Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 109

  1. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿109﴾

    1. وَاور
    2. مَآ اَرْسَلْنَاہم نے نہیں بھیجا
    3. مِنْ قَبْلِكَتم سے پہلے
    4. اِلَّامگر۔ صرف
    5. رِجَالًامرد
    6. نُّوْحِيْٓہم وحی بھیجتے تھے
    7. اِلَيْهِمْان کی طرف
    8. مِّنْسے
    9. اَهْلِ الْقُرٰىبستیوں والے
    10. اَکیا
    11. فَلَمْ يَسِيْرُوْاپس انہوں نے سیر نہیں کی
    12. فِي الْاَرْضِزمین (ملک) میں
    13. فَيَنْظُرُوْاپس وہ دیکھتے
    14. كَيْفَکیسا۔ کیا
    15. كَانَہوا
    16. عَاقِبَةُانجام
    17. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    18. مِنْ قَبْلِهِمْان سے پہلے
    19. وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِاور البتہ آخرت کا گھر
    20. خَيْرٌبہتر
    21. لِّلَّذِيْنَان کے لیے جو
    22. اتَّقَوْاانہوں نے پرہیز کیا
    23. اَفَلَا تَعْقِلُوْنَپس کیا تم سمجھتے نہیں
Translation · Baseerat-e-Quran
(اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے ہیں وہ سب کے سب مرد ہی تھے۔ جو ان ہی بستیوں کے رہنے والے تھے جن کی طرف ہم نے وحی کی ہے۔ کیا پھر وہ زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ ان سے پہلے (نافرمان) لوگوں کا انجام کیا ہوا اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ کیا پھر بھی وہ نہیں سمجھتے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 109 تا 110 ما ارسلنا ہم نے نہیں بھیجا رجال (رجل) مرد اھل القریٰ بستیوں والے لم یسیروا وہ نہیں چلے پھرے کیف کان کیسے تھے عاقبۃ انجام قبل پہلے الدارالاخرۃ آخرت کا گھر استیئس مایوس ہوگیا۔ ہوگئے الرسل (رسول) رسول ، پیغمبر ظنوا انہوں نے سمجھ لیا۔ گمان کیا قدکذبوا وہ یقینا جھٹلائے گئے نصرنا ہماری مدد فنجی پس ہم نجات دیتے ہیں لا یرد نہیں ہٹتا، نہیں ٹلتا باسنا ہمارا عذاب المجرمین جرم کرنے والے تشریح : آیت نمبر 109 تا 110 قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مشرکین نے آخری بات یہی کی ہے کہ یہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ایک ایسا شخص جو ہماری طرح ہے، ہماری طرح زندگی کے تقاضے رکھتا ہے وہ شادی کرتا ہے، اس کے بچے ہوتے ہیں، وہ کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں بھی آتا اور جاتا ہے وہ اللہ کا نبی کیسے ہو سکتا ہے۔ اللہ کا نبی تو اس کو ہونا چاہئے جو عام انسانوں کی طرح نہ ہو، اس کے ساتھ فرشتے ہوں، اس کے پاس خزانے ہوں اور وہ دنیاوی تقاضوں کا محتاج نہ ہو۔ قرآن کریم میں ہر جگہ اس کا ایک ہی جواب دیا گیا ہے کہ تمام انبیاء اور رسول انسان ہی ہوتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے جو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجے گئے سچائی کے اصولوں کو پیش کرتے ہیں۔ جو ان کی بات مان لیتے ہیں ان کو نجات دیدی جاتی ہے اور جو نہیں مانتے ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ اگر و ہ لوگ ان کھنڈرات کو دیکھیں جو دنیا کی عظیم ترین قوموں کے آثار ہیں کہ جب انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی تب ان پر عذاب نازل کیا گیا اور ان کے مال و دولت اونچی بلڈنگیں اور ترقیات ان کے کام نہ آسکیں۔ فرمایا کہ ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو آج بھی نافرمان قوموں کے ٹوٹے پھوٹے ویران مکانات کھنڈرات کی شکل میں موجود ہیں۔ اللہ نے انسان کو دنیاوی ترقیات سے نہیں روکا بلکہ عقل و فکر اور جسمانی محنتوں کے بدلے میں سب کچھ عطا کیا لیکن جب وہ اپنے خالق ومالک کو بھول گئے اور تکبر اور غرور کا وہ راستہ اختیار کرلیا جس میں اللہ کے رسولوں کا کہنا بھی ان کو گوارہ نہیں ہوا اور ان انبیاء کرام نے اس بات کو محسوس کرلیا کہ ہماری قوم ہماری بات کو مذاق میں اڑا رہی ہے اور اللہ کو اس طرح بھول گئی ہے کہ اس کے نزدیک اللہ کی تعلیمات بےحقیقت بن کر رہ گئی ہیں تو انبیاء کرام اللہ کی بارگاہ میں اپنی مایوسی اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں تب اللہ جس طرح چاہتا ہے اس قوم پر عذاب نازل کرتا ہے اور مجرموں کی ساری قوتیں اور طاقتیں مل کر بھی اس عذاب اور اللہ کے غصے کو ٹالنا بھی چاہیں تو ٹال نہیں سکتیں۔ یہی اللہ کا دستور ہے اور سنت اللہ ہے۔