دوسری فصل

دولت اسماعیلیہ حشاشین

سیدنا جعفر صادق کے بیٹے موسیٰ کاظم کو اثنا عشری شیعہ امام موصوف کا جانشین اور امام مانتے ہیں‘ لیکن موسیٰ کاظم کے ایک بھائی اسمٰعیل تھے‘ جو لوگ بجائے موسیٰ کاظم کے ان کے بھائی اسمٰعیل کو امام مانتے ہیں وہ شیعہ اسمٰعیلیہ کہلاتے ہیں‘ دولت عبیدیین اسماعیلی شیعوں کی سب سے بڑی سلطنت تھی‘ اسماعیلیوں نے اپنے حصول مقصد کے لیے ہمیشہ پوشیدہ اور خفیہ کاروائیوں اور نہاں درنہاں سازشوں سے کام لیا۔ سلطنت عبیدیہ نے اپنے عقائد اور خیالات کی اشاعت کے لیے شروع ہی سے ایک خفیہ محکمہ قائم کر دیا تھا جس کے ذریعہ داعیوں کو اپنی مملکت میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی بھیجا جاتا تھا‘ یہ داعی و اعظوں‘ درویشوں اور تاجروں وغیرہ کی شکل میں تمام اسلامی ممالک کے اندر پھیلے ہوتے تھے اور لوگوں کو اسماعیلی عقائد کی تعلیم و ترغیب دیتے تھے‘ ان کے کفریہ عقائد قابل نفریں اور نہایت خطرناک تھے‘ قرآن شریف کو یہ لوگ قابل عمل نہیں جانتے تھے‘ اسمٰعیل بن جعفر صادق کو پیغمبر مانتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ہم رتبہ خیال کرتے اور محمد مکتوم بن اسمٰعیل بن جعفر صادق کو بھی نبی یقین کرتے تھے‘ ان کے تردیک اماموں کی تعداد سات تھی‘ بانی دولت عبیدیہ کو ساتواں امام قرار دیتے اور عبیدیہ سلاطین کی فرماں برداری و اطاعت کو ذریعہ نجات ثابت کرتے تھے وغیرہ‘ ان داعیوں کی کوششوں نے سلطنت عبیدیہ کو بہت فائدہ پہنچایا اور اس کی قبولیت کو بڑھایا تھا۔ حسن بن صباح ایک شخص رے کا باشندہ تھا‘ اس کے نسب میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ وہ عربی النسل تھا‘ اس کے آباء و اجداد یمن سے آئے تھے‘ بعض کا قول ہے کہ وہ مجوسی النسل تھا‘۱؎ بہر ۱؎اس نے قلعہ الموت میں اپنی سلطنت قائم کر رکھی تھی۔ اس کے پیروکار حشیشین کہلاتے تھے۔ حشیش کا نشہ ان کی زندگی کا لازمہ تھا۔ بعض نے حسن بن صباح کو عربی النسل یہودی کہا ہے۔ حال حسن بن صباح کے باپ اور اہل خاندان کا عقیدہ شیعی تھا‘ حسن بن صباح نے نیشا پور میں تعلیم پائی تھی‘ وہ عمر خیام اور نظام الملک طوسی وزیراعظم الپ ارسلان و ملک شاہ کا ہم سبق رہ چکا تھا‘ نہایت ذہین اور خود دار شخص تھا۔ مستنصر عبیدی کے زمانہ میں حسن بن صباح مصر پہنچا‘ وہاں اس کی بڑی عزت و تکریم ہوئی‘ سال بھر سے زیادہ عرصہ تک وہ مصر میں شاہی مہمان اور مستنصر کے مصاحب کی حیثیت سے رہا۔ وہاں اس نے عقائد اسمٰعیلیہ سے پوری واقفیت حاصل کر کے مستنصر کے ہاتھ پر بیعت کی اور دولت عبیدیہ کے اعلیٰ درجہ کے داعیوں میں شمار ہوا‘ جب حسن بن صباح اسماعیلی داعی بن کر روانہ ہوا تو اس نے مستنصر سے پوچھا کہ آپ کے بعد کس کے احکام کی تعمیل کروں اور آپ کے بعد میرا امام کون ہو گا‘ مستنصر نے کہا کہ میرے بعد تمھارا امام میرا بیٹا نزار ہو گا‘ چنانچہ اسی وجہ سے حسن بن صباح کی قائم کی ہوئی جماعت کو نزاریہ بھی کہتے ہیں۔ مصر سے عراق و ایران میں واپس آ کر حسن بن صباح نے مختلف شہروں میں تھوڑے تھوڑے دنوں اقامت اختیار کی اور لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانا شروع کیا‘ یہاں پہلے ہی سے اسمٰعیلی داعیوں کی کوشش سے بہت سے شیعہ اور غیر شیعہ اسمٰعیلیہ خیالات کے پیرو ہو چکے تھے‘ اس لیے حسن بن صباح کو بہت جلد بہت سے معاون و مددگار مل گئے۔ ملک شاہ کی طرف سے صوبہ اصفہان و قہستان کا حاکم مہدی علوی تھا‘ حسن بن صباح نے دھوکہ دے کر مہدی علوی سے اپنی عبادت گاہ بنانے کے لیے قلعہ الموت کو خرید لیا‘ اس قلعہ میں بیٹھ کر اس نے ہر قسم کی مضبوطی کر لی اپنے معتقدین کو جمع کر کے اور اردگرد کے جاہل و جنگ جو قبائل میں اپنا اثر قائم کرنے کے بعد اپنی حکومت کی بنیاد قائم کی اور شیخ الجبل کے نام سے مشہور ہوا‘ اس نے بعض عجیب و غریب عقائد و اعمال ایجاد کر کے ان کی تلقین کو لوگوں کی‘ اس نے فدائیوں کا ایک گروہ تیار کیا‘ ان فدائیوں نے بڑے بڑے کام کئے‘ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں‘ وزیروں‘ عالموں کو حسن بن صباح قلعہ الموت میں بیٹھا ہوا اپنے فدائیوں کے ہاتھ سے قتل کرا دیتا تھا‘ حسن بن صباح نے اپنے مشہور داعی کیا بزرگ امید کو اپنا ولی عہد و جانشین بنایا‘ اس کے بعد کیا بزرگ امید کی اولاد میں کئی پشت تک حکومت قائم رہی۔ آخر ۶۲۵ھ میں ہلاکو خاں کے ہاتھ سے اس حکومت کا خاتمہ ہوا‘ یہ سلطنت جو حسن بن صباح نے قائم کی تھی قہستان میں ۴۸۳ھ تک‘ پونے دو سو سال تک قائم رہی‘ اس اسمٰعیلی حکومت کی دھاک ساری دنیا میں بیٹھی ہوئی تھی‘ اور بڑے بڑے شہنشاہ فدائیوں سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ ہمشیہ دھوکے اور دشمن کو تنہا پا کر اچانک حملہ کرتے تھے۔