بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 62
وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿62﴾
- وَقَالَاور اس نے کہا
- لِفِتْيٰنِهِاپنے خدمتگاروں کو
- اجْعَلُوْااور تم رکھدو
- بِضَاعَتَهُمْان کی پونجی
- فِيْ رِحَالِهِمْان کے بوروں میں
- لَعَلَّهُمْشاید وہ
- يَعْرِفُوْنَهَآاس کو معلوم کرلیں
- اِذَا انْقَلَبُوْٓاجب وہ لوٹیں
- اِلٰٓىطرف
- اَهْلِهِمْاپنے لوگ
- لَعَلَّهُمْشاید وہ
- يَرْجِعُوْنَپھر آجائیں
Translation · Baseerat-e-Quran
اور اس نے (یوسف نے ) اپنے خدمت گزاروں سے کہا کہ ان لوگوں نے غلہ کے بدلہ میں جو مال دیا ہے اس کو ان کے سامان میں رکھ دو تاکہ جب وہ گھر لوٹیں تو اس کو پہچان لیں۔ شاید وہ پھر لوٹ آئیں۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 66
(فتین نوجوان، خدمت کرنے والے) ( اجعلوا ڈالد و، کرو) ( بضاعۃ سامان، پونجی) ( رحال اسباب، سامان، کجاوا ) ( یعرفون وہ پہچانتے ہیں) ( انقلبوا وہ پلٹے اھل گھر والے) ( رجعوا وہ لوٹے) ( منع منع کردیا گیا ) (نکتل ہم ماپ لیں گے، ماپ کر لائیں گے) ( امن میں بھروسہ کروں گا ) (خیر بہترین) ( حافظ حفاظت کرنے والا) ( ارحم بہت رحم کرنے والا ) (فتحوا انہوں نے کھولا) ( متاع سامان) (وجدوا انہوں نے پایا ) (ردت لوٹا دیا گیا) ( مانبغی ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ) ( نمیر (میر) مدد لائیں، گھر والوں کے لئے سامان لانا) ( نزداد ہم اضافہ کریں گے، زیادہ لائیں گے) ( بعیر اونٹ ) (کیل یسیر آسان بوجھ ) (موثق پکا وعدہ، پختہ قول ) (ان یحاط یہ کہ گھیر لیا جائے) ( وکیل کام بنانے والا، نگراں )
تشریح : آیت نمبر 62 تا 66
حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا لیکن کسی مصلحت یا اللہ کے حکم سے آپ اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اور یہ بھی چاہتے تھے کہ ان کے بھائی دوبارہ آئیں تاکہ یہ سلسلہ ختم نہ ہونے پائے۔ حضرت یوسف نے اپنے ملازمین سے یہ کہا کہ وہ تمام قیمت یا چیزیں جو غلہ کے بدلے میں دی گئیں ہیں واپس ان کے سامان میں رکھ دیں تاکہ وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ بادشاہ ان پر مہربان ہے اور وہ ان کے لئے اپنے دل میں احسان اور نیکی کرنے کا جذبہ رکھتا ہے، ممکن ہے حضرت یوسف کے بھائیوں نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا تھا اس کا بدلہ بھالئی سے دینا چاہتے ہوں۔ بہرحال ان تمام کارروائیوں کا مقصد یہ تھا کہ یہ بھائی دوبارہ آئیں اور ان کو بادشاہ متاثر کرسکے۔ چناچہ جب یہ بھائی واپس کنعان پہنچے اور اپنے غلہ میں تمام ان چیزوں کو دیکھا جو قیمت کے طور پر بادشاہ کی خدمت میں پیش کی گئی تھیں تو وہ نہ صرف حیران رہ گئے بلکہ بادشاہ کی عنایتوں کے اور بھی قائل ہوگئے۔ انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب سے بادشاہ کی مہربانیوں اور بہترین اخلاق کی بہت تعریف کی جس سے حضرت یعقوب نے ان کو ڈھیروں دعائیں دیں اور بےانتہا خوش ہوئی۔ برادران یوسف نے والد صاحب کی خدمت میں وہ پوری تفصیل بھی بتائی جو بادشاہ نے ان سے کہی تھی کہ اگر آئندہ آتے وقت تم اپنے گیارہویں بھائی کو ساتھ نہیں لائے تو تم خود بھی یہاں مت آنا اور تمہارے ساتھ کوئی مہربانی کا معاملہ نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہم پر مکمل بھروسہ کیجیے ہم بن یا مین کی پوری طرح حفاظت و نگرانی کریں گے۔
حضرت یعقوب نے فرمایا کہ کیا میں تمہارے اوپر اس طرح بھروسہ کروں جس طرح یوسف کے بارے میں کیا تھا، حفاظت کے وعدوں کے باوجود تم اس کی حفاظت نہ کرسکے۔ میں تمہارے اوپر اعتماد اور بھروسہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے بادشاہ مصر کی مہربانیوں کا کر کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ہماری وہ تمام پونچی اور قیمت واپس کردی ہے اس سے کوئی نقصان پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت یعقوب کو جب تمام بھائیوں نے پکی قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلایا کہ وہ اپنی جان سے زیادہ بن یا مین کی حفاظت کریں گے تب حضرت یعقوب نے بن یا مین کو ساتھ لے جانے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ میں اصلی بھروسہ اس سب سے زیادہ مہربان اللہ پر کرتا ہوں جو سب سے زیادہ اور بہتر حفاظت کرنے والا ہے۔ اس طرح انہوں نے اپنے بیٹوں کے ساتھ اپنے گیارہویں بیٹے بن یا مین کو جانے کی اجازت دیدی اور یہ نصیحت فرمائی کہ تم سب بھائی الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا ایک ہی دروازے سے مت جانا اس کی تفصیل اگلی آیات میں ارشادات فرمائی گئی ہے۔