Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 88

  1. فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ﴿88﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
    3. عَلَيْهِاس پر۔ سامنے
    4. قَالُوْاانہوں نے کہا
    5. يٰٓاَيُّهَااے
    6. الْعَزِيْزُعزیز
    7. مَسَّنَاہمیں پہنچی
    8. وَاَهْلَنَااور ہمارے گھر
    9. الضُّرُّسختی
    10. وَجِئْنَااور ہم آئے
    11. بِبِضَاعَةٍپونچی کے ساتھ (لے کر)
    12. مُّزْجٰىةٍنکمی (ناقص)
    13. فَاَوْفِپس پوری دیں
    14. لَنَاہمیں
    15. الْكَيْلَناپ (غلہ)
    16. وَتَصَدَّقْصدقہ کریں
    17. عَلَيْنَاہم پر (ہمیں)
    18. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    19. يَجْزِيجزا دیتا ہے
    20. الْمُتَصَدِّقِيْنَصدقہ کرنے والے
Translation · Baseerat-e-Quran
پھر جب (برادران یوسف) اس کے سامنے پہنچے تو کہا کہ اے عزیز (مصر) ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو سخت اذیت پہنچ چکی ہے اور ہم ایک معمولی سی رقم لے کر حاضر ہوئے ہیں تو آپ ہمیں غلہ دیدیجیے اور ہم پر کچھ صدقہ کردیجیے۔ بیشک اللہ صدقہ کرنے والوں کو بہتر اجر عطا فرماتا ہے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 93 مسنا ہمیں پہنچی، ہمیں چھولیا الضر سختی اور پریشانی مزجۃ بیکار، معمولی اوف پورا کر تصدق صدقہ کر دے، نیکی کر ھل علمتم کیا تمہیں معلوم ہے، کیا تمہیں یاد ہے مافعلتم تم نے کیا کیا من اللہ اللہ نے احسان کیا من یتق جو تقویٰ اختیار کرتا ہے لایضیع ضائع نہیں کرتا اثر اختیار کیا، منتخب کرلیا لاتثریب الزام نہیں ہے یات بصیراً آنکھوں کی روشنی آئے گی ۔ تشریح آیت نمبر 88 تا 93 جب برادران یوسف نے اپنے والد کی یہ حالت دیکھی اور ان کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یوسف کو تلاش کرو تب یہ نو بھائی تیسری مرتبہ کنعان سے مصر پہنچ گئے۔ بادشاہ مصر کی خدمت میں پہنچے اور نہایت عاجزی اور انکساری سے یہ کہا کہ اے عزیز مصر ! ہمیں اور ہمارے اہل خاندان کو موجودہ صورتحال سے شدید تکلیف پہنچ رہی ہے کیونکہ قحط سالی بھی ہے اور بھائی کی جدائی کا غم بھی والد انتہائی کمزور ہوچکے ہیں یہ معمولی ساہد یہ قبول کر لیجیے، ہمیں غلہ بھی دیجیے اور ہمارے ساتھ بہتر معاملہ فرمائیے۔ تفسیر قرطبی اور تفسیر مظہری میں حضرت ابن عباس سے یہ بھی ایک روایت ہے کہ حضرت یعقوب نے عزیز مصر کے نام ایک خط لکھ کردیا جس کا مضمون یہ ہے۔ ” اے عزیز مصر ! ہمارا پورا خاندان بلاؤں اور آزمائشوں میں معروف ہے۔ میرے دادا حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کو نمرود کی آگ سے آزمایا گیا۔ میرے والد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا شدید امتحان لیا گیا۔ پھر میرے بیٹے کے ذریعہ میری آزمائش کی گئی جو مجھے سب سے زیادہ عزیز تھا یہاں تک کہ اس کی جدائی میں میری آنکھوں کی روشنی جاتی رہی۔ اس کے بعد اس کا چھوٹا بھائی میرے دل کی تسلی کا سامان تھا جس کو آپ نے چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اولاد انبیاء کرام ہیں نہ ہم نے کبھی چوری کی اور نہ ہماری اولاد میں کوئی چور پیدا ہوا۔ والسلام “۔ جب حضرت یوسف کے سامنے اس خط کو پڑھا گیا تو ضبط اور برداشت کے بندھن ٹوٹ گئے۔ والد کا خط پڑھ کر کانپ اٹھے۔ اب وہ وقت آگیا تھا جہاں اللہ کے حکم سے آپ نے اپنے آپ کو ظاہر کردینا ہی مناسب سمجھا۔ حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تمہیں کچھ یاد ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا اس سوال سے برداران یوسف پر اللہ نے کھول دیا اور ان کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ کیا تم ہی یوسف ہو ؟ حضرت یوسف نے فرمایا کہ ہاں میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرے بھائی بن یا مین ہیں۔ اللہ نے ہم پر خصوصی رحم و کرم نازل کیا ہے اور وہ اللہ ہر اس شخص پر اپنا کرم نازل فرماتا ہے جو اس سے ڈرتا ہے اور حالات پر صبر کرتا ہے اللہ، و رحیم و کریم ہے جو کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔ سب بھائیوں نے کہا اللہ کی قسم اس نے آپ کو ہمارے اوپر فضیلت و بڑائی عطا کی ہے اور ہمیں اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ ہم خطا اور قصور وار تھے حضرت یوسف نے فرمایا کہ آج تمہارے اوپر کوئی ملامت اور الزام نہیں ہے اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف کرنے والا سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ یہ شان پیغمبری ہے کہ اپنے بھائیوں کو ان کے ظلم و ستم یاد نہیں دلاتے بکلہ ان کو معاف کردیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ دعا بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنی خطاؤں کو اللہ کی بار گاہ میں پیش کریں وہ ارحم الراحمین تمہاری ہر خطا کو معاف کر دے گا۔ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ بھی اس شان پیغمبری کا مظاہرہ فرماتے ہیں اور اپنے دشمنوں کو جو خون کے پیاسے تھے اور جنہوں نے اکیس سال تک مسلسل ایسے ظلم و ستم کئے تھے جن کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ آپ نے فرمایا، میں بھی وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی حضرت یوسف نے کہی تھی کہ ” جاؤ تم سب آزاد ہو آج کے دن تمہارے ظلم معاف ہے اور تم سے کوئی انتقام نہیں لیاجائے گا۔ “ حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کی ساری خطائیں معاف کردیں اور فرمایا کہ میری یہ قمیص لے جاؤ اور والد صاحب کی آنکھوں پر ڈال دو ان کی بینائی واپس آجائے گی اور تمام اہل خانہ یہیں مصر میں آجائیں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ وہی قمیص تھی کہ جب برادران یوسف نے حضرت یوسف کو کنعان کے کنوئیں میں اس طرح پھینکا تھا کہ ان کی قمیص اتار لی تھی اور اس پر جھوٹا خون لگا کر والد کے پاس لے گئے تھے۔ اس وقت اللہ کے حکم سے حضرت جبرائیل جنت سے ایک قمیص لے کر آئے اور حضرت یوسف کو پہنا دی تھی۔ حضرت یوسف نے یہی قمیص اپنے والد کو بھیج دی تھی کیونکہ یہ قمیص اللہ کی طرف سے آئی تھی۔ اس نے اندھے کنوئیں میں بھی روشنی کی تھی اور حضرت یوسف کو یقین تھا کہ اس قمیص کی برک سے اللہ ان کے والد کی آنکھوں میں روشنی عطا فرما دے گا۔