بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 70
لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ﴿70﴾
- لَقَدْبیشک
- اَخَذْنَاہم نے لیا
- مِيْثَاقَپختہ عہد
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
- وَاَرْسَلْنَآاور ہم نے بھیجے
- اِلَيْهِمْان کی طرف
- رُسُلًارسول (جمع)
- كُلَّمَاجب بھی
- جَآءَهُمْآیا ان کے پاس
- رَسُوْلٌکوئی رسول
- بِمَااس کے ساتھ جو
- لَا تَهْوٰٓىنہ چاہتے تھے
- اَنْفُسُهُمْان کے دل
- فَرِيْقًاایک فریق
- كَذَّبُوْاجھٹلایا
- وَفَرِيْقًااور ایک فریق
- يَّقْتُلُوْنَقتل کر ڈالتے
Translation · Baseerat-e-Quran
ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور بہت سے رسول ان کی طرف بھیجے۔ جب ان کے پاس رسول آئے اور ان کی باتیں ان کی خواہش نفس کے خلاف پڑیں تو کچھ نبیوں کو انہوں نے جھٹلایا اور کچھ نبیوں کو انہوں نے قتل ہی کر ڈالا۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
آیت نمبر 70 تا 71
لغات القرآن : لاتھدی (پسند نہ تھا۔ وہ نہ چاہتے تھے) ۔ حسبوا (انہوں نے گمان کیا۔ وہ سمجھے) ۔ عموا (وہ اندھے ہوگئے) ۔ صموا (بہرے ہوگئے) ۔
تشریح : چند الفاظ میں بنی اسرائیل کی تاریخ بیان کردی گئی ہے۔ جتنے رسول آئے اور ان کی طرف بھیجے گئے، ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان پیغمبروں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچتی ہے۔ کسی دوسری قوم میں اتنے پیغمبر پیدا نہیں ہوئے۔ کسی دوسری قوم کی اصلاح کو اتنے پیغمبر نہیں بھیجے گئے۔ مگر کسی دوسری قوم نے اتنی ضد، کفر اور طغیان کو راہ نہیں دی جتنی وہ اب تک دے رہے ہیں۔ قرآن پاک نے ان کی شرارتوں اور نافرمانیوں کی چند تفصیلات سورة بقرہ سورة بنی اسرائیل وغیرہ میں دی ہیں۔
” اندھے اور بہرے “ کے الفاظ سورة بقرہ رکوع ایک میں بھی ایک جگہ آئے ہیں۔ یعنی سب کچھ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھا سب کچھ سننے کے باوجود نہ سنا۔ کوئی عبرت نہیں پکڑی۔ کوئی نصیحت قبول نہیں کی۔ پیغمبروں کو ہر طرح ایذائیں پہنچائیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔
بنی اسرائیل میں چند سعید روحین بھی ہیں جنہوں نے توبہ کی اور ان کی توبہ اللہ نے قبول کرلی۔ مگر ان کی تعداد بہت کم
ہے۔ اب بھی اگر کوئی توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ مغفرت کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ ان کی ذلیل حرکات اللہ سے پوشیدہ نہیں۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور ریکارڈ رکھ رہا ہے۔