تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 58. Al-Mujaadila · Ayah 9
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿9﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓاایمان والو
- اِذَاجب
- تَنَاجَيْتُمْتم باہم سرگوشی کرو
- فَلَا تَتَنَاجَوْاتو سرگوشی نہ کرو
- بِالْاِثْمِگناہ کی
- وَالْعُدْوَانِاور سرکشی
- وَمَعْصِيَتِاور نافرمانی
- الرَّسُوْلِرسول
- وَتَنَاجَوْااور سرگوشی کرو
- بِالْبِرِّنیکی میں
- وَالتَّقْوٰى ۭاور پرہیزگاری
- وَاتَّقُوا اللّٰهَاور اللہ سے ڈرو
- الَّذِيْٓوہ جو
- اِلَيْهِاس کی طرف، پاس
- تُحْشَرُوْنَتم جمع کئے جاؤگے
Translation · Dure-Mansoor
اے ایمان والوجب تم آپس میں سرگوشی کرو تو تم سرگوشی مت کرو گناہ کی اور ظلم کی اور رسول اللہ کی نافرمانی کی بلکہ تم سرگوشی کرو نیکی کی اور تقوی کی اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اس اللہ سے جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے
Tafseer · Dure-Mansoor
11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب کوئی فوجی دستہ بھیجتے تو اسے جنگ کرنے پر آمادہ کرتے تو منافقین آپس میں ملتے اور مسلمانوں کو دیکھ کر اپنے سروں کو ہلاتے اور کہتے تھے کہ یہ قوم یعنی صحابہ مارے جائیں اور جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپس میں سرگوشیاں کرتے اور غم کو ظاہر کرتے تو یہ بات نبی ﷺ اور مسلمانوں کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا تناجیتم فلا تتناجوا بالثم والعدوان الایۃ اے ایمان وال ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی سرگوشیاں نہ کرو۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منافق آپس میں سرگوشیاں کرتے تھے۔ اور اس سے وہ مسلمانوں کو غصہ دلاتے تھے اور ان پر تکبر اور بڑائی کا اظہار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت انما النجوی من الشیطان الایۃ۔ بلاشبہ سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے۔
3۔ بخاری ومسلم وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کرو تیسرے کو چھوڑ کر۔ کیونکہ یہ بات اس کو غم میں ڈالے گی۔
رسول اللہ ﷺ کے پہریدار
4۔ ابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کے وقت باری باری ہوا کرتے تھے۔ کہ آپ کو کوئی واقعہ پیش آجائے یا آپ کسی طرح کا حکم فرمائیں پس کسی رات باریوں والے اور پہرے دار زیادہ ہوجاتے یہاں تک کہ جب ہم آپس میں باتیں کرنے لگتے تو ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ رات کے وقت تشریف لاتے تو آپ فرماتے یہ کیا سرگوشیاں ہیں کیا تم سرگوشیوں سے منع نہیں کیے گئے۔