تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 61
قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ﴿61﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- سَنُرَاوِدُہم خواہش کریں گے
- عَنْهُاس کے متعلق
- اَبَاهُاس کا باپ
- وَاِنَّااور ہم
- لَفٰعِلُوْنَضرور کرنیوالے ہیں (کرنا ہے)
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں اس کے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم یہ ضرور کریں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ۔
بھائیوں کا جواب : " مراودت " کے معنی بہلانے پھسلانے کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں ہم اس کے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور جہاں تک اپنی کوشش کا تعلق ہے اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ ان کے اس جملہ کے اندر یہ بات مضمر ہے کہ اگر ہم اس کا لانے میں کامیاب نہ ہوسکے تو اس میں ہمارا قصور نہ ہوگا، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے باپ نے اس کو اجازت نہ دی اور یہ چیز ایسی ہے جس میں ہماری مجبوری واضح ہے۔ حضرت یوسف کے ساتھ جو کچھ وہ کرچکے تھے اس کے سبب سے ان کے دل میں ایک چور تھا جو ان کے اس فقرے میں نمایاں ہے۔