جنازے کا بیان

تدفین کے بعد قبر پر جنازہ

تدفین کے بعد قبر پر بھی نماز جنازہ پڑھنا درست ہے،خواہ تدفین سے پہلے جنازہ پڑھا گیا ہو یانہ پڑھا گیا ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دفن کے بعد ایک عورت کا جنازہ پڑھا تھا،جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی اور آپ کے اصحاب نے بھی آپ کے پیچھے جنازہ پڑھا۔[1] اسی طرح غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھنا جائز ہے،چاہے درمیان میں طویل مسافت ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھا تھا اور وہ حبشہ میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مدینہ منورہ میں تھے۔