Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 80

  1. فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ﴿80﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. اسْتَيْئَسُوْاوہ مایوس ہوگئے
    3. مِنْهُاس سے
    4. خَلَصُوْااکیلے ہو بیٹھے
    5. نَجِيًّامشورہ کیا
    6. قَالَکہا
    7. كَبِيْرُهُمْان کا بڑا
    8. اَلَمْ تَعْلَمُوْٓاکیا تم نہیں جانتے
    9. اَنَّکہ
    10. اَبَاكُمْتمہارا باپ
    11. قَدْ اَخَذَلیا ہے
    12. عَلَيْكُمْتم سے
    13. مَّوْثِقًاپختہ عہد
    14. مِّنَسے (کام)
    15. اللّٰهِاللہ
    16. وَاور
    17. مِنْ قَبْلُاس سے قبل
    18. مَا فَرَّطْتُّمْجو تقصیر کی تم نے
    19. فِيْبارہ میں
    20. يُوْسُفَیوسف
    21. فَلَنْپس ہرگز نہ
    22. اَبْرَحَٹلوں گا
    23. الْاَرْضَزمین
    24. حَتّٰىیہاں تک
    25. يَاْذَنَاجازت دے
    26. لِيْٓمجھے
    27. اَبِيْٓمیرا باپ
    28. اَوْیا
    29. يَحْكُمَ اللّٰهُ لِيْحکم دے (تدبیر نکالے اللہ) میرے لیے
    30. وَهُوَاور وہ
    31. خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَسب سے بہتر فیصلہ کرنے والا
Translation · Baseerat-e-Quran
پھر جب وہ اس سے مایوس ہوگئے تو آپس کے مشورے کے لئے الگ بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک بڑے (بھائی) نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تم نے اپنے والد سے اللہ کی پکی قسم کھا کر وعدہ کیا تھا جب کہ اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں زیادتی کرچکے ہو۔ میں تو اس سر زمین سے اس وقت تک نہ لوٹوں گا جب تک مجھے میرے والد جازت نہ دیں یا اللہ تعالیٰ کوئی تدبیر پیدا نہ کریں اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والے ہیں۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 82 استیئسوا وہ مایوس ہوگئے خلصوا وہ الگ جا بیٹھے نجی خفیہ بات کرنے والا کبیر بڑا الم تعلموا کیا تمہیں معلوم نہیں موثق پختہ، پکا فرطتم تم نے زیادتی کی ہے لنابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا، نہیں ٹلوں گا حتی یاذن جب تک اجازت دیتا ہے یحکم وہ فیصلہ کرتا ہے ارجعوا لوٹ جاؤ ابنک تیرا بیٹا اسئل پوچھ لے العیر قافلہ اقبلنا ہم سامنے آئے تشریح آیت نمبر 80 تا 82 جب برادران یوسف اپنی تدبیر اور کوشش میں ناکام ہوگئے اور انہوں نے اچھی طرح اندازہ کرلیا کہ بادشاہ بن یا مین کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑے گا اور اس نے بن یا مین کو اپنا باقاعدہ غلام بنا لیا ہے تب برادران یوسف اس تصور سے بےچین ہوگئے کہ ہم نے اپنے والد سے قسمیں کھائی تھیں پکے وعدے کئے تھے کہ جس طرح یوسف کے ساتھ ہوا تھا اب وہ معاملہ نہیں ہوگا۔ اور ہم اپنا سب کچھ قربان کر کے بھی اپنے بھائی بن یا مین کی حفاظت کریں گے۔ اب ہم اپنے والد کو کیا جواب دیں گے اور کیا منہ لے کر اپنے ملک واپس جائیں گے۔ کوئی نتیجہ نکالنے کے لئے سب سوتیلے بھائی آپس میں مشورہ کرنے کے لئے ایک طرف ہٹ گئے اور مشورہ شروع کردیا۔ کسی نے کہا کہ ہمیں اپنے وطن لوٹ جانا چاہئے جو ہوگا۔ دیکھا جائے گا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ وطن لوٹ کر والد صاحب کو ساری بات کھول کھول کر بتا دیا جائے اور ان کو بتا دیا جائے کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی مگر ہمارا بس نہ چل سکا۔ غرضیکہ ہر ایک نے اپنا اپنا مشورہ پیش کردیا۔ یہ سب بھائی اس بات سے سخت شرمندہ تھے کہ یوسف کے بعد بن یا مین کا واقعہ پیش آگیا ۔ اب ہمارا منہ نہیں ہے کہ ہم اپنے والد سے آنکھیں بھی ملا سکیں۔ سب سے بڑے بائی نے مشورہ دیا کہ تم سب واپس لوٹ جاؤ اور والد کو سچ سچ بتا دو کہ تمہارے بیٹے نے چوری کی ہے اور بادشاہ نے اس کو اپنے پاس غلام بنا کر روک لیا ہے اور یہ بھی کہہ دینا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں ہے کیونکہ بہت سے وہ لوگ جو ہمارے ساتھ تھے وہ اس بات کے گواہ ہیں ان سے پوچھ لیا جائے کہ ہم بالکل سچ سچ کہہ رہے ہیں۔ مشورہ کرنے کے بعد وہ اپنے ملک لوٹ گئے اور ساری صورتحال اپنے والد کو بتا دیا۔ حضرت یعقوب نے جب یہ سنا تو اپنا دل پکڑ کر رہ گئے اور آپ نے فرمایا کہ میں صبر جمیل ہی کرسکتا ہوں اور اللہ پر چھوڑتا ہوں جو کچھ انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے۔