تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 2. Al-Baqara · Ayah 170

  1. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ﴿170﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. قِيْلَکہا جاتا ہے
    3. لَهُمُانہیں
    4. اتَّبِعُوْاپیروی کرو
    5. مَآ اَنْزَلَجو اتارا
    6. اللّٰهُاللہ
    7. قَالُوْاوہ کہتے ہیں
    8. بَلْ نَتَّبِعُبلکہ ہم پیروی کریں گے
    9. مَآ اَلْفَيْنَاجو ہم نے پایا
    10. عَلَيْهِاس پر
    11. اٰبَآءَنَااپنے باپ دادا
    12. اَوَلَوْبھلا اگرچہ
    13. كَانَہوں
    14. اٰبَآؤُھُمْان کے باپ دادا
    15. لَا يَعْقِلُوْنَنہ سمجھتے ہوں
    16. شَيْئًاکچھ
    17. وَّلَا يَهْتَدُوْنَاور نہ ہدایت یافتہ ہوں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے)
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
گمراہی اور جہالت کیا ہے ؟ یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت و جہالت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ وہ تو فہم و ہدایت سے غافل تھے۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے۔ پھر ان کی مثال دی کہ جس طرح چرنے چگنے والے جانور اپنے چرواہے کی کوئی بات صحیح طور سے سمجھ نہیں سکتے صرف آواز کانوں میں پڑتی ہے اور کلام کی بھلائی برائی سے بیخبر رہتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جن جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور ان سے پانی حاجتیں اور مرادیں مانگتے ہیں وہ نہ سنتے ہیں نہ جانتے ہیں نہ ان میں زندگی ہے نہ انہیں کچھ احساس ہے۔ کافروں کی یہ جماعت حق کی باتوں کے سننے سے بہری ہے حق کہنے سے بےزبان ہے حق کے راہ چلنے سے اندھی ہے عقل وفہم سے دور ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (صُمٌّ وَّبُكْمٌ فِي الظُّلُمٰتِ) 6۔ الانعام :39) یعنی ہماری باتوں کو جھٹلانے والے بہرے، گونگے اور اندھیرے میں ہیں جسے اللہ چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھی راہ لگا دے۔