تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 27
اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ﴿27﴾
- اِلَّاسوائے
- مَنِجس کو
- ارْتَضٰىوہ پسند کرتا ہے
- مِنْ رَّسُوْلٍرسولوں میں سے
- فَاِنَّهٗتو بیشک وہ
- يَسْلُكُچلاتا ہے
- مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِاسکے آگے سے
- وَمِنْ خَلْفِهٖاور اسکے پیچھے سے
- رَصَدًامحافظ (فرشتے)
Translation · Dure-Mansoor
ہاں ! مگر جو کوئی اس کا برگزیدہ رسول ہو سو وہ اس کے آگے اور پیچھے محافط بھیج دیتا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
16۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفی رصدا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسول کو پھر اس کے آگے اور پیچھے محافظ مقرر کردیتا ہے۔ سے مراد ہے باری باری شب وروز آنے والے فرشتے جو شیطان سے ان کی حفاظت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے بیان کرے جس پیغام کے ساتھ اسے ان کی طرف بھیجا گیا۔ اسی کے بارے میں شرک کرنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے یعنی رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئیے۔
17۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول میں رسول سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔
18۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ پر قرآن میں سے کوئی آیت نازل نہیں فرمائی مگر اس کے ساتھ چار فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو نبی مکرم ﷺ تک پہنچادیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا۔ یعنی اس کے آگے پیچھے چار فرشتے ہوتے ہیں تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئیے ہیں۔
19۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول سے مراد ہے کہ نبی ﷺ اس سے پہلے کہ شیطان کو اپنی خواہشات میں ڈالے جانے سے پہلے وہ فرشتے آپ ﷺ کے قریب رہا کرتے تھے پھر جب شیطان کو اس کی اپنی خواہشات میں ڈال دیا گیا۔ تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ آپ سے تھوڑا سا دور ہٹ جائیں تاکہ آپ جان لیں کہ یہ وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ چار محافظ فرشتے
20۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے العظمہ میں سعید بن جبیر (رح) سے آیت فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا کے بارے میں روایت کیا کہ چار محافظ فرشتے جبریل کے ساتھ ہوتے ہیں تاکہ محمد ﷺ جان لیں آیت ان قد ابلغوا رسٰلت ربہم کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے ہیں۔ فرمایا جبریل (علیہ السلام) نہیں آتے مگر ان کے ساتھ چار حفاظت کرنے والے فرشتے ہوتے ہیں۔
21۔ ابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ یہ فرشتے ہیں جو آپ کی جنات سے حفاظت کرتے ہیں
22۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک بن مزاحم (رح) سے آیت الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا کے بارے میں روایت کیا کہ جب نبی ﷺ کی طرف کوئی فرشتہ وحی کے ساتھ بھیجا جاتا تو اس کے ساتھ فرشتوں کی ایک جماعت بھیجی جاتی جو اس کے آگے سے اور وہ فرشتے اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے تھے تاکہ شیطان کسی فرشتے کی صورت میں آکر معاملہ مشتبہ نہ کردے۔
23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت الا من ارتضی من رسول کے بارے میں روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو پسند فرماتے ہیں تو غیب میں جو چاہتے ہیں اس پر ظاہر فرمادیتے ہیں آیت فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا پھر آگے پیچھے فرشتوں میں سے محافظ مقرر کردیتے ہیں یعنی فرشتوں میں سے آیت لیعلم ان قد ابلغوا رسلت ربہم تاکہ وہ بظاہر جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئیے ہیں۔ یعنی تاکہ اللہ کی نبی ﷺ جان لیں کہ رسولوں نے اللہ کی طرف سے پیغامات پہنچادئیے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی اور ان کا دفاع کیا۔
24۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیعلم سے مراد ہے تاکہ وہ اس طرح رسولوں کے کذب کو جان لے آیت ان قد ابلغوا رسٰلت ربہم (کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچادیا ہے ) ۔