بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 99
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ﴿99﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
- عَلٰي يُوْسُفَیوسف پر (پاس)
- اٰوٰٓىاس نے ٹھکانہ دیا
- اِلَيْهِاپنے پاس
- اَبَوَيْهِاپنے ماں باپ
- وَقَالَاور کہا
- ادْخُلُوْاتم داخل ہو
- مِصْرَمصر
- اِنْاگر
- شَآءَ اللّٰهُاللہ نے چاہا
- اٰمِنِيْنَامن (دلجمعی) کے ساتھ
Translation · Baseerat-e-Quran
پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ مصر چلئے او اگر اللہ نے چاہا تو امن اور چین سے رہئے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 100
اوی اس نے ٹھکانا دیا، بٹھایا ادخلوا داخل ہوجاؤ امنین امن و سکون میں رہنے والے رفع بلند کیا، اونچی جگہ کیا العرش تخت خروا وہ گر پڑے سجد سجدہ کرنا، جک جانا یابت اے میرے ابا جان تاویل تعبیر رویائی میرا خواب، السجن جیل خانہ، قید البدو دیہات، گاؤں نزغ گھس گیا۔ ڈال دیا ، لطیف باریکی سے دیکھنے والا آسان کرنے والا یشآء وہ چاہتا ہے۔
تشریح آیت نمبر 99 تا 100
اصل میں انسان کا اخلاق، برتاؤ اور معاملہ اس وقت زیادہ قیمتی بن جاتا ہے جب اس دنیا کی ساری طاقتیں اور عظمتیں حاصل ہوں اور پھر بھ یاس میں عاجزی و انکساری ہو اور اپنے سے کمزوروں پر ظلم کرنے اور زیادتیوں کا بدلہ لینے کے بجائے عفو و درگزر کا معاملہ کرنے والا ہوں اور اپنے ہر کمال اور دنیاوی عزت و برلندی کو اپنی طرف اور اپنے کمال کی طرف موڑنے کے بجائے اس کو اللہ کا فضل و کرم قرار دیتا ہو۔ یہی بات حضرت یوسف فرما رہے ہیں، انکو مصر کی بادشاہت اور پوری قوتیں حاصل ہیں لیکن اپنے بھائیوں سے جنہوں نے ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی ان سے انتقام اور بدلہ لینے کے بجائے نہ صرف ان کو معاف کر رہے ہیں ۔ بلکہ حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عمل کو بھی شیطانی عمل قرار دے رہے ہیں جو ان کے ھبائیوں سے سر زد ہوا تا۔ حضرت یوسف نے اپنا پیرھن اپنے والد محترم کی خدمت میں ارسال کر کے درخواست کی کہ اس کو اپنی آنکھوں پر ڈالتے تو آپ کی بصارت واپس آجائے گی۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے اپنے والد محترم اور اہل خاندان کو کنعان (فلسطین) سے مصر لانے کے لئے متعدد اونٹنیاں بھیجیں تاکہ سب افراد سہولت سے مصر پہنچ جائیں۔ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت یوسف کے والدین اور اہل خاندان جن کی تعداد ستر کے لگ بھگ تھی مصر پہنچے تو حضرت یوسف نے پر جوش خیر مقدم کیا، والدین کو اپنے پاس پورے احترام کے ساتھ اپنے تخت پر ٹھا دیا۔ اس وقت سارے بھائی ان کے سامنے جھک گئے۔ حضرت یوسف نے فرمایا کہ میں نے جو خواب دیکھا تھا یہ اس کی تعبیر ہے جس کو پروردگار نے سچ کر دکھایا۔ اب اس موقع پر حضرت یوسف تین باتیں فرما رہے ہیں جو ان کے عظیم اخلاق کا مظہر ہیں ۔ (1) پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کا کتنا بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھے جیل خانے سے نکال کر عزت و سربلندی کی جگہ بٹھا دیا۔ (2) دوسرے یہ کہ ایک گاؤں اور چھوٹے سے شہر سے مصر جیسے بڑے شہر میں پہنچا دیا۔ (3) تیسرے یہ کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈالوا دیا تھا ورنہ ایسا نہ ہوتا۔ یعنی اس میں میرے بھائیوں کا قصور نہیں ہے بلکہ شیطان نے ہمارے درمیان اختلافات پیدا کردیئے تھے۔ سبحان اللہ کیا شان ہے اللہ کے بندے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیتے اور اپنے عظیم اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ کو بھی جب فتح مکہ کے موقع پر پوری قوت و طاقت حاصل ہوگئی تو آپ نے سب کو معاف کردیا تھا اور کسی ایسی بات کا اعلان نہیں کیا جس سے مکہ کے لوگوں کی گردنیں جھک جاتیں۔ دین اسلام، شان پیغمبری اور ان کے اخلاق اور کفار و مشرکین کی زندگی کو سامنے رکھیں اور تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ عجیب حقیقت سامنے آئے گی کہ جب ساری طاقتیں، قوتیں اقتدار اور فوج اہل ایمان کے ہاتھ میں آتی ہے تو وہ اپنے سے کمزوروں پر بہت مہربان ہوجاتے ہیں اس کے برخلاف کفار و مشرکین کے ہاتھ میں جب بھی اقتدار اور قوت ہوتی ہے تو وہ مظلوموں کے خلاف اس کو دریغ استعمال کرتے ہیں اور مظلوموں کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں کسر نہیں چھوڑتے۔ ہم تو تاریخ کے حوالے سے یہ بات دیکھتے ہیں کہ انبیاء کرام کی شان تو بہت ارفع و اعلیٰ ہے اور ان کے اخلاف کی بلندی کا تو اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عام مسلمانوں کے ہاتھ میں بھی جب طاقت و قوت آئی تو انہوں نے کبھی اپنی اقلیتوں اور کمزور مظلوموں پر ظلم و ستم نہیں کیا بلکہ ان پر مہربانیوں کی انتہا کردی۔ اس موقع پر ایک بات کی اور وضاحت ضروری ہے کہ کیا انسان انسان کو سجدہ کرسکتا ہے جب کہ سجدہ اللہ کے لئے مخصوص ہے۔ تو عرض ہے کہ جو چیز حرام ہے وہ ہر شریعت میں حرام رہی ہے اس کی تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سجدہ سے مراد آداب شاہی کے ساتھ جھکنے کے لئے جاسکتے ہیں یہ وہ سجدہ نہیں جیسا سجدہ ہم اللہ کو کرتے ہیں۔