Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 105

  1. وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ﴿105﴾

    1. وَكَاَيِّنْاور کتنی ہی
    2. مِّنْ اٰيَةٍنشانیاں
    3. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    4. وَالْاَرْضِاور زمین
    5. يَمُرُّوْنَوہ گزرتے ہیں
    6. عَلَيْهَاان پر
    7. وَهُمْلیکن وہ
    8. عَنْهَااس سے
    9. مُعْرِضُوْنَمنہ پھیرنے والے
Translation · Baseerat-e-Quran
اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن کے اوپر سے وہ گذرتے ہیں لیکن ان پر دھیان نہیں دیتے
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 105 تا 108 کاین کتنے ہی کتنی ہی، ایۃ نشانی یمرون وہ گذرتے ہیں معرضون وہ منہ پھیرنے والے ہیں ان تاتی یہ کہ آجائے غاشیۃ ڈھانپ لینے والی ، آفت الساعۃ قیامت، گھڑی بغتہ اچانک لایشعرون وہ شعور نہیں رکھتے ہیں سبیلی میرا راستہ ادعوا میں بلاتا ہوا بصیرۃ دیکھ بھال کر، غور و فکر انا میں اتبعنی میری اتباع کی، میرے پیچھے چلے سبحن پاک ذات، بےعیب ذات تشریح آیت نمبر 105 تا 108 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ہر انسان کو غور و فکر اور تدبر کرنے پر زور دے کر فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے کائنات میں قدم قدم پر اپنی اتنی نشانیاں بکھیر دی ہیں کہ اگر انسان ان پر ذرا بھی غور کرے تو اللہ کی ذات وصفات کا ماننا نہایت آسان ہوجائے گا اور ہر طرح کی الجھن دور ہوجائے گی۔ انسان دن رات ان نشانیوں کو دیکھتا ہے ان نشانیوں کے درمیان رہتا ہے، ان کے اوپر سے گذرتا ہے مگر ان پر دھیان نہیں دیتا، چاند سورج کی گردش، وسیع آسمان، چمکتے ستارے ، چاروں طرف پھیلی ہوئی زمین، ہوائیں، فضائیں، فضا میں تیرتے ہوئے بادل، اڑتے پرندے، اونچے اونچے پہاڑ، دریا، سرسبز و شاداب درخت ، لہلہاتے ہوئے کھیت، ہر رنگ اور مزے کے میوے، غلے، اناج، خود انسان کا وجود، کائنات کی مخلوق کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں، دماغی سربلندیاں اور ہزاروں صلاحیتیں اللہ نے انسان کو عطا کی ہیں اگر کچھ دیر اس بات پر غور کر کے اتنے بڑے جہان کو چلانے والی یقینا کوئی ذات ہے ورنہ اپنے اختیار سے تو ایک تنکا بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔ خالصہ یہ ہے کہ اللہ نے ہر طرف ہزاروں نشانیاں بکھیر دی ہیں جن کی موجودگی میں کسی دلیل کی بھی ضرورت نہیں ہے، انسان غور و فکر کرے گا تو اس کائنات کے ذرہ ذرہ سے درس توحید مل جائے گا۔ کفار مکہ جس طرح نبوت کے منکر تھے اسی طرح وہ منکرین توحید بھی تھے او اس بات کا مطالبہ کرتے تھے کہ ہم اس وقت تک اللہ کو نہیں مان سکتے جب تک آپ ہمیں کوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی توحید کی گواہی دے رہا ہے صرف غور و فکر کرنے کی رورت ہے ان انشانیوں کے باوجود آخر وہ کس نشانی کی بات کرتے ہیں۔ جس کو سچائی کی حقیقت کو ماننا ہے وہ ہر طرح من لیتا ہے لیکن جس نے ضد، ہٹ دھرمی اور کفر و شرک پر جمنے کا فیصلہ کرلیا ہو اس کو سوائے اللہ کے اور کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ فرمایا کہ اے نبی ! آپ ان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کردیجیے کہ وہ اللہ کی نشانیوں پر غور فکر کریں اور حس نعملی کی طرف آئیں۔ یہی چیز ان کے کام آنے والی ہے لیکن اگر وہ کفار اپنی ضد پر اپڑے رہتے ہیں تو ان کو گزشتہ قوموں کا وہ بھیانک انجام سامنے رکھنا چائے کہ جب وہ نافرمان لوگ رات کو گہری اور بدمست نیند کے مزے لے رہے تھے اس وقت ان پر شدید عذاب آیا اور ان کو دنیا سے مٹا دیا گیا۔ نافرمانی کی وجہ سے ان کے بڑے بڑے محل، تجارتیں، عمارتیں اور تہذیب و تمدن کام آیا اور نہ کوئی ان کو عذاب الٰہی سے بچانے آیا۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اب بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان پر پچھلی قوموں کی طرح اچانک کوئی آفت یا اچانک عذاب آسکتا ہے اور یہ عذاب بھی اس قدر خاموشی سے آئے گا کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور اللہ ان کے نیچے سے زمین کو کھینچ لے گا۔ فرمایا کہ اے نبی ؐ آپ بالکل وضاحت سے کہہ دیجیے کہ سچی بات بتانا ہے اور برے انجام سے ڈرانا یہ میرا کام تھا، میں اور میرے ماننے والے اسی راستے پر ہیں جو ہمیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے کفر و شرک کی ہر ادا اور انداز سے ہمیں نفرت ہے لہٰذا جو شخص بھی اللہ کے حکم کی تعمیل میں زندگی گذارے گا کامیاب و بامراد ہوگا لیکن جس نے اللہ کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا ہو سکتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت اللہ کے عذاب کا شکار ہوجائے اور اس کو بچانے والا کوئی نہ ہو۔ فرمایا اے نبی ﷺ آپ اس بات کا اعلان کردیجیے کہ اللہ کی ذات ہر اس شرک سے پاک ہے جو انسانوں نے اس کے ساتھ شریک کر رکھے ہیں، میں اور میرے ماننے والے سب توحید خالص پر ہیں اور ہر طرح کے کفر و شرک سے دور ہیں۔