بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 36
وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿36﴾
- وَدَخَلَاور داخل ہوئے
- مَعَهُاس کے ساتھ
- السِّجْنَقید خانہ
- فَتَيٰنِدوجوان
- قَالَکہا
- اَحَدُهُمَآان میں سے ایک
- اِنِّىْٓبیشک
- اَرٰىنِيْٓبیشک میں دیکھتا ہوں
- اَعْصِرُنچوڑ رہا ہوں
- خَمْرًاشراب
- وَقَالَاور کہا
- الْاٰخَرُدوسرا
- اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓمیں دیکھتا ہوں
- اَحْمِلُاٹھائے ہوئے ہوں
- فَوْقَاوپر
- رَاْسِيْاپنا سر
- خُبْزًاروٹی
- تَاْكُلُکھا رہے ہیں
- الطَّيْرُپرندے
- مِنْهُاس سے
- نَبِّئْنَاہمیں بتلائیے
- بِتَاْوِيْلِهٖاس کی تعبیر
- اِنَّا نَرٰىكَبیشک ہم تجھے دیکھتے ہیں
- مِنَسے
- الْمُحْسِنِيْنَنیکو کار (جمع)
Translation · Baseerat-e-Quran
اور اس کے ساتھ دونوجوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا میں نے (خواب میں دیکھا ہے کہ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا میں (خواب میں) دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں اور اس سے پرندے کھا رہے ہیں۔ (اے یوسف) ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دیئے۔ بیشک ہم آپ کو نیک لوگوں میں سے سمجھتے ہیں
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 40
دخل داخل ہوا فتین (فتی) دونوجوان احدھما ان دونوں میں سے ایک اعصر میں نچوڑ رہا ہوں خمر شراب احمل میں اٹھاتا ہوں راسی اپنا سر خبز روٹی تاکل الطیر پرندے کھا رہے ہیں نبئنا ہمیں بتا دے تاویلہ اس کی تعبیر لا یا تیکما تم دونوں کے پاس نہیں آئے گا ترزقنہ جو رقز تمہیں دیا جاتا ہے نبات میں بتا دوں گا علمنی اس نے مجھے سکھایا ترکت میں نے چھوڑا ملۃ ملت، طریقہ یصاحبی اے میرے دونوں ساتھیوں ارباب (رب) ، مختلف پروردگار القھار زبردست اسماء نام سمیتموا تم نے نام رکھے سلطن کوئی دلیل، کوئی سند، ایاہ اسی کی القیم سیدھا، سچا
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40
بے گناہی کے باوجود جب حضرت یوسف کو نامعلوم مدت تک قید کردیا گیا تھا۔ اس دوران حضرت یوسف کا قید کے ساتھیوں کے ساتھ طرز عمل نہایت عالیٰ اور بےمثال تھا۔ حضرت یوسف تمام قیدیوں کی مزاج پرسی کرتے۔ اگر کوئی بیمار ہوجاتا تو اس کی عیادت فرماتے، کسی کو پریشان حال دیکھتے تو اس کو تسلی دیتے اور صبر و تحمل کی تلقین فرماتے۔ غرضیکہ آپ کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ نہایت دوستانہ ہوتا جس سے تمام قیدیوں میں حضرت یوسف کی عزت اور احترام اور ان کے علم وتقویٰ کا بہترین اثر مرتب ہونا شروع ہوگیا۔ اسی دوران دو نئے قیدی لائے گئے جو بادشاہ کو کھانا کھلانے اور خدمت پر مامور تھے دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے کھانے پینے میں زہر ملا کر بادشاہ کو ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دونوں کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری تھا۔ دونوں قیدیوں نے ایک ایک خواب دیکھا حضرت یوسف کے علم وتقویٰ کی بنا پر دونوں نے ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی ایک نے خواب میں یہ دیکھا تھا کہ وہ بادشاہ کے لئے شراب نچوڑ رہا ہے۔ دوسرے نے بتایا کہ وہ اپنے سر پر روٹیوں کا ٹو کرا رکھے ہوئے ہے اور اس سے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ ان دونوں نے درخواست کی کہ اے یوسف ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دیجیے جو آپ جیسے نیکو کار ہی بتا سکتے ہیں۔ حضرت یوسف فوراً ہی جواب دے سکتے تھے لیکن آپ نے فرمایا کہ اس سے پہلے کہ تمہارا کھانا تمہارے سامنے لایا جائے میں تمہیں اس مختصر مدت میں ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ ان خوابوں کی تعبیر اللہ نے مجھے سکھائی ہے لیکن میں سب سے پہلے تمہیں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں نے ایک ایسی قوم کو چھوڑا ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتی تھی بلکہ وہ کفر میں مبتلا تھی۔ لیکن میں نے اپنے باپ دادا کے دین کو اختیار کیا ہے۔ یہ وہی دین ہے جس پر حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب چلتے تھے اور وہ یہ تھا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں کیونکہ اللہ نے ہم سب پر اور تمام لوگوں پر فضل و کرم فرمایا ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ حضرت یوسف نے فرمایا کہ اے میرے قید کے ساتھیو ! یہ بتاؤ کہ وہ اللہ جو ایک ہے اور ساری قوتوں کا مالک ہے وہ بہتر ہے یا وہ جو تم نے بہت سے معبود بنا رکھے ہیں۔ محض کچھ نام ہیں جو تم نے رکھ چھوڑے ہیں جن کی کوئی مضبوط دلیل بھی موجود نہیں ہے۔ دلیل اور حکم تو اس اللہ کے پاس سے جس کا کائنات کے ذرے ذرے پر حکم چلتا ہے جس نے تمہیں اس بات کا کا حکم دیا ہے کہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرو۔ فرمایا کہ یہی سچا دین ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔
حضرت یوسف نے اس کے بعد دونوں قیدیوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتا دی جو اسی طرح ہو کر رہی۔ اس کی تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہے۔
ان آیات کے سلسلے میں چند باتیں عرض ہیں تاکہ ان آیات کا مفہوم پوری طرح سمجھ میں آسکے :
1) پریشانیوں کے باوجود اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کو برے حالات میں تسلی دینا سنت پیغمبری ہے۔ جس طرح حضرت یوسف نے اپنے قید کے ساتھیوں سے اچھا اور بہتر معاملہ فرمایا۔ نبی کریم ﷺ بھی ہر موقع اور ہر مشکل وقت میں صحابہ کرام کی ہمت بڑھاتے اور نہایت سادگی کے ساتھ حسن سلوک فرمایا کرتے تھے۔
2) اگر حضرت یوسف چاہتے تو دونوں قیدیوں کے خوابوں کی تعبیر اسی وقت بتا سکتے تھے لیکن آپ نے اس موقع پر فوراً تعبیر بتانے کے بجائے پہلے اللہ کی وحدانیت اور دین اسلام کی سچائی کو بتاتے ہوئے کفر اور بتوں کی مذمت کی ہے تاکہ ہر شخص اس بات کو جان لے کہ انسان کی اصل کامیابی اللہ کو ماننے میں ہے
وہی شخص کامیاب ہے جس نے اللہ کے پیغمبروں کا راستہ اختیار کر کے صراط مستقیم پر چلنا سیکھ لیا ہے۔ وہ شخص ہزار کامیابیوں کے باوجود ناکام ہے جس نے اللہ کا راستہ چھوڑ کر غیر اللہ کا راستہ اختیار کرلیا۔
3) حضرت یوسف نے اس پور عرصہ میں کسی پر یہ ظاہر نہیں فرمایا کہ وہ کون ہیں اور ان کا رشتہ کن انبیاء کرام سے وابستہ ہے لیکن اچانک آپ کا یہ فرمانا میں ایک ایسی قوم کو چھوڑ کر آیا ہوں جو اللہ کی نافرمان تھی یقینا یہ سب کچھ آپ کو وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہوگا۔ چونکہ حضرت یوسف تو اس وقت اندھے کنوئیں میں پھینکے گئے تھے جو وہ بہت معصوم اور چھوٹے سے تھے۔