تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 90
وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ﴿90﴾
- وَاور
- لَقَدْ قَالَتحقیق کہا
- لَهُمْان سے
- هٰرُوْنُہارون
- مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
- يٰقَوْمِاے میری قوم
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- فُتِنْتُمْتم آزمائے گئے
- بِهٖاس سے
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكُمُتمہارا رب
- الرَّحْمٰنُرحمن ہے
- فَاتَّبِعُوْنِيْسو میری پیروی کرو
- وَاَطِيْعُوْٓااور اطاعت کرو (مانو)
- اَمْرِيْمیری بات
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہارون ؑ نے ان سے پہلے ہی کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، تم اس کے ذریعہ سے فتنہ میں ڈال دیئے گئے ہو، تمہارا رب خدائے رحمان ہے تو میری پیروی کرو اور میری بات مانو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت ہارون کی فتنہ سے بریت
یہ حضرت ہارون کی اس فتنہ سے بریت کا اظہار ہے۔ تورات میں تو جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا، اس سارے نتنہ کی ذمہ داری حضرت ہارون پر ڈلا دی گی ہے لیکن قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں ان کو اس سے بالکل بری قرار دیا ہے۔ من قبل کے لفظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے جوں ہی اس فتنہ کے ابھرنے کے آثار دیکھے اسی وقت سے لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کردیا کہ لوگو، یہ مفسدین تم کو فتنہ میں مبتلا کر رہے ہیں تمہارا معبود خدائے رحمان ہے نہ کہ تمہایر اپنے ہی ہاتھوں کا ڈھالا ہوا کوئی بچھڑا تو میری بات مانو اور ان مفسدین کے پچھے نہ لگو۔