ کے لیے ہو گئی تھی۔ اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے گا وہ سب اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی تصدیق کریں گے، تو وہ ان کے لیے دعا کرے گا تواسی دن ان کے لیے آسمان سے با رش ہو گی اور اسی دن ان کی سا ری زمین سر سبز و شاداب ہو جا ئے گی اور اس دن شا م کو ان کے جا نور چر کر واپس آئیں گے تو وہ بہت مو ٹے ہو چکے ہو ںگے اور ان کے پیٹ خو ب بھر ے ہوئے ہو ں گے اور ان کے تھنوں سے خوب دودھ بہہ رہا ہو گا۔ اور وہ دوسرے قبیلہ کے پا س سے گزرے گا وہ اس کا انکار کر دیں گے اور اسے جھٹلائیں گے، تو وہ ان کے خلاف بد دعا کرے گا جس سے ان کے سارے جا نور مر جا ئیں گے اور ایک بھی جا نور ان کے پا س نہیں رہے گا۔ اس دنیا میں وہ کل چالیس دن رہے گا جن میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا اور ایک دن ایک مہینے کے بر ابر ہو گا اور ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہو گا اور ایک دن عام دنوں جیسا ہو گا اور اس کا آخری دن سر اب کی طر ح بہت مختصر ہو گا، اتنا مختصر کہ آدمی صبح مدینہ کے ایک دروازے پر ہو گا اور دوسرے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی شام ہو جائے گی۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ان چھو ٹے دنوں میں ہم نما زیں کیسے پڑھیں گے؟ آپ نے فرمایا: تم ان چھوٹے دنوں میں وقت کا اندازہ لگا کر ایسے ہی نمازیں پڑ ھ لینا جیسے لمبے دنوں میں اندازے سے پڑ ھو گے۔1 حضرت جا بر ؓ فر ماتے ہیں: حضورﷺ نے ایک دن منبر پر کھڑے ہو کر فر مایا:اے لوگو! میں نے تم لوگوں کو آسمان سے آنے والی (نئی) خبر کی وجہ سے جمع نہیں کیا۔اس کے بعد آپ نے جَسَّاسہ کا ذکر کیا یعنی دجال کے لیے جا سوسی کرنے والی چیز کا۔اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ و ہ مسیح ہے۔چالیس دن میں اس کے لیے ساری زمین لپیٹ دی جائے گی، لیکن وہ طیبہ میں داخل نہیںہو سکے گا۔ حضورﷺ نے فر مایا: طیبہ سے مراد مدینہ ہے۔اس کے ہر دروازے پر تلوار سو نتے ہوئے ایک فر شتہ ہو گا جو دجّال کو اس میں جا نے سے روکے گا اور مکہ میں بھی اسی طر ح ہوگا۔1 بصرہ والوں میں سے حضرت ثَعْلَبہ بن عبادعبدی کہتے ہیں:میںایک دن حضرت سَمُرہ بن جندب ؓ کے بیا ن میں شریک ہوا۔ انھوں نے اپنے بیان میں حضورﷺ کی طرف سے ایک حدیث بیا ن کی اور سورج گر ہن والی حدیث بھی ذکر کی۔ اس میں یہ بھی فر مایا کہ جب حضور ﷺ دوسر ی رکعت میں بیٹھ گئے تو اس وقت سو رج صا ف ہو ا اور اس کا گر ہن ختم ہو ا۔ سلام پھیر نے کے بعد آپ نے اﷲ کی حمد و ثنا بیان کی اور اس با ت کی گو اہی دی کہ آپ اﷲ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر فر مایا: اے لوگو! میں تمھیں ا ﷲ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں: اگر تمھیں معلوم ہے کہ میں نے اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا نے میں کو ئی کمی کی ہے تو مجھے ضرور بتا ئو؟اس پر بہت سے آدمیوں نے کھڑے ہو کر کہا: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیںکہ آپ نے اپنے ربّ کے تمام پیغام پہنچا دیے ہیں اور اپنی اُمّت کی پو ری خیر خواہی کی ہے اور جو کام آپ کے ذمہ تھا وہ پو را کردیا ہے۔ پھر آپ نے فر مایا: اما بعد! بہت سے لوگوں کا یہ خیا ل ہے کہ چاند سورج کا گرہن ہونا اور ستا روں کا اپنے نکلنے کی جگہ سے ہٹ جا نا زمین کے کسی بڑے آدمی کے مرنے کی وجہ سے ہو تاہے، یہ خیال با لکل غلط ہے۔یہ گرہن تو اﷲکی قدرت کی نشا نیوںمیں سے ایک نشانی ہے جس کے ذریعے اﷲ اپنے بندوں کا امتحان لیتے ہیں، اور دیکھتے ہیں کہ کو ن اس نشانی کو دیکھ کر کفر اور گناہوں سے تو بہ کرلیتا ہے۔ اورمیں نے جتنے وقت میں کھڑے ہو کر نمازِ گرہن پڑھائی ہے اس میںمیں نے دنیا اور آخرت میں تمھیں جو کچھ پیش آئے گا وہ سب دیکھ لیا ہے۔ اﷲ کی قسم! قیا مت اس وقت تک قا ئم نہیں ہو گی جب تک تیس جھو ٹے ظاہرنہ ہو جائیں گے جن کا آخری کانا دجال ہو گا۔اس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی با لکل ایسی آنکھ ہوگی جیسے ابو تحییٰ کی آنکھ۔ حضرت ابو تحییٰ ؓ انصار کے ایک بڑے میاں تھے جو اس وقت حضورﷺ کے اور حضرت عائشہ ؓ کے حجرے کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر حضورﷺ نے فر مایا: جب وہ ظاہر ہوگا تو دعویٰ کرے گا کہ وہ اﷲ ہے۔ جو اس پر ایمان لائے گا، اس کی تصدیق کرے گا اور اس کا اتباع کرے گا اسے اس کا گذشتہ کوئی نیک عمل فا ئدہ نہیں دے گا۔ اور جو اس کا انکار کرے گا اور اس کو جھٹلا ئے گا اس کو اس کے کسی عمل پر کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ اور حرم اوربیت المقدس کے علاوہ با قی سا ری زمین پر ہر جگہ جا ئے گا۔ اور مسلمان بیت المقدس میں محصور ہو جائیں گے۔ پھر ان پر زبر دست زلزلہ آئے گا، پھر اﷲ تعا لیٰ دجال کو ہلاک کریں گے یہاں تک کے دیوار اور درخت کی جڑ آواز دے گی: اے مؤ من! اے مسلم! یہ یہو دی ہے، یہ کا فر ہے، آاسے قتل کر۔ اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک تم ایسی چیزیں نہ دیکھ لو جو تمہارے خیال میں بہت بڑی ہوں گی اور جن کے با رے میں تم ایک دوسرے سے پو چھو گے کہ کیا تمہارے نبی نے اس چیز کے بارے میں کچھ ذکر کیا ہے؟ اور (ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا)جب تک کے کچھ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں۔ پھر اس کے فوراً بعد عام موت ہو گی یعنی قیا مت قائم ہو گی۔ حضرت ثعلبہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے حضرت سمرہ کا ایک اور بیان سنا، اس میں انھوں نے یہی حدیث ذکر کی اور ایک لفظ بھی آگے پیچھے نہیں کیا۔1 احمد اور بزّار کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جو اﷲ کو مضبو طی سے پکڑے گااور کہے گا : میرا ربّ اﷲ ہے، جو زندہ ہے اسے موت نہیں آسکتی، اس پر (دجال کے) عذاب کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اور جو (دجال سے) کہے گا: تو میرا ربّ ہے، وہ فتنہ میں مبتلا ہو گیا۔ حضرت ابو بکرہ ؓ فر ماتے ہیں: حضورﷺ کے کچھ فرمانے سے پہلے ہی لوگوں نے مُسَیلَمہ کے بارے میں بہت باتیں کیں۔ پھر حضورﷺ بیان کے لیے کھڑے ہو ئے اور فر مایا: اما بعد! اس آدمی کے با رے میں تم لو گ بہت با تیں کر چکے ہو، یہ پکاجھو ٹا اور ان تیس جھو ٹوں میں سے ہے جو قیامت سے پہلے ظاہرہوں گے اور ہر شہر میں مسیح (دجال) کا رعب پہنچ جا ئے گا۔2 ایک روایت میں اس کے بعد یہ ہے کہ لیکن مدینہ میں دجال مسیح کارعب داخل نہیں ہو سکے گا، کیوں کہ اس کے ہر راستہ پر دو فر شتے ہو ں گے جو دجال مسیح کے رعب کو مدینہ سے روک رہے ہوں گے۔1 حضرت خالد بن عبد اﷲ بن حَر مَلَہ اپنی خا لہ سے نقل کرتے ہیں، ان کی خالہ فرماتی ہیں: حضورﷺ نے بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے سر پر پٹی باندھ رکھی تھی، اسی حالت میں آپ نے بیان فرمایا اور ارشاد فر مایا: تم لوگ کہتے ہو اب کوئی دشمن با قی نہیں بچا، لیکن تم لوگ دشمنوں سے جنگ کرتے رہو گے یہاں تک کے یا جو ج ما جوج ظاہر ہو ں گے جن کے چہرے چپٹے آنکھیں چھو ٹی،بال سفید مائل بسرخی ہو ں گے۔ وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے چلے آئیں گے۔ ان کے چہرے ایسے ہو ں گے جیسے وہ ڈھال جس پر کھا ل چڑھا ئی گئی ہو۔2 حضرت قَعْقَاعؓ کی بیوی حضرت بُقَیْرَہؓ فرماتی ہیں کہ میں عورتوںکے صُفّہ (چبوترہ) میں بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے حضورﷺکو بیان فر ماتے ہوئے سنا۔ آپ بائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فر ما رہے تھے: اے لوگو! جب تم سنو کہ اس طرف یعنی مغرب کی طر ف کچھ لوگ زمین میں دھنس گئے ہیں تو سمجھ لو کہ قیامت آگئی ہے۔3