جنازے کا بیان

زیارت قبور کا حکم

قبرستان جانا مستحب ہے کیونکہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے اور میت کو دعا اور استغفار سے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’نَھَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ فزُورُوھَا‘ ’’میں تمھیں زیارت قبور سے منع کیا کرتا تھا،سو اب تم زیارت قبور کر لیا کرو۔‘‘[1] اِلّایہ کہ قبرستان یا میت بہت دور کی مسافت پر ہے اور جانے کے لیے سامان باندھنے اور سفر کے لیے خصوصی اہتمام کی ضرورت پڑتی ہے تو پھر یہ سفر مشروع نہیں ہے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ:مَسْجِدِي ھٰذَا وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصٰی)) ’’تین مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کے لیے(ثواب وبرکت کی نسبت سے)رخت سفر نہ باندھا جائے(وہ تین مساجد یہ ہیں)میری یہ مسجد(مسجد نبوی)مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔‘‘[2]