Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 7

  1. لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ﴿7﴾

    1. لَقَدْ كَانَبیشک میں
    2. فِيْمیں
    3. يُوْسُفَیوسف
    4. وَاِخْوَتِهٖٓاور اس کے بھائی
    5. اٰيٰتٌنشانیاں
    6. لِّلسَّآئِلِيْنَپوچھنے والوں کے لیے
Translation · Baseerat-e-Quran
یقینا یوسف اور اس کے بھائیوں کے (واقعہ میں) پوچھنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 01 کان (ہے۔ تھا) السائلین (پوچھنے والے) احب (زیادہ محبوب ہے) عصبۃ (جماعت۔ قوت) ضلل (گمراہ۔ بھٹکنا) اقتلوا (قتل کردو) اطرحوا (ڈال دو ۔ پھینک دو ) یخل (خاص ہوجائے۔ خالی ہوجائے) وجھ (چہرہ) قائل (کہنے والا) القوہ (اس کو ڈال آؤ) غیبت (گہرا۔ اندھا) الجب (کنواں) یلتقت (اٹھا لے گا) السیارۃ (قافلہ) فعلین (کرنے والے) تشریح آیت نمبر 7 تا 01 دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ اور دنیا کے دوسرے لوگوں کا رویہ بڑا مختلف ہوتا ہے۔ لوگ دنیا میں اس شخص کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو طاقت ور ہوتے ہیں لیکن ماں باپ اولاد میں سے ان بچوں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں جو چھوٹے اور کمزور ہوں۔ حضرت یعقوب کے گھرانے میں بھی یہی فرق تھا۔ حضرت یعقوب نے سب سے پہلے حضرت لیا سے شادی کی جن کے بطن سے دس اولاد پیدا ہوئی حضرت لیا کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب نے دوسری شادی کی جن سے حضرت یوسف اور ان کے چھوٹے بھائی بن یا مین پیدا ہوئے حضرت یعقوب کے دس بڑے بیٹے نہایت تنومند اور لمبے چوڑے تھے اور جوان ہوچکے تھے جب کہ حضرت یوسف اور بن یا مین بہت چھوٹے تھے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا کہ ماں باپ کو ساری اولاد سے یکساں پیار ہوتا ہے مگر چھوٹے اور کمزور بچوں سے قدرتی لگاؤ ہوتا ہے جس کو دوسرے بھائی یہ محسوس کرتے ہیں کہ شاید ہمارے والد ہم سے محبت نہیں کرتے اور چھوٹے بچوں کو بہت چاہتے ہیں۔ حضرت یوسف کے بڑے سوتیلے بھائی ان سے حسد کرنے لگے۔ ایک دن آپس میں کہنے لگے کہ ہمارے والد کو جتنی محبت حضرت یوسف اور بن یا میں سے ہم سے نہیں ہے حالانکہ ہم ایک جتھا، طاقت اور قوت ہیں۔ ہماری تعداد بھی زیادہ ہے ہم جو راحت و آرام والدین کو پہناچا سکتے ہیں ہمارے چھوٹے بھائی نہیں پہنچا سکتے۔ اس تصور نے ان کے حسد کی آگ کو اور بھی بھڑکا دیا اور یہ مشروہ کیا کہ اگر ہم کسی طرح یوسف کو والد کی نگاہوں سے دور کردیں، ان کو قتل کردیں یا کہیں ایسی جگہ پھینک آئیں جہاں سے وہ واپس نہ آسکیں تو اس طرح ہم اپنے والد کی محبت کو اپنے لئے خاص کرلیں گے۔ کسی نے کہا کہ یوسف کو قتل کردیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اس کو کسی ویرانے میں چھوڑ دیا جائے تاکہ وہاں سے واپس نہ آسکے۔ ایک بھائی نے مشورہ دیا کہ نہ تو حضرت یوسف کو قتل کیا جائے نہ کسی ویرانے میں چھوڑا جائے بلکہ کسی غیر آباد اندھے کنوئیں میں ڈالا جائے۔ اگر زندہ بچ گیا تو کوئی قافلہ اس کو اپنا غلام بنا کر دور دراز کے علاقے میں لے جائے گا۔ اسط رح کچھ دن کے بعد والد رو دھو کر صبر کرلیں گے۔ سب بھائیوں نے اس تجویز پر اتفاق کرلیا اور سب جمع ہو کر اپنے والد حضرت یعقوب کے پاس پہنچ گئے۔ اس کی تفصیل اس کے بعد کی آیات میں بیان کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حسد اتنی بڑی خرابی ہے جو انسان کو اس سے غافل کردیتی ہے کہ اس کے سامنے کون ہے۔ اس کی نگاہوں سے سگے سوتیلے کا فرق بھی مٹ جاتا ہے۔ اس لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! حسد سے بچو ! حسد انسان کے نیک اعمال کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس برائی سے محفوظ فرمائے آمین۔ جس طرح برادران یوسف نے حسد کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت یوسف کو راستے سے ہٹانے کی تدبیروں پر غور و فکر کیا بالکل اسی طرح کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے بغض و حسد اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کو راستے سے ہٹانے کے لئے باہمی مشورہ کیا اور طے کیا کہ کہ آپ کو (نعوذ باللہ) قتل کردیا جائے۔ حضرت عمر جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے انہوں نے یہ ذمہ لیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کو قتل کردیں گے اس ارادے سے چل پڑے لیکن اللہ نے حضرت عمر فاروق کو ایمان کی دولت سے مالا مال فرما دیا اور وہ جس ارادے سے چلے تھے کہ دنیا سے آپ کو مٹا دیا جائے ایمان سے سرفراز ہونے کے بعد حضور اکرم ﷺ کے سب سے بڑے حامی بن گئے۔ بہرحال کفار مکہ نے برادران یوسف کی طرح آپ کو راستے سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ ان آیات میں اللہ نے کفار مکہ کو یہ بتادیا کہ انسان ایک حد تک سوچ سکتا ہے لیکن جب اللہ کی خفیہ تدبیر ہوتی ہے تو انسان کے سارے ارادے خاک میں مل جاتے ہیں۔ جس بات اور عمل سے وہ دوسروں کو گرانے اور حسد کرنے کی کوشش کرتا ہے وہی اس کی سربلندی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔