Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 11

  1. وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ﴿11﴾

    1. وَكَمْ قَصَمْنَااور ہم نے کتنی ہلاک کردیں
    2. مِنْسے
    3. قَرْيَةٍبستیاں
    4. كَانَتْوہ تھیں
    5. ظَالِمَةًظالم
    6. وَّاَنْشَاْنَااور پیدا کیے ہم نے
    7. بَعْدَهَاان کے بعد
    8. قَوْمًاگروہ۔ لوگ
    9. اٰخَرِيْنَدوسرے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے کتنی ہی بستیاں ہلاک کردیں جن کے لوگ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے اور ان کے بعد دوسرے لوگ اٹھ کھڑے کئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تاریخ کا حوالہ یہ پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح تم اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہو کہ خدا کی یاد دہانی کا مذاق اڑا رہے ہو اسی طرح تم سے پہلے بھی بہت سی قومیں یہی حرکت کرچکی ہیں جس کی پاداش میں ہم نے ان کے پرخچے اڑا دیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اسی جرم کے مرتکب ہو رہے ہو تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ خدا وہی معاملہ تمہارے ساتھ نہ کرے جو اس نے ان کے ساتھ کیا۔ کانت ظالمۃ یہاں ظلموآ انفسھم کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والی بنیں۔ خدا نے اپنے رسول بھیج کر ان کو خطرے سے آگاہ کردیا۔ لیکن انہوں نے اپنی رعونت کے سبب سے خود اس خطرے کے بند کو توڑا۔ قوموں کے ایک مغالطہ کی تردید مانشانا بعد ماقوماً اخرین یعنی خدا کے لئے ایک قوم کو مٹا دینا اور اس کی جگہ دوسری قوم کو برپا کردینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ کوئی بھی اپنے وجود کو اس دنیا کے لئے ناگزیر نہ سمجھنے کہ اس کے اجڑنے سے خدا کی دنیا اجڑ جائے گی۔ جب کوئی قوم بغاوت کی روش اختیار کرے گی خدا اس کو مٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم کو لائے گا اور دیکھے گا کہ رہ کیا روش اختیار کرتی ہے۔ اگر وہ بھی وہی روش اختیار کرے گی تو بالآخر اس کا بھی وہی حشر ہوگا … افراد ہوں یا اقوام جب ان پر خدا سے بےپروائی غالب ہوتی ہے، تو وہ اپنے وجود کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے لگ جاتے ہیں یہاں اسی مغالطہ کو دور فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو بہت بڑی چیز نہ سمجھو، خدا جب چاہے گا، یہاں جھاڑو پھروا دے گا اور تمہاری جگہ دوسروں کو لا بسائے گا۔