مغولان چنگیزی

بایدو خان ابن طراقائی ابن ہلاکو خان

کیخا توخان کے بعد اس کا چچا زاد بھائی بایدو خان تخت نشین ہوا۔ ۶۹۶ھ میں ارغون آقا اویرات جو قریباً تیس سال تک شاہان مغلیہ کی طرف سے خراسان وغیرہ علاقوں پر حکومت کرتا رہا تھا۔ فوت ہو گیا۔ اس کا بیٹا امیر نوروز بیگ شہزادہ غازان خان ابن ارغون خان ابن ابا قاخان کے پاس چلا گیا۔ اور اس کی مصاحبت میں داخل ہو کر غازان خان کو اسلام کے قبول کرنے کی ترغیب دی۔ غازان خان ان ایّام میں خراسان کا حاکم تھا۔ بایدو خان اور غازان خان میں اس لیے ملال و مخالفت پیدا ہوئی کہ غازان خان اپنے آپ کو زیادہ مستحق سلطنت سمجھتا تھا۔ غازان خان نے امیر نوروز بیگ کی رہبری و ترغیب سے شیخ صدر الدین حموی کو بلا کر ان کے ہاتھ پر دین اسلام قبول کیا۔ اور اسلامی نام محمود خان رکھا۔ غازان خان کے اسلام قبول کرتے ہی بہت سے مغل سرداروں نے دین اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد بایدو خان اور سلطان محمود خان (غازان خان) کے درمیان ناچاقی بڑھتی گئی۔ اور نوبت محاربہ و مقاتلہ تک پہنچی۔