اندلس میں اسلامی حکومت

عیسائی جنرل تدمیر کا پہلا حملہ اور شکست

شاہ لرزیق کا سپہ سالار تدمیر ایک زبردست فوج لئے ہوئے اسی نواح میں اتفاقاً موجود تھا طارق کے ہمراہی ابھی پورے طور پر اپنے حواس بجا کرنے بھی نہ پائے تھے کہ تدمیر نے ان نووارد کی خبر سن کر ان پر حملہ کیا‘ تدمیر ایک نہایت تجربہ کار اور مشہور سپہ سالار تھا‘ وہ بہت سے معرکوں میں ناموری حاصل کر چکا تھا‘ تدمیر نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ حملہ کیا‘ مگر طارق نے اس کو شکست دے کر بھگا دیا‘ تدمیر نے طارق سے شکست کھا کر اور ایک محفوظ مقام میں پہنچ کر بادشاہ لرزیق کو اطلاع دی کہ: اے بادشاہ! ہمارے ملک پر ایک غیر قوم نے حملہ کیا ہے‘ میں نے ان لوگوں کا مقابلہ کیا اور پوری ہمت و شجاعت سے کام لیا‘ لیکن مجھ کو اپنی کوششوں میں ناکامی ہوئی اور میری فوج ان لوگوں کے مقابلہ میں قائم نہ رہ سکی‘ ضرورت ہے کہ آپ بہ نفس نفیس زبردست فوج اور پوری طاقت کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوں‘ میں نہیں جانتا کہ یہ حملہ آور لوگ کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ آیا آسمان سے اترے ہیں یا زمین سے نکل آئے ہیں؟‘‘