بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 77
قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ﴿77﴾
- قَالُوْٓابولے
- اِنْاگر
- يَّسْرِقْاس نے چرایا
- فَقَدْ سَرَقَتو چوری کی تھی
- اَخٌ لَّهٗاس کا بھائی
- مِنْ قَبْلُاس سے قبل
- فَاَسَرَّهَاپس اسے چھپایا
- يُوْسُفُیوسف
- فِيْ نَفْسِهٖاپنے دل میں
- وَلَمْ يُبْدِهَااور وہ ظاہر نہ کیا
- لَهُمْان پر
- قَالَکہا
- اَنْتُمْتم
- شَرٌّبدتر
- مَّكَانًادرجہ میں
- وَاللّٰهُاور اللہ
- اَعْلَمُخوب جانتا ہے
- بِمَا تَصِفُوْنَجو تم بیان کرتے ہو
Translation · Baseerat-e-Quran
(یوسف کے بھائیوں نے) کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو (تعجب نہیں ہے) بلکہ اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ یوسف اس بات کو اپنے دل میں چھپا گئے اور اس کو ظاہر نہ ہونے دیا۔ اس نے (دل میں کہا) کہ تم تو بہت برے لوگ ہو۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 79
(یسرق چوری کرتا ہے ) ( اسر اس نے چھپا لیا ) ( فی نفسہ اپنے نفس میں، اپنے دل میں ) (لم یبدظاہر نہ کیا) ( انتم تم) ( شر مکان برا ٹھکانا، برے درجے کے لوگ) ( تصفون تم بیان کرتے ہو) ( شیخ کبیر بہت زیادہ بوڑھا) ( خذ تو پکڑے، تولے لے ) (احدنا ہم میں سے ایک) ( مکانہ، اس کی جگہ ) (نرک ہم دیکھتے ہیں تجھے) ( معاذ اللہ اللہ کی پناہ) ( ان ناخذ یہ کہ ہم لے لیں) ( عندہ، اس کے پاس) ( اذا اس وقت)
تشریح : آیت نمبر 77 تا 79
جب حضرت یوسف کے سگے بھائی بن یمین کے سامان میں سے وہ شاہی پیالہ نکل آیا جس کی تلاش تھی تب حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے دلی غبض اور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چوری کرچکا ہے۔ یہ ایک ایسا زخم تھا جس پر حضرت یوسف جو کہ بادشاہ وقت بھی تھے ان کو شدید غصے میں آ کر کسی بڑی سے بڑی سزا کا اعلان کردینا چاہئے تھا مگر جہان اللہ نے ان کو اقتدار عطا فرمایا تھا وہیں شان پیغمبری اور اس کا حلم و برداشت بھی عطا فرمایا تھا۔ شاید اللہ کی طرف سے اس بات کا اشارہ نہیں ملا تھا کہ حضرت یوسف اپنے آپ کو اپنے سوتیلے بھائیوں پر ظاہر کردیں اس لئے آپ نے تحمل اور برداشت سے کام لیتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار فرمائی اور دل میں صرف اتنا کہا کہ تم کتنے برے لوگ ہو۔ حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ تم الزام لگا رہے ہو وہ غلط ہے۔ دین ابراہیمی کے قانون کے مطابق اب بن یا مین حضرت یوسف کے غلام بنا لئے گئے تھے۔ جب برادران یوسف نے دیکھا کہ اب اپنے بھائی کو واپس لے جانے کی ہر کوشش بےکار ہوگی تب انہوں نے سب سے پہلے یہ تجویز رکھی کہ اے عزیز مصر ! تم ہم میں کسی ایک بھائی کو بن یمین کے بدلے میں رکھ لو۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں اور وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔ آپ تو بہت ہی نیکی کرنے والے ہیں حضرت یوسف نے کہا کہ اللہ کی پناہ میں کسی بےگناہ شخص کو پکڑ لوں۔ جس کے پاس سے سامان نکلا ہے۔ ہم اس کو پکڑ سکتے ہیں جس کے پاس سے سامان برآمد نہیں ہوا ہم اس کو کیسے پکڑ سکتے ہیں اگر ہم نے بن یا مین کے بدلے میں کسی بےگناہ کو پکڑ لیا تو یہ سخت ناانصافی اور ظلم ہوگا۔ ۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یا مین کو اپنے پاس روک رکھنے کی ایک تدبیر کی اور دین ابراہیمی کی قوانین کے مطابق فیصلہ کیا تھا ورنہ مصر کے قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس طرح کے کسی معاملہ کو ” توریہ “ کہتے ہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ایسا کام کیا جائے یا کوئی بات کہی جائے جو دیکھنے اور سننے والے کے ذہن میں ایک ظاہری اور قریبی مطلب سمجھا جائے جب کہ اس کہنے والے اور کرنے والے کی نیت کچھ اور ہو۔ اب مثلاً حضرت یوسف جانتے تھے کہ ان کے بھائی بن یا میں نے چور ہیں نہ ان سے کسی زیادتی کی امید کی جاسکتی ہے مگر حضرت یوسف نے ایک ایسی تدبیر کی جس سے بن یا مین رک جائیں اور دیکھنے والوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہ ہو سکے کہ کیا معاملہ ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ اگر نیک مقصد کیلئے تو ریہ کیا جائے تو وہ جائز ہے لیکن اگر ناجائز کام کے لئے ہو تو حرام ہے۔