یاجوج ماجوج کا خروج
یاجوج ماجوج کا خروج
کچھ اس کتاب کے بارے میں
یاجوج وماجوج دو بڑے قبیلے ہیں یا بنی آدم کے دو بڑے گروہ ہیں ۔ جیسا کہ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں وارد ہواہے۔ باقی لوگوں نے یہ جو کچھ کہا ہے کہ: ان میں سے بعض تو بہت چھوٹے ہیں ؛ اور بعض بہت بڑے ہیں ۔ اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے ایک کان کو بستر کے طور پر بچھالیتے ہیں اور دوسرے کو لحاف کے طور پر اوڑھ لیتے ہیں ۔ اور اس طرح کی دیگر باتیں ، ان کی کوئی اصل حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ وہ بھی باقی لوگوں کی طرح حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ مگر ذوالقرنین کے وقت میں وہ زمین میں فساد پھیلانے والی ایک قوم تھے۔ ان کے پڑوسیوں نے حضرت ذوالقرنین سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے درمیان ایک رکاوٹ تعمیر کردیں ۔ تاکہ وہ ان تک نہ پہنچ سکیں ، اور ان کی سر زمین میں فساد نہ پھیلانے پائیں ۔تو جناب ذوالقرنین نے ایسا کردیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خروج کے بعد یہ لوگ بھی نکلیں گے۔ اور زمین میں پھیل جائیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ بن مریم اور ان کے ہمراہی مومنین کا بیت المقدس کے ایک پہاڑ کے پاس محاصرہ کرلیں گے۔ یہ وقت مومنوں پر کڑی آزمائش کا وقت ہوگا۔
پھر اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج پر ایک کیڑا مسلط کردے گا؛ جو ان کی گردنوں کو کھائے گا، پس صبح ہوگی تو سارے کے سارے مرے پڑے ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھیں گے۔ آنے والے صفحات میں اس کی پوری تفصیل بیان کی جائے گی۔
یاجوج ماجوج کے سامنے دیوار کی تعمیر کی قصہ
اللہ تعالیٰ ایک نیک بادشاہ ذوالقرنین کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’پھر اس نے ایک سامان کیا۔ پھر( چلتے چلتے ) دونوں پہاڑوں کے بیچ میں پہنچا۔ وہاں اس طرف پہاڑوں کے ادھر )ایسے لوگوں کودیکھا جو(دوسرے ملک والو ں کی بات ہی نہیں سمجھتے۔ وہ کہنے لگے ا ے ذوالقرنین (اس گھاٹی کے پرے )یاجوج ماجوج (دو قوم کے لوگ )ملک میں فساد مچاتے ہیں (ہم کوآکر لوٹتے اور ستاتے ہیں )تو کیا ہم تیرے لیے کچھ چندہ جمع کریں اس شرط پر کہ ہمارے اوران کے بیچ میں توایک روک کردے۔ذوالقرنین نے کہا مجھ کوجومیرے مالک نے مقدور دیا ہے وہ(تمھارے چندے سے)بڑھ کر ہے بہتر ہے، البتہ اگر تم میری مدد کرنا چاہتے ہو)تو محنت مزدوری سے میری مدد کرو۔ میں اوران میں ایک مضبوط آڑ کردوں گا۔لوہے کے تختے مجھ کو لادو جب دونوں کناروں تک دیوار کو برابر کردیا تو (مزدروں کو)حکم دیا اب دھونکو(آگ پھونکو)جب وہ (دھونکتے دھونکتے لال )انگار ہوگئی تویہ حکم دیا اب تانبا لاؤ پگھلا کر اس پرانڈیل دوں گا۔پھر (وہ دیوار ایسی بلند اورمضبوط بنی کہ) نہ اس پر(یاجوج ماجوج )چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے۔‘‘ (الکہف: ۹۲۔۹۷)
ذوالقرنین کون ہے ؟
یہ ایک نیک اور مومن بادشاہ تھے۔اہل علم کے راجح قول کے مطابق نبی نہیں تھے۔ آپ کانام ذوالقرنین اس لیے پڑ گیا کہ آپ زمین کے مشرق و مغرب تک پہنچے؛ جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتاہے، اور جہاں سے غروب ہوتا ہے۔ یہ ذوالقرنین اسکندر مقدونی نہیں ، اس لیے کہ اسکندر کافر تھا۔ اور اس کا زمانہ حضرت ذوالقرنین کے زمانے کے بہت بعد کا ہے۔ان دونوں کے درمیان تقریباً دو ہزار سال کا فاصلہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کا قصہ سورۂ کہف میں ذکر کیا ہے، کہ آپ نے زمین کا چکر لگایا،یہاں پر ہم اس قصے سے متعلق آیات کے بعض الفاظ پر غوریں کرنے کے لیے ایک وقفہ لیں گے:
٭ ’’پھر اس نے ایک سامان کیا‘‘…یعنی مشرق اورمغرب کے درمیان ایک تیسرے راستہ پر چلا جس نے اسے شمال کی طرف بلند پہاڑوں کے بیچ میں پہنچادیا۔
٭ ’’ پھردونوں پہاڑوں کے بیچ میں پہنچا‘‘… یعنی اپنے لشکر کو ساتھ لیے دو بہت بڑے پہاڑوں کے درمیان ایک علاقے میں پہنچا، جو ارض ترکی کے آخر میں آذر بائیجان اور ارمینیا کے قریب میں واقع ہے۔
(سدین) یہاں پر قرآن میں لفظ سدین استعمال ہوا ہے، جس سے مراد دو پہاڑ ہیں ، ان دونوں کے درمیان میں ایک راستہ تھا جس سے یاجوج ماجوج ترکی سرزمین کی طرف نکلتے تھے؛ اور پھر وہاں پر فساد پھیلاتے، کھیتی باڑی کوتباہ کرتے اور انسانوں کو قتل کرتے۔
جب ترکوں نے دیکھا کہ ذوالقرنین میں قوت اور طاقت ہے ؛ اور آپ کی صلاحیتوں کا اندازہ لگالیا تو انہوں نے ذوالقرنین کے سامنے اپنی گزارش رکھی کہ اس راستے پر ان کے اور یاجوج ماجوج کے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی کردی جائے؛ اور اس کے مقابلہ میں وہ مال جمع کرکے انہیں عوض کے طور پر ادا کریں گے۔
مگر اس نیک بادشاہ ذوالقرنین یہ رکاوٹ بلامعاوضہ اللہ کی رضامندی کے لیے تعمیر کردی۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ رکاوٹ تعمیر کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ان دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو بند کردیا جائے۔ تو انہوں نے اس قوم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کام کے لیے ان کی مدد کریں تاکہ وہ ان کے مابین دیوار تعمیر کرسکیں ۔
انہوں نے پہاڑ کے دونوں جانب لوہے کے ٹکڑے ڈالے، اور لوگوں سے کہا ان کے نیچے آگ جلا کر انہیں ہوا دو، یہاں تک کہ یہ لوہاپگھل کر سرخ آگ کی طرح ہوجائے، پھر اسے پیتل کے لگن میں ڈال کر اس جگہ تک لے گئے اور وہاں پر اس لوہے کو ڈال دیا، جس کے وجہ سے وہ ایک بہت سخت آہنی دیوار بن گئی۔ اب یاجوج ماجوج اس دیوار کی بلندی کی وجہ سے اسے پھلانگنے سے عاجز آگئے۔ اور آہنی ہونے کی وجہ سے اسے سوراخ کرنے سے رہ گئے۔ اس انتہائی زور دار رکاوٹ کی تعمیر سے ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج کو اس کے پیچھے بند کردیا۔
یاجوج ماجوج کون ہیں ؟
٭ کہا گیا ہے کہ یاجوج ماجوج دو عجمی نام ہیں جیسے طالوت و جالوت۔
٭ کہاگیا ہے کہ یاجوج ماجوج ان کے قول ’’ اجت النار‘‘( آگ بھڑک اٹھی) سے مشتق ہے۔ یہ اس وقت کہا جاتا ہے جس آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں ۔ ان کے لیے یہ لفظ اس لیے بولا جاتا تھا کہ یہ خبیث قوم زمین میں فساد پھیلاتی پھرتی تھی۔
٭ اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ یہ ’’ الماء الأجاج‘‘ (نمکین پانی )سے مشتق ہے۔ یہ لفظ انتہائی نمکین، کسیلے پانی کے لیے بولا جاتاہے۔
٭ کہاگیا ہے کہ یہ لفظ ’’اج‘‘ سے مشتق ہے جس کا معنی ہے بہت سخت دشمنی، اچھلنا کودنا۔
یاجوج ماجوج کا دین کیا ہوگا ؟
کیا ان تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا پیغام پہنچا ہوگا؟
یاجوج ماجوج بنی آدم میں سے ہیں ۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے یہ قول راجح قرارد یا ہے کہ وہ یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں ۔ وہ بھی آدم اور حوا کے بیٹے ہیں ۔ اس پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جسے سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے نقل کیا ہے ، آپ بیان کرتے ہیں : ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آگے پیچھے ہوگئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے یہ دو آیتیں پڑھیں :
’’لوگو اپنے مالک کے عذاب سے ڈرو کیوں کہ قیامت کا بھونچال ایک بڑی آفت ہے۔جس دن تم اس کو دیکھو گے ہر اناّ (دودھ پلانے والی) اپنے بچے کو جس کو وہ دودھ پلاتی ہے بھول جائے گی (یا دودھ پلانا بھول جائے گی اتنا ہول ہوگا )اورہر پیٹ گر جائے گا ) اورلوگ ایسے دکھائی دیں گے جیسے (نشہ میں ) متوالے ہیں اور حقیقت میں ) متوالے نہ ہوں گے بلکہ خدا کاعذاب سخت ہے۔‘‘ (الحج: ۱۔۲)
جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات کہنے والے ہیں ؛ لہٰذا اپنی سواریوں کو دوڑا کرآگے آگئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکاریں گے؛ وہ جواب دیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اے آدم علیہ السلام ! جہنم کے لیے لشکر تیار کرو۔ وہ کہیں گے: اے اللہ!وہ کون سا لشکر ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہر ہزار آدمیوں میں سے نوسونناوے جہنمی اور ایک جنتی ہے۔
اس بات سے لوگ مایوس ہوگئے۔ یہاں تک کہ کوئی مسکرا بھی نہیں سکا۔ چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو غمگین دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو اور بشارت دو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی جان ہے ! تمہارے ساتھ دو مخلوقیں ایسی ہوں گی جو جس کسی کے ساتھ مل جائیں ان کی تعداد زیادہ کر دیں گی۔ ایک یاجوج ماجوج اور دوسری جولوگ بنی آدم اوربنی ابلیس سے مر گئے۔‘‘
راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی پریشانی ختم ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ عمل کرو اور بشارت دو کیوں کہ تمہاری دوسری امتوں کے مقابلے میں تعداد صرف اتنی ہے جیسے کسی اونٹ کے پہلو میں تل کسی جانور کے ہاتھ کے اندر کا گوشت۔‘‘ (ترمذی)
ان کی تعداد کی کثرت
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ یاجوج ماجوج بنی آدم میں سے ہیں ۔ اگر انہیں کھلا چھوڑ دیا جائے تو وہ لوگوں پر ان کے معاش میں فساد پھیلائیں ، ان میں سے ایک شخص بھی نہیں مرے گا مگر اپنے پیچھے ہزار یا اس سے زیادہ اولاد چھوڑ دے گا۔ اور بے شک ان کے پیچھے تین امتیں اور ہیں :
تاول، تاریس اور مسک ۔‘‘(المعجم الکبیر للطبرانی، مجمع الزوائد: ۸/۶، سلسلۃ ضعیفہ : ۹/۱۵۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو دس حصوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے نو حصے ملائکہ بنائے گئے، اور ایک حصہ باقی مخلوقات۔ اور پھر ملائکہ کو دس حصوں میں تقسیم کیا، ان میں سے نو حصوں کو صبح و شام اپنی تسبیح میں لگادیا جس میں وہ وقفہ نہیں کرتے۔ اور ایک جز کو اپنے پیغام کے لیے خاص کردیا۔ اور باقی مخلوق کو دس حصوں میں تقسیم کیا۔ جن میں سے نو حصے جن بنائے گئے اور ایک حصہ باقی بنی آدم کا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو دس حصوں میں تقسیم کیا، ان میں سے نو حصے یاجوج ماجوج بنائے گئے، اور ایک حصہ باقی سارے لوگ۔‘‘ (مستدرک حاکم)
یہ اثر عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع حدیث نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے لیے مرفوع حدیث کا حکم لگایا جاسکتا ہے؛ اس لیے کہ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ بنی اسرائیل کی روایات نقل کرتے ہیں ۔ اور کبھی کبھی اس کے ساتھ اپنی بات بھی ملا لیتے ہیں مگر میں یہ اثر یہاں پر صرف مانوس ہونے کے لیے نقل کیا ہے۔
ان کی بعض صفات
جناب خالد بن عبد اللہ بن حرملہ اپنی خالہ سے روایت کرتے ہیں ؛وہ فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا:
’’بے شک تم کہتے ہو : کوئی دشمن نہیں ہے اور بے شک تم ہمیشہ لڑتے رہوگے، یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آجائیں ؛ چوڑے چہروں والے،چھوٹی آنکھوں والے۔ سرخی مائل سیاہ بالوں والے۔ وہ ہر گھاٹی سے اتر رہے ہوں گے گویا کہ ان کے چہرے چپٹی ڈھال ہیں ۔‘‘ (مسند احمد ، طبرانی )
وہ دیوار کوکیسے پھاڑیں گے؟
اس سے پہلے گزر چکاہے کہ یاجوج ماجوج دو بڑے قبیلے ہیں ؛ جو زمین میں کئی طرح کے فساد پھیلایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ذوالقرنین نے ان کے سامنے ایک دیوار تعمیر کرکے انہیں اس کے پیچھے بند کردیا۔ یہ دیوار ان کے اور باقی لوگوں کے درمیان ایک رکاوٹ بن گئی۔ وہ بغیر کسی شک و شبہ کے اس دیوار کے اندر ہیں ، اور ان کے پاس ان کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات زندگی کا ساز و سامان موجود ہے۔ اور ابھی تک یاجوج ماجوج اس رکاوٹ کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ وہ اسے کھودتے ہیں ؛ اوراس میں نقب زنی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ؛ اوراپنی ہر طرح کی کوششیں بروئے کار لاتے ہیں ، (تاکہ وہ اس رکاوٹ کو ختم کرکے باہر نکل سکیں )۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’یاجوج ماجوج اس دیوار کو روزانہ کھودتے ہیں جب وہ اس میں سوراخ کرنے ہی والے ہوتے ہیں تو ان کا بڑا کہتا ہے چلو باقی کل کھول دینا۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ چاہے گا کہ انہیں لوگوں پر مسلط کرے؛ تو ان کا حاکم کہے گا : چلو باقی کل کھود دینا ؛اور ساتھ ان شا اللہ بھی کہے گا۔ اس طرح جب وہ دوسرے دن آئیں گے تو دیوار کو اسی طرح پائیں گے جس طرح انہوں نے چھوڑی تھی؛ اور پھر اس میں سوراخ کرکے لوگوں پر نکل آئیں گے۔ پانی پی کر ختم کر دیں گے اور لوگ ان سے بھاگیں گے۔ پھر وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے جو خون میں لت پت ان کے پاس واپس آئے گا۔‘‘ [1]
اس حدیث میں تین فائدے ہیں :
پہلافائدہ : اللہ تعالیٰ نے انہیں روک کر رکھا ہے کہ وہ دن ورات کی کوششوں کے باوجود اس دیوار میں سورخ نہیں کرسکتے۔ اگر ایسانہ ہوتاوہ لوگ کب سے اس میں سوراخ کرچکے ہوتے۔
دوسرا فائدہ : اللہ تعالیٰ نے انہیں روک کر رکھا ہے کہ وہ اس دیوار کو کسی طرح بھی پھلانگ لیں ؛ یا سیڑھی وغیرہ یا کسی دوسری چیز کا استعمال کرکے اس دیوار پر چڑھ جائیں ۔ اللہ نے یہ بات ان کے ذہن میں نہیں ڈالی۔ اور نہ ہی انہیں ایسی چیزوں کا علم ہوسکا ہے۔ اور شاید کہ اگر وہ اس کی کوشش کریں تب بھی کامیاب نہ ہوں ، اس لیے کہ یہ دیوار بہت بلنداور چکنی ہے۔
تیسرا فائدہ : اللہ تعالیٰ انہیں قرب قیامت سے پہلے ’’ إن شاء اللّٰہ‘‘ کہنے کی توفیق نہیں دے گا۔
حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان میں کاریگر، اہل فن ؛حاکم اور سردار بھی ہیں ، اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ارادے کا اعتراف کرتے ہیں ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کے بڑے کی زبان پر لفظ ’’ إن شاء اللّٰہ‘‘ بغیر کسی ارادے کے، یا اس لفظ کا معنی جانے بغیر ہی جاری ہوجائے، اور اس کلمے کی برکت حاصل ہوجائے۔ (فتح الباری:۱۳/۱۰۹)
یاجوج ماجوج کے متعلق وارد ہونے والی نصوص
قرآني آیات:
’’اور(اے پیغمبر )یہ لوگ تجھ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں ۔ کہہ دے میں اب تم کواس کا کچھ ذکر سناتا ہوں …پھر( چلتے چلتے ) دونوں پہاڑوں کے بیچ میں پہنچا۔ وہاں اس طرف پہاڑوں کے ادھر (ایسے لوگوں کودیکھا جو)دوسرے ملک والو ں کی بات ہی نہیں سمجھتے۔ وہ کہنے لگے: ا ے ذوالقرنین (اس گھاٹی کے پرے )یاجوج ماجوج (دو قوم کے لوگ )ملک میں فساد مچاتے ہیں (ہم کوآنکر لوٹتے اور ستاتے ہیں )تو کیا ہم تیرے لیے کچھ چندہ جمع کریں اس شرط پر کہ ہمارے اوران کے بیچ میں توایک روک کردے۔ذوالقرنین نے کہا مجھ کوجومیرے مالک نے مقدور دیا ہے وہ(تمھارے چندے سے)بڑھ کر ہے بہتر ہے البتہ اگر تم میری مدد کرنا چاہتے ہو)تو محنت مزدوری سے میری مدد کرو۔ میں اوران میں ایک مضبوط آڑ کردوں گا۔لوہے کے تختے مجھ کو لادو جب دونوں کناروں تک دیوار کو برابر کردیا تو (مزدروں کو)حکم دیا اب دھونکو(آگ پھونکو)جب وہ (دھونکتے دھونکتے لال )انگار ہوگئی تویہ حکم دیا اب تانبا لاؤ پگھلا کر اس پرانڈیل دوں گا۔ پھر (وہ دیوار ایسی بلند اورمضبوط بنی کہ نہ اس پر(یاجوج ماجوج )چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے۔ذوالقرنین نے کہا یہ میرے مالک (خداوند کریم) مہربانی ہے (جو ایسی مضبوط دیوار بنانے کی مجھ کوتوفیق دی) پھر جب میرے مالک کا وعدہ آئے۔ تو اس کو گرا کر صاف (زمین کے برابر کردے گا او ر میرے مالک کا وعدہ سچا ہے۔اور اس دن ہم یاجوج ماجوج کوایک دوسرے میں لہر یں مارتے ہوئے چھوڑدینگے اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم ان کو(حشر کے میدان میں ) جوڑکراکٹھا کر دیں گے۔‘‘ (الکہف :۸۳۔۹۹)
احادیث مبارکہ :
سیّدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے پاس گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:
’’ لا الہ الا اللّٰہ عربوں کی خرابی ہو اس شر سے جو قریب آگیا۔ آپ نے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کا حلقہ بنا کر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:’’ آج اس کے برابر یاجوج ماجوج نے دیوار میں سوراخ کر لیا ہے۔‘‘
سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ!کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں ! اس وقت جب کہ فسق وفجور کی زیادتی ہو جائے گی۔‘‘ (متفق علیہ)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسات مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’ اللہ تعالیٰ نے یاجوج ماجوج کی اتنی دیوار کھول دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نوے کے ہند سے کا حلقہ بنایا۔‘‘ (مسلم)
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ اللہ تعالیٰ قیامت کے روزفرمائے گا : اے آدم! وہ عرض کریں گے: میں حاضر ہوں اور شرف یاب ہوں اور ہر طرح کی بھلائی سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ فرمائے گا: دوزخ میں جانے والا لشکر نکالو۔ وہ عرض کریں گے: دوزخ کا کتنا لشکر ہے؟ اللہ فرمائے گا: فی ہزار نو سو ننانوے (دوزخ میں اور ایک جنت میں جائے گا پس وہ ایسا وقت ہوگا کہ ) ’’خوف کے مارے بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تم کو لوگ نشہ کی سی حالت میں لغزیدہ گام و سراسیمہ نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔‘‘
صحابہ کرامؓ نے عرض کیا :یا رسول اللہ! (جنت میں فی ہزار ایک جانے والا) ہم میں سے کون ہوگا؟
آپ نے فرمایا: خوش ہو جاؤ !کیوں کہ تم میں ایک آدمی ہوگا اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو ں گے۔ تو ہم لوگوں نے تکبیر کہی۔
پھر آپ نے فرمایا :مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو گے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔
تو آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہو گے (یعنی نصف تم اور نصف دوسرے لوگ) ہم نے پھر تکبیر کہی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم تو اور لوگوں کے مقابلہ میں ایسے ہو جیسے سیاہ بال سفید بیل کے جسم پر یا سفید بال سیاہ بیل کے جسم پر۔‘‘ (متفق علیہ)
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین آگے پیچھے ہوگئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے یہ دو آیتیں پڑھیں :
﴿ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ٭یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ھُمْ بِسُکٰرٰی وَ لٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ …﴾۔
’’ لوگو! اپنے مالک کے عذاب سے ڈرو کیوں کہ قیامت کا بھونچال ایک بڑی آفت ہے۔جس دن تم اس کو دیکھو گے ہر انا (دودھ پلانے والی) اپنے بچے کو جس کو وہ دودھ پلاتی ہے بھول جائے گی (یا دودھ پلانا بھول جائے گی اتنا ہول ہوگا) اورہر پیٹ گر جائے گا ) اورلوگ ایسے دکھائی دیں گے جیسے (نشہ میں ) متوالے ہیں اور حقیقت میں ) متوالے نہ ہوں گے بلکہ خدا کاعذاب سخت ہے۔‘‘
جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات کہنے والے ہیں ؛ لہٰذا اپنی سواریوں کو دوڑا کر آگے آگئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکاریں گے؛ وہ جواب دیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اے آدم علیہ السلام ! جہنم کے لیے لشکر تیار کرو۔ وہ کہیں گے: اے اللہ! وہ کون سا لشکر ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ: ہر ہزار آدمیوں میں سے نوسونناوے جہنمی اور ایک جنتی ہے۔
اس بات سے لوگ مایوس ہوگئے۔ یہاں تک کہ کوئی مسکرا بھی نہیں سکا۔ چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو غمگین دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو اور بشارت دو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی جان ہے ! تمہارے ساتھ دو مخلوقیں ایسی ہوں گی جو جس کسی کے ساتھ مل جائیں ان کی تعداد زیادہ کر دیں گی۔ ایک یاجوج ماجوج اور دوسری جولوگ بنی آدم اوربنی ابلیس سے مر گئے۔‘‘
راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی پریشانی ختم ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عمل کرو اور بشارت دو کیوں کہ تمہاری دوسری امتوں کے مقابلے میں تعداد صرف اتنی ہے جیسے کسی اونٹ کے پہلو میں تل کسی جانور کے ہاتھ کے اندر کا گوشت۔‘‘ (ترمذی )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق حدیث بیان کرتے ہوئے اس کے شروع میں فرمایا:
’’ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کریں گے : بے شک میں نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے جن سے جنگ کرنے پر کسی کا بس نہیں چلے گا ؛ پس میرے بندوں کو لے کر طور کی طرف چلے جاؤ ۔‘‘ (یعنی اس وقت یاجوج ماجوج نکل پڑیں گے؛ یہ ان ہی کے بارے میں ہے ۔)
جناب نواس بن سمعان کلابی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’پھر اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا ؛وہ ارشاد الٰہی کے مطابق ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ان کا پہلا گروہ بحیرہ طبریہ پر سے گزرے گا؛ اور اس کا پورا پانی پی جائے گا؛ پھر جب ان کا دوسرا گروہ وہاں سے گزرے گا تو وہ لوگ کہیں گے: یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔‘‘
بحیرہ طبریہ کبھی اسے بحر الجلیل یا بحیرہ الجلیل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا سمندر ہے جو کہ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں واقع ہے۔ اس میں دریائے اردن آکر گرتا ہے۔ یہ دریا اردن کے وسط سے نکلتا ہے۔ بحیرہ طبریہ کی لمبائی ۲۳ کلو میٹر ہے، اور اس کی چوڑائی ۱۳ کلو میٹر ہے۔ اور اس کی آخری گہرائی ۴۴ میٹر تک پہنچتی ہے۔ یہ جگہ سطح سمندر سے ۲۱۰ میٹر نیچے ہے۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ پھر وہ لوگ آگے چل دیں گے یہاں تک کہ بیت المقدس کے ایک پہاڑ(جبلِ خمر) پر پہنچیں گے ؛ اور کہیں گے : ہم نے زمین والوں کو قتل کر دیا ؛آؤ اب آسمان والوں کو بھی قتل کر دیں ۔ پس وہ آسماں کی طرف تیر پھینکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے تیر خون آلود واپس بھیج دے گا۔ عیسی علیہ السلام اور آپ کے ساتھی محصور ہوں گے ؛یہاں تک کہ ان کے نزدیک گائے کا سر(بھوک کی وجہ سے) تمہارے آج کے سو دیناروں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہوگا۔
عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں گے؛ تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا یہاں تک کہ سب یکدم مر جائیں گے۔ جب عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی اتریں گے؛ اور ان کی بدبو اور خون کی وجہ سے ایک بالشت جگہ بھی خالی نہیں پائیں گے۔ پھر عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی دعا مانگیں گے؛ تو اللہ لمبی گردن والے اونٹ کی مثل پرندے بھیجے گا جو انہیں اٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گاپہنچا دیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا جو ہر گھر اور خیمہ تک پہنچے گی۔ تمام زمین کو دھو کر شیشہ کی طرح صاف شفاف کر دے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنے پھل باہر نکال اور اپنی برکتیں واپس لا۔ پس اس دن ایک گروہ ایک انار سے کھائے گا۔ اور اس کے لوگ اس کے چھلکے سے سایہ کریں گے۔ نیز دودھ میں اتنی برکت پیدا کر دی جائے گی کہ ایک اونٹنی کے دودھ سے ایک جماعت سیر ہو جائے گی۔ ایک گائے کے دودھ سے ایک قبیلہ اور ایک بکری کے دودھ سے ایک کنبہ سیر ہو جائے گا۔ وہ لوگ اسی طرح زندگی گزار رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جو ہر مومن کی روح قبض کرے گی اور باقی صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح راستے میں جماع کرتے پھریں گے اور انہی پر قیامت قائم ہوگی ۔‘‘ (مسلم، ترمذی)
ایک روایت میں ہے:
’’پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ لمبی گردن والے اونٹ کی مثل پرندے بھیجے گا جو انہیں اٹھا کر پہاڑ کے غار میں پہنچا دیں گے۔ مسلمان ان کے تیروں ، کمانوں اور ترکشوں سے سات سال تک ایندھن جلائیں گے ۔‘‘ (ترمذی)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں :
’’جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء ہوئی تو آپ حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ملے۔ انہوں نے آپس میں قیامت کا تذکرہ کیا، یہاں تک جب بات کرنے کی باری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آگئی تو انہوں نے دجال کو قتل کرنے کا ذکر کیا۔ پھر آپ نے فرمایا :پھر لوگ اپنے اپنے ملکوں کوپلٹ جائیں گے۔ جہاں پر یاجوج ماجوج ان کا استقبال کریں گے۔ وہ ہر اونچائی سے دوڑتے ہوئے اتر رہے ہوں گے۔ جب بھی کسی پانی پر ان کا گزر ہوگا تو اسے پی لیں گے، اور دیگر جس چیز پر گزر ہوگا تو اسے تباہ کردیں گے، پھر لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا تو وہ انہیں مار دے گا۔ پس زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی۔ پھر لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں اللہ سے دعا کروں گا تواللہ تعالیٰ ان پر آسمانوں سے پانی برسائے گا، جو انہیں بہا کر سمندر میں پھینک دے گا ۔‘‘ (مستدرک حاکم، مسند احمد)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کیا، اس کے شروع میں آپ نے فرمایا:
’’… لوگوں پر نکل آئیں گے۔ پانی پی کر ختم کر دیں گے اور لوگ ان سے بھاگیں گے۔ پھر وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے جو خون میں لت پت ان کے پاس واپس آئے گا۔ اور وہ کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو بھی دبالیا اور آسمان والے پر بھی چڑھائی کر دی۔ ان کا یہ قول ان کے دل کی سختی اور غرور کی وجہ سے ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دیں گے جس سے وہ سب مرجائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! زمین کے جانور ان کا گوشت کھا کر موٹے ہو جائیں گے اور مٹکتے پھریں گے اور ان کا گوشت کھانے پر اللہ تعالیٰ کا خوب شکر ادا کریں گے۔‘‘ (ترمذی ، ابن ماجہ ، مستدرک حاکم)
یاجوج ماجوج کے بارے میں ضعیف روایات
یاجوج ماجوج کے بارے میں آیات بھی آئی ہیں اور بہت ساری احادیث وارد ہوئی ہیں ۔ اور لوگوں کے درمیان ان کے متعلق کچھ کمزور اور ضعیف باتیں اور احادیث بھی مشہور ہیں ۔ جن میں سے کچھ بطورمثال یہاں ذکر کروں گا۔
سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاجوج ماجوج کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے فرمایا:
’’ یاجوج ایک امت ہے، اور ماجوج ایک امت ہے۔ان میں سے ہر ایک امت کی چار لاکھ شاخیں ہیں ۔ ان میں سے کوئی آدمی نہیں مرتا یہاں تک کہ وہ اپنے پیچھے اپنی نسل سے ایک ہزارمرد چھوڑ جاتا ہے ان میں سے ہر ایک اسلحہ لیے ہوتا ہے ۔‘‘
میں نے عرض کیا :یارسول اللہ ! ان کی کچھ صفات بیان فرمائیں ؟
آپ نے فرمایا :’’ یہ تین قسم کے لوگ ہیں ۔ ان میں سے ایک قسم ’’ ارز‘‘ کی طرح ہے۔ میں نے پوچھا : یارسول اللہ! ’’ ارز‘‘ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا: ’’ ارز‘‘ شام کے علاقے میں ایک درخت ہے۔ جس کی بلندی ایک سو بیس ہاتھ (ساٹھ گز) ہوتی ہے۔‘‘
پھر آپ نے فرمایا: ’’ان کے سامنے کوئی حیلہ یا اسلحہ کام نہیں آئے گا اور ان کی ایک قسم ایسی ہے جو ایک کان کو بچھاتے ہیں اور دوسرے کو لحاف کے طور پر اوڑھ لیتے ہیں ۔ ان کا گزر کسی ہاتھی یا وحشی جانور یا اونٹ اور نہ ہی خنزیر پر ہوتا ہے، مگر اسے کھا لیتے ہیں ۔ اوران میں سے جوکوئی مر گیا، اسے بھی کھا لیتے ہیں ۔ ان کا پہلا گروہ شام میں ہوگا اورآخری گروہ خراسان میں ۔ وہ مشرق کی نہریں اور بحیرہ طبریہ کا پانی پی جائیں گے۔‘‘ (طبرانی)
یاجوج ماجوج کی ہلاکت
یاجوج ماجوج عورتیں مرد اور بچے زمین میں قتل و فساد پھیلاتے پھرتے رہیں گے، غرور اور فسق و فجورکی بنا پر حرمتیں پامال کریں گے، ان کا کفر اس حد تک پہنچے گا کہ وہ آسمانوں کی طرف تیر پھینکیں گے، تاکہ وہ آسمان والوں پر بھی ایسے ہی غالب آجائیں جیسے زمین والوں پر غالب آگئے ہیں ۔ ان سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا، سوائے ان لوگوں کے جو قلعہ بند ہوں گے، یا پھر چھپ جائیں گے۔
ان قلعہ بند لوگوں میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی مومنین کا گروہ بھی ہوگا۔ جوکہ بھوک وپیاس اور سختی کے انتہائی حدتک پہنچ چکے ہوں گے۔
اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کریں گے؛ جیساکہ پہلے احادیث میں گزر چکاہے۔پھر اس وقت اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں کیڑا پیدا کریں گے، جس سے وہ سارے یکدم مر جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اونٹ کی گردن جیسے پرندے بھیجیں گے جو یاجوج ماجوج کی لاشوں کواٹھاکر وہاں لے جائیں گے جہاں اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائیں گے جو زمین کودھو کر آئینے کی طرح شفاف کردے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا اپنے پھلوں کواگاؤ اور اپنی برکات کوواپس لاؤ۔
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’یاجوج اور ماجوج کھول دئیے جائیں گے ؛ پھر وہ لوگوں پر نکلیں گے؛ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: ’’اوروہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔‘‘
وہ ساری زمین میں پھیل جائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں چلے جائیں گے، اور وہ اپنے چرانے کے جانور بھی ساتھ لے جائیں گے۔ (یاجوج ماجوج کا یہ حال ہوگا کہ)ان کے لوگ ایک نہر پر سے گزریں گے ؛ اور اس کا سارا پانی پی ڈالیں گے؛ یہاں تک کہ ایک قطرہ پانی کا نہ رہے گا۔ اوریہاں تک کہ جب ان کے بعد والے وہاں سے گزریں گے تو ان میں سے کوئی یہ کہے گا:یہاں پر کبھی پانی ہوا کرتا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک کہے گا اب زمین والوں سے تو ہم فارغ ہوئے(کوئی ہمارا مقابل نہ رہا) اب آسمان والوں سے لڑیں گے۔ آخر ان میں سے ایک اپناحربہ(نیزہ ) آسمان کی طرف پھینکے گا ؛ وہ خون میں رنگا ہوا لوٹ کر گرے گا؛ وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی مار ڈالا۔ خیر یہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ چند جانور بھیجے گا ٹڈی کے کیڑوں کی طرح۔ یہ کیڑے ان کی گردنوں کو کاٹیں گے یا گردن میں گھس جائیں گے۔ جس سے وہ سب یکبارگی مرجائیں گے؛ (ایک پر ایک پڑا ہوگا)اور مسلمان صبح کو اٹھیں گے(اپنے شہروں اور قلعوں میں ) تو ان کی آواز نہیں سنیں گے ؛ وہ کہیں گے :ہم میں سے کون ہے جو اپنی جان پر کھیلے، یعنی اپنی جان کی پروا نہ کرے(اور جا کر دیکھے یاجوج ماجوج کیا کرتے ہیں آخر مسلمانوں میں سے ایک شخص نکلے گا یا قلعہ سے اترے گا ) یہ سمجھ کر کہ وہ مجھ کو ضرور مار ڈالیں گے؛ دیکھے گا تو وہ مردہ ہیں ۔ وہ دوسرے مسلمانوں کو پکارے گا: اے بھائیوخوش ہو جاؤ! تمہارے دشمن مر گئے۔ یہ سن کر سب مسلمان نکلیں گے اور اپنے جانوروں کو چرنے کے لیے چھوڑیں گے۔ (جو مدت سے بیچارے بند ہوں گے) ان کے چرنے کو کچھ بھی نہ ہوگا سوائے یاجوج اور ماجوج کے گوشت کے؛ وہ ان کا گوشت کھا کر خوب موٹے ہوں گے جیسے کبھی کوئی گھاس کھا کر موٹے ہوتے تھے۔‘‘ (ابن ماجہ)
ایک روایت میں حضرت عطیہ عوفی سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’وہ (یاجوج ماجوج) جو کچھ بھی زمین میں ہوگا، سب کو ہلاک کردیں گے سوائے ان لوگوں کے جو قلعہ بند ہوں گے۔جب وہ زمین والوں سے فارغ ہوجائیں گے تو آپس میں ایک دوسرے کی جانب متوجہ ہوں گے؛ اور کہیں گے : بے شک اب وہ لوگ باقی بچے ہیں جو قلعے میں ہیں ، یا پھر جو آسمان میں ہیں ۔ پس وہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے۔وہ تیر خون سے رنگین واپس ان پر گریں گے۔ تووہ کہیں گے: اب تمہیں آسمان والوں سے نجات مل گئی، صرف قلعے والے باقی رہ گئے۔وہ اہل قلعہ کا محاصرہ کرلیں گے، یہاں تک کہ ان پر بہت سخت وقت ِآزمائش آن پڑے گا۔ وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا کردے گا، وہ ان کی گردنوں کو توڑ دیں گے۔ وہ ایک دوسرے پر مرے ہوئے گر پڑیں گے۔ تو (قلعہ میں محصور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے) ایک انسان کہے گا :کعبے کے رب کی قسم !اللہ تعالیٰ نے انہیں مار ڈالا۔ تو وہ کہیں گے : یہ دھوکہ دینے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ تاکہ ہم ان کی طرف نکلیں اور یہ ہمیں بھی ایسے ہلاک کردیں جیسے ہمارے بھائیوں کو ہلا ک کردیا ہے۔وہ آدمی کہے گا: میرے لیے دروازہ کھولو۔ تو اس کے ساتھی کہیں گے : ہم دروازہ نہیں کھولیں گے۔ تو وہ کہے گا: مجھے کوئی رسی دیدو[تاکہ میں اس کے ذریعہ دیوار پھلانگ کر باہر جا سکوں ) جب وہ باہر اترے گا تودیکھے گا کہ وہ سب مردہ پڑے ہیں ۔‘‘
یاجوج ماجوج کے بعد کوئی جنگ نہیں ہوگی
جب اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو ہلاک کردے گا تو مومنین کے علاوہ کوئی بھی باقی نہیں بچے گا۔ اس وقت برکات اور خیرات پھیل جائیں گی۔ ان کے دل بڑے صاف ہوں گے۔ اس کے بعد کوئی لڑائی یا جنگ باقی نہیں رہے گی۔
سیّدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ؛ وہ فرماتے ہیں :’’ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : یارسول اللہ! گھوڑے چھوڑ دیے گئے ہیں اور اسلحہ بھی رکھ دیا گیا ہے، اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اب جنگ نے اپنے ہتھیار رکھ دیے ہیں ‘‘ (یعنی اب جنگ نہیں ہوگی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ انہوں نے جھوٹ بولا، لڑائی و قتال کا وقت اب آیا ہے۔ اور بے شک میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ جہاد کرتا رہے گا؛ اور کوئی مخالفت کرنے والا انہیں ہر گز نقصان نہیں دے سکے گا؛اللہ تعالیٰ ایک قوم کے دل میں ٹیڑھا پن پیدا کردے گا اور ان کو ان سے روزی دے گا؛ وہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔ اور جنگ اپنے ہتھیار نہیں رکھے گی یہاں تک کہ یاجوج ماجوج نکل آئیں ۔‘‘ (معجم الکبیر للطبرانی ، سلسلۃ الصحیحہ :۱۹۳۵)
یاجوج ماجوج کے بعد حج ہوگا
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی ضرور بالضرور بیت اللہ کا حج کیا جائے گا اور عمرہ کیا جائے گا ۔‘‘(بخاری)
کیا کسی نے یاجوج ماجوج کے آگے ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوارکو دیکھا ہے یا دیکھنا ممکن ہے؟
صحابہ میں سے ایک آدمی نے اسے دیکھا ہے۔ امام بخاری نے تعلیقات میں واضح الفاظ میں ذکر کیا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : میں نے ایک رکاوٹ دیکھی ہے، جو کہ چتر دار کپڑے کی طرح، تو آپ نے فرمایا : تم نے اسے دیکھا ہے۔ ‘‘
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ اس حدیث کو ابن ابی عمر نے سعید بن ابی عروبہ سے اور انہوں نے قتادہ سے نقل کرتے ہوئے اور انہوں نے مدینہ منورہ کے آدمی سے نقل کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا ہے۔ اس آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ! میں نے یاجوج ماجوج کی دیوار دیکھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’تم نے اسے کیسے دیکھا ہے ؟ اس آدمی نے عرض کیا : جیسے چتردار چادر جس میں ایک لائن سرخ اور ایک لائن سیاہ ہو۔ آپ نے فرمایا: ’’یقیناً تم نے اسے دیکھا ہے ۔‘‘ (فتح البار ی:۱۰/ ۱۲۹)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس ڈیم اور بادشاہوں کے اس تک پہنچنے کی کوششوں کے قصے ذکر کیے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں :
’’خلیفہ واثق باللہ نے اپنی حکومت کے بعض امراء کو (اس مشن پر) بھیجا اور ان کے ساتھ لشکر بھی تیار کیا ؛ تاکہ وہ اس ڈیم کو دیکھ کر اس کا پتہ لگا سکیں ؛ اور واپسی کے اس کی مواصفات بیان کریں ۔ یہ لشکرشہر در شہر اور ملک در ملک گھومتا رہا ؛ یہاں تک کہ اس ڈیم تک پہنچ گئے اور انہوں نے دیکھا کہ یہ لوہے اور پیتل سے تعمیرہ شدہ دیوار ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس دیوار میں ایک بہت بڑا دروازہ دیکھا، جس پر بہت بڑے تالے لگے ہوئے تھے اور کچھ باقی بچی ہوئی اینٹیں دیکھیں جو اس ڈیم کی تعمیر کرتے ہوئے بچ گئی تھیں ۔ اور اس کے پاس بادشاہوں کی طرف سے مقرر شدہ کچھ اسلحہ بند پہرے دار ہیں ، اور یہ دیوار بہت ہی بلند ہے، جس پر چڑھنا ناممکن ہے اورنہ ہی اس کے آس پاس کے پہاڑوں پر چڑھنا ممکن ہے۔ پھر یہ لوگ واپس اپنے ملک کو آگئے۔ وہ اس سفر کے دوران دو سال کے لیے غائب رہے۔ انہوں نے بہت خوفناک اور حیران کن مناظر دیکھے۔‘‘ (البدایہ و النہایہ: ۷/۱۲۶)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس واقع کی کوئی سند ذکر نہیں کی۔ اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی گفتگو کی ہے۔
کیا دیوار ذوالقرنین کا دیوار چین[1] سے کوئی تعلق ہے ؟
دیوار ذوالقرنین اور دیوار چین کے مابین کئی وجوہات کی بنا پر فرق پایا جاتا ہے :
۱۔ جو دیوار حضرت ذوالقرنین نے تعمیر کی تھی ؛ وہ یاجوج ماجوج کو روکنے کے لیے تعمیر کی تھی ؛ جب کہ دیوار چین چینی حکمرانوں نے اپنی حکومتوں کی حفاظت کے لیے تعمیر کی تھی۔
۲۔ دیوار ذو القرنین آیت کی روشنی میں لوہے اور تانبے سے تعمیر کی گئی ہے۔ جب کہ دیوار چین پتھروں اور اینٹوں سے تعمیر کردہ ہے۔
۳۔ دیوار ذوالقرنین دو پہاڑوں کے درمیان درّے کو بند کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی؛ چونکہ یہی وہ واحد راستہ تھا جہاں سے گزر کر یاجوج ماجوج بیرونی دنیا میں جاتے تھے۔ جب کہ دیوار چین پہاڑی چوٹیوں اور گزر گاہوں پر تعمیر کردہ ہے جو کہ مشرق سے مغرب تک ہزاروں میل پر پھیلی ہوئی ہے۔
۴۔ دیوار ذوالقرنین کو پھاڑنا یا توڑنا ممکن نہیں ، صرف آخری زمانے میں جب اللہ تعالیٰ چاہے گا، تو اس میں سوراخ ہوسکے گا۔ جب کہ دیوار چین کو کئی جگہ سے توڑا گیا ہے، کہیں سے وہ خود گر گئی ہے، اور لوگوں نے بھی اس میں کمی بیشی کردی ہے، اور لوگ اس سے آتے جاتے ہیں ۔
سیٹلائٹ سیارے اس ڈیم کا انکشاف کیوں نہیں کرسکے
زمانے کے ہر ایک ٹھکانے اور اس میں موجود تمام مخلوقات کا پتہ لگانا صرف ایک اللہ کے بس میں ہے۔ جس پر اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا قدرت نہیں رکھتا۔ اللہ ہی ہر چیز کے علم کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
اگر ہم کسی چیز کا پتہ نہ لگاسکیں جیسے دجال کا ٹھکانہ، یاجوج ماجوج کا ڈیم، یا بعض دوسری مخلوقات ؛ تو اس سے مراد ہر گز یہ نہیں ہوسکتی کہ یہ چیزیں موجود ہی نہیں ۔ ایسے بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یاجوج وماجوج اور ان کا ڈیم دیکھنے سے پھیر دیا ہو، یا ان کے مابین کوئی ایسی چیزیں حائل کردی ہوں جن کی موجودگی میں ان تک رسائی ممکن نہ ہو۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو وادی التیہ میں بھٹکا دیا۔ تو وہ چالیس سال تک چند میل کے فاصلے پر بھٹکتے رہے، مگر راستہ نہ پاسکے۔ اور نہ ہی لوگوں کو ان کے بارے میں اطلاع ہوئی، یہاں تک کہ یہ مدت چالیس سال ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے، اور اس نے ہر چیز کے لیے ایک اجل اور وقت مقرر کررکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اور قرآن کو تیری قوم (قریش) نے جھٹلایااور وہ سچ ہے (اے پیغمبر) کہہ دے میں تم پر داروغہ نہیں ہوں ۔(اللہ نے جو خبر دی ہے) ہر خبر کا ایک ٹھہرا ہوا وقت ہے اور اب تم کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
(الانعام: ۶۶۔۶۷)
جس چیز کا انکشاف کرنے سے پہلے لوگ عاجز آگئے تھے، اس کے انکشاف سے بعد والے لوگ بھی عاجز آجائیں گے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے وقت مقرر کیا ہوا ہے۔ آخر میں … قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ یاجوج ماجوج کے بارے میں وارد احادیث اپنی حقیقت کے مطابق خبریں ہیں جن پر ایمان رکھنا واجب ہے۔ اس لیے کہ یاجوج ماجوج کا خروج قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ اوراحادیث میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ ان کی کثرت کی وجہ سے کسی کو ان کے ساتھ جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہوگی۔اور یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ان مومن ساتھیوں کا محاصرہ کریں گے جو دجال کے فتنہ سے بچ گئے ہیں ۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام ان پر بد دعا کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان تمام کو یکدم (ایک کیڑے سے) ہلاک کردے گا۔ پھر زمین میں ان کی بدبو پھیل جائے گی، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے پرندے بھیجے گا جو انہیں اچک کر دوسری کسی جگہ پر پھینک دیں گے۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح)
کیا مسلمانوں پر واجب ہوگا کہ وہ یاجوج ماجوج سے جنگ کریں ؟
سوال :… آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں پر واجب ہو گا کہ وہ یاجوج ماجوج سے جنگ کریں ؟
جواب:… نہیں ۔ جیسا کہ اس سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے:’’ میں نے اپنے ایسے بندوں کو بھیج دیا جن کے ساتھ مقابلہ کی سکت کسی میں بھی نہیں ، تم میرے بندوں کو لے کر طور میں پناہ گزین ہوجاؤ ۔‘‘ (مسلم)