Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 101

  1. رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ﴿101﴾

    1. رَبِّاے میرے رب
    2. قَدْ اٰتَيْتَنِيْتونے مجھے عطا کیا
    3. مِنَسے۔ ایک
    4. الْمُلْكِملک
    5. وَعَلَّمْتَنِيْاور مجھے سکھایا
    6. مِنْسے
    7. تَاْوِيْلِانجام نکالنا (تعبیر)
    8. الْاَحَادِيْثِباتیں (خواب)
    9. فَاطِرَپیدا کرنے والا
    10. السَّمٰوٰتِآسمان (جمع)
    11. وَالْاَرْضِاور زمین
    12. اَنْتَتو
    13. وَلِيّٖمیرا کارساز
    14. فِي الدُّنْيَادنیا میں
    15. وَالْاٰخِرَةِآخرت
    16. تَوَفَّنِيْمجھے اٹھا
    17. مُسْلِمًافرمانبرداری کی حالت میں
    18. وَّاَلْحِقْنِيْاور مجھے ملا
    19. بِالصّٰلِحِيْنَصالح (نیک بندوں) کے ساتھ
Translation · Baseerat-e-Quran
اے میرے رب آپ نے مجھے سلطنت عطا کی اور مجھے باتوں کی گہرائی تک پہنچنے کی اہلیت عطا کی اے آسمان اور زمین کے بنانے والے آپ ہی اس دنیا اور آخرت میں میرے کار ساز ہیں آپ مجھے اپنی فرماں برداری میں اس دنیا سے اٹھائیے گا اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرمائیے گا۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات آیت نمبر 101 تا 104 اتیتنی تو نے مجھے دیا الملک سلطن، حکومت علمتنی تو نے مجھے سکھایا الاحادیث باتیں، خواب فاطر پیدا کرنے والا ، بنانے والا ولی میرا مالک، میرا حمایتی توفنی تو نے مجھے وفات دی، اٹھایا الحقنی مجھے ملا دے، مجھے شامل رکھئے گا انباء خبریں لدیھم ان کے پاس اجمعوا انہوں نے جمع کیا یمکرون وہ تدبیریں کرتے ہیں حرصت تو نے لالچ کیا، تو نے خواہش کی ماتسئل تو نہیں مانگتا اجر اجرت، بدلہ ذکر دھیان دینے کی چیزیں تشریح آیت نمبر 101 تا 104 قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرم علہیم السلام کو دنیاوی اور علمی اعتابر سے کتنا ہی عروج اور رتبہ میں بلندی نصیب ہوجائے وہ اپنے علم اور کمالات پر نہ تو فخر کرتے ہیں اور نہ اس کی نسبت اپنی طرف کرتے ہیں۔ سورة یوسف کی ان آخری آیات میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو جو بھی عروج اور ترقی عطا فرمائی تھی وہ اس پر فخر کرنے کے بجائے شکر کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ اے اللہ ! آپ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے سلطنت عطا فرمائی اور آپ نے مجھے باتوں کی گہرائی اور خواب کی تعبیر جیسا علم عطا فرمایا ہے اور درخواست کرتے ہیں کہ اے آسمان و زمین کے خالق ومالک دنیا اور آخرت میں آپ ہی میرے کار ساز ہیں۔ آپ مجھے اپنی فرماں برداری میں اس دنیا سے اٹھائیے گا اور مجھے صالحین میں اٹھائیے گا۔ اگر غور کیا جائے تو حضرت یوسف نبوت کے مقام پر ہونے کے باوجود نہایت عاجزی و انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ سنت انبیاء یہی ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ مقام کے باوجود اپنے آپ کو اللہ کا محتاج سمجھنا، اسی کو اپنا کار ساز اور حاجت روا ماننا اور ہر آن اسی کی بارگاہ میں جھکے رہنا ان کی شان ہے کیونکہ اللہ ہی سب کا حاجت روا اور سب کی سننے والا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت یوسف اس کے باوجود کہ آپ کو اپنے سوتیلے بھائیوں سے سخت اذیتیں پہنچیں لیکن آپ ان کو شرمندہ کرنے کے بجائے اس فعل کو شیطان کی طرف منسوب کر رہے ہیں کہ یہ سب کام شیطان کا ہے جس نے ہم بھائیوں کے درمیان غلط فہمیوں کو پیدا کیا یعنی اپنے بھائیوں کے لئے ایک بھی حرف شکایت زبان پر نہیں لا رہے ہیں۔ یہ بھی اخلاق کا ایک اعلیٰ ترین درجہ ہے ۔ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ چاہتے تو ان کفار مکہ کو جنہوں نے ہر طرح سے کے ظلم و ستم کئے تھے ان کو قتل کرنے، ان کی جائیدادوں کو ضبط کرنے، ان کو اور ان کے بیوی بچوں کو غلام بنانے کے احکامات جاری فرما سکتے تھے، کم از کم ان کے ظلم و ستم پر ان کو شرمندہ کرسکتے تھے اس کے برخلاف آپ نے بغیر کچھ کہے ہوئے سب کو معاف فرما دیا اور کسی سے کوئی شکایت نہیں فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نبی کریم ﷺ اور انبیاء کرام جیسے عظیم اخلاق عطا فرمائے، آمین ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ اے نبی حضرت یوسف کا واقعہ اور حقائق یہ سب کے سب وہم وحی کے ذریعہ آپ کو بتا رہے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ کون کیا کر رہا تھا۔ فرمایا کہ اے نبی ! اس کے باوجود آپ نے کفار مکہ کو حضرت یوسف کا واقعہ سنا دیا ہے اور آپ کی شدید خواہش ہے کہ اب کفار مکہ ایمان لے آئیں اور اس میں آپ کی کوئی ذاتی غرض بھی نہیں ہے نہ آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ یا بدلہ مانگ رہے ہیں لیکن یہ اللہ کا نظام ہے کہ وہ ان کو ہدایت دے یا نہ دے آپ کا کام پورا ہوچکا آپ نے تمام اہل جہان کو اللہ کے دین کا پیغام پہنچا دیا ان کو آگاہ کردیا کہ اگر اب بھی وہ ایمان نہیں لاتے تو یہ ان کی بدنصیبی ہے۔