ہجرت کا گیارہواں سال

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی استقامت

سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو وہی باتیں کہتے ہوئے سنا اور ان سے کہا کہ خاموش رہو مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی مطلق پرواہ نہ کی‘ تو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے علیحدہ کھڑے ہو کر مخاطب کیا‘ جس قدر آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع تھے وہ سب ان کو تنہا چھوڑ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے‘ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بعد حمدو ثناء کے فرمایا ’’لوگو! اگر تم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو پوجتے تھے تو محمد صلی اللہ علیہ و سلم تو فوت ہو گئے‘ اور اگر اللہ تعالی کی پرستش کرتے تھے تو اللہ تعالی بے شک زندہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا‘ ’’پھر انہوں نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی۔: {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَ سَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ} (آل عمران : ۳:۱۴۴) ’’اور نہیں تھے محمد صلی اللہ علیہ و سلم مگر رسول‘ ان سے پہلے اور بھی رسول گذر چکے ہیں‘ پس کیا اگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم مر جائیں یا مارے جائیں تو تم لوگ اپنی پرانی حالت کفر کی طرف لوٹ جائو گے‘ اور جو شخص حالت کفر کی طرف لوٹ جائے گا وہ اللہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور عنقریب اللہ تعالیٰ اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کو جزا دے گا۔‘‘ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبان سے قرآن مجید کی ان آیات کا سننا تھا کہ یکایک مجمع سے وہ حیرت کا عالم دور ہو گیا ‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پہلے میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کہنے پر مطلق خیال نہ کیا‘ لیکن جس وقت انہوں نے یہ آیت پڑھی تو مجھ کو یہ معلوم ہوا کہ گویا یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہے‘ مارے خوف کے میرے پائوں تھرا گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا انتقال ہو گیا۔۲؎