تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 16
وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ﴿16﴾
- وَّاَنْاور یہ کہ
- لَّوِاگر
- اسْتَقَامُوْاوہ قائم رہتے
- عَلَي الطَّرِيْقَةِ(سیدھے) راستہ پر
- لَاَسْقَيْنٰهُمْتو البتہ ہم انہیں پلاتے
- مَّآءًپانی
- غَدَقًاوافر
Translation · Dure-Mansoor
اور اگر وہ راستہ پر قائم ہوجاتے تو ہم انہیں فراغت پانے سے سیراب کرتے
Tafseer · Dure-Mansoor
11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وان لو استقاموا علی الطریقۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر وہ ان کو قائم کریں جو ان کو حکم دیا گیا آیت لاسقینہم ماء غدقا تو ہم ان کو چشموں سے پلاتے۔
12۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے آیت وان لواستقاموا علی الطریقۃ لاسقینہم الا یۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اللہ کی اطاعت پر ثابت قدم رہیں جس چیز کا ان کو حکم دیا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان کے مالوں میں کثرت پیدا فرمادیں گے۔ یہاں تک کہ وہ ان کی وجہ سے غنی ہوجائیں گے پھر حسن (رح) فرماتے تھے۔ اللہ کی قسم کہ محمد ﷺ کے اصحاب اس طرح تھے کہ وہ اللہ کا حکم سنتے تھے اور اس کی اطاعت کرتے تھے تو ان پر کسری اور قیصر کے خزانے کھول دئیے گئے۔ اور اس کے ذریعہ وہ آزمائے گئے۔ پس وہ اپنے امام کے ہمراہ حملہ آور ہوئے اور اس کو یعنی دشمن کو قتل کردیا۔
13۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان لواستقاموا علی الطریقۃ سے مراد ہے طریقہ اسلام آیت لاسقینہم ماء غدقا تو ہم ان کو کثیر مال عطا فرماتے۔
14۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ماء غدقا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اس سے مراد ہے وافر جاری پانی پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا
تدنی کر ادیس ملتفا حدائقہا کالنبت جادت بہ انہا رہا غدقا
ترجمہ : گھوڑے کے دستے قریب ہو رہے ہیں اس حال میں کہ ان کے باغات سبزیوں کی طرح گھنے اور جڑے ہوئے ہیں ان کی نہریں وافر پانی کے سبب بہت عمدہ ہیں۔
15۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سری (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے آیت وان لواستقامو علی الطریقۃ لاسقینہم ماء غدقا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مر اد ہے کہ ہم ان کو کثیر مال عطا فرمائیں گے۔
16۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاسقینہم ماء غدقا سے مراد ہے کثیر اور الماء سے مراد ہے مال۔
17۔ عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ ماء غدقا سے مراد ہے آسودہ زندگی۔