Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 83

  1. قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿83﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. بَلْبلکہ
    3. سَوَّلَتْبنا لی ہے
    4. لَكُمْتمہارے لیے
    5. اَنْفُسُكُمْتمہارا دل
    6. اَمْرًاایک بات
    7. فَصَبْرٌپس صبر
    8. جَمِيْلٌاچھا
    9. عَسَىشاید
    10. اللّٰهُاللہ
    11. اَنْ يَّاْتِيَنِيْکہ میرے پاس لے آئے
    12. بِهِمْانہیں
    13. جَمِيْعًاسب کو
    14. اِنَّهٗبیشک وہ
    15. هُوَوہ
    16. الْعَلِيْمُجاننے والا
    17. الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Baseerat-e-Quran
اس نے (یعقوب نے) کہا۔ تم نے یہ بات اپنے دل سے گھڑ لی ہے۔ تو میں بہترین صبر کرتا ہوں اللہ سے امید ہے کہ وہ شاید ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ وہی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 87 سولت بنا لی ہے، گھڑ لی صبر جمیل ایسا صبر جس میں کوئی شکایت نہ ہو عسی شاید، امید ہے کہ ان یا تینی یہ کہ وہ لائے میرے پاس تولی اس نے منہ پھیرلیا یا سفی ہائے افسوس ابیضت سفید ہوگئی ( ہوگئیں) عینہ اس کی آنکھیں الحزن رنج و غم کظیم گھٹنے والا (غم برداشت کرنے والا) تذکر ذکر۔ یاد کرنا حرض کمزور ، بےجان اشکوا فریاد کرتا ہوں بثی میرا غم تحسوا تلاش کرو۔ کھوج لگاؤ لاتایئسوا تم مایوس نہ ہو روح اللہ اللہ کی رحمت تشریح : آیت نمبر 83 تا 87 گزشتہ آیات میں حضرت یعقوب کے گیارہ بیٹوں کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ایک بہانے سے حضرت یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یا مین کو روک لیا اور وہ تمام بھائی جو اپنے والد حضرت یعقوب کو اس بات کا یقین دلا کر بن یا مین کو اپنے ساتھ لائے تھے کہ ہم ان کی ہر طرح حفاظت کریں گے وہ سخت ناکام ہوگئے تب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ تمام صورت حال سے اپنے والد کو مطلع کردیتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے چوری کی ہے اور اب وہ بادشاہ مصر کا غلام بن چکا ہے۔ بڑے بھائی نے یہ کہہ کر مصر سے کنعان واپس جانے سے انکار کردیا کہ تم لوگ چلے جاؤ اور پوری صورتحال کی وضاحت کر دو میں یہیں رک جاتا ہوں۔ نو بھائی مصر سے کنعان پہنچے اور اپنے والد حضرت یعقوب کو یہ سارا واقعہ سنایا حضرت یعقوب نے فرمایا ایسا لگتا ہے کہ تم نے یہ بات اپنے دل سے گھڑ لی ہے ہر بحال میں صبر جمیل کرتا ہوں اور میں اللہ سے اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ وہ سب کو میرے پاس لے آئے۔ اب اس امحتان میں اور کیا حکمتیں اور مصلحتیں پوشید ہیں وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت یعقوب نے سب سے رخ پھیرلیا اور حضرت یوسف کو یاد کر کے رونا شروع کردیا۔ ابھی تک تو صرف حضرت یوسف کی جدائی کا غم تھا اب حضرت یوسف ، بن یا مین اور تیسرے بیٹے کا غم بھی بڑھ گیا اور حضرت یوسف کی جدائی کا غم اتنا بڑھ گیا کہ غم پیتے پیتے اور آنسو بہاتے بہاتے آنکھیں بھی سفید ہوگئیں۔ جب والد کی یہ حالت دیکھی تو برادران یوسف نے کہا کہ اے ابا جان اللہ کی قسم ایسا لگتا ہے کہ یوسف کی یاد میں آپ یا تو شدید بیمار ہوجائیں گے یا اس طرح اپنی جان کو گھلا ڈالیں گے۔ حضرت یعقوب کا پیغمبرا نہ جواب تھا کہ میں اگر رو رہا ہوں یا گریہ وزاری کر رہا ہوں تو وہ صرف اپنے اللہ کی بارگاہ میں کر رہا ہوں وہی میری سننے والا ہے۔ مجھے وہ بہت کچھ معلوم ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں رونے اور مانگنے سے کیا کچھ نہیں مل جاتا۔ اس حقیقت سے میں اچھی طرح واقف ہوں تم اپنا کام کرو۔ مجھے یقین ہے کہ یوسف زندہ ہیں تم ان کو اور ان کے بھائی کو تلاش کرو میں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں حقیقت یہ ہے کہ اس کی رحمت سے تو صرف کفار و مشرکین اور اس کے نافرمان ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔